صحرائے تھر میں جانوروں کی ”لکھ“ کے نشان سے پہچان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا گاؤں ریت کے ایک بلند ٹیلے پر واقع ہے۔ جہاں سے صحرائے اچھڑو تھر شروع ہوتا ہے۔ کوئی پچاس ساٹھ برس ہوئے ہوں گے ہمارا خاندان کھیتی باڑی کی غرض سے تھر میں موجود اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر یہاں آن بسا۔ اور آج بھی ہمارے کئی قریبی رشتے دار ”تڑ آت“ نامی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔

اچھڑو تھر میں آباد لوگوں کے گزر و معاش کا واحد ذریعہ مال مویشی ہے۔ وہ مختلف ڈھور ڈھنگر پالتے ہیں مثلن اونٹ، گائے، بھیڑ بکریاں وغیرہ جنہیں بوقت ضرورت بیچ کر گھر کا چولہا جلائے رکھتے ہیں۔ گدھے اور اونٹ بار برداری کے کام آتے ہیں۔ ان جانوروں پر یہ لوگ سوکھی لکڑیاں لاد کر قریبی شہروں میں بیچنے جاتے ہیں۔

میں بچپن سے دیکھتا آیا ہوں کہ ان لوگوں کے ہر جانور کی پیٹھ، ران، گال یا کان پر ایک مخصوص داغ یا کان پر کٹ کا نشان موجود ہوتا ہے۔ اس بار جب میں اپنے آبائی گاؤں آیا ہوں تو سوچا کیوں نہ یہ جانا جائے کہ تھر کے لوگ کس مقصد کے تحت اپنے مویشیوں پر یہ مختلف اقسام کے نشان لگاتے ہیں؟

میرے ماموں مومن راجڑ کی بھیڑ بکریوں کا باڑا ان کے گھر سے قریبن ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں کے سامنے والے بڑے ٹیلے کی ڈھلان پر موجود تھا۔ جہاں تک پنہچتے میری سانس پھولنے لگی تھی۔ یہ لوگ اپنی مقامی زبان میں اس جگہ کو ”ڈیرہ“ کہہ رہے تھے۔ جہاں پینے کے پانی اور چائے وغیرہ کا سامان موجود تھا۔ ہم نے بھیڑ کے دودھ کی چائے نوش کی۔

سب سے پہلے ماموں مومن بتانے لگے کہ یہ جو ان کی ایک ہزار کے قریب بھیڑ بکریاں ہیں ان میں سے ہر ایک کو انہوں نے الگ نام دے رکھا ہے۔ اور وہ نام پکارے جانے پر یہ جانور متوجہ بھی ہوتے ہیں۔ اور پھر وہ ایک بکری کو نام لے کر بلانے لگے ”روہی۔ روہی۔ ۔ ۔“ تو دور سے وہ بکری ہمارے ہاں آنے لگی۔

اسی طرح کے وہ کچھ اور نام بتانے لگے۔ میں نے جب ان سے بھیڑ بکریوں کے کان پر مختلف نشانات کے حوالے سے معلوم کیا تو کہنے لگے۔

”انہیں ہم“ لکھ ”کہتے ہیں۔ اور داغ بھی کہا جاتا ہے“

ان کے مطابق صحرائے اچھڑو تھر میں ڈھور ڈھنگر چرانے کے لیے کوئی چرواہا ساتھ نہیں جاتا۔ یہ لوگ علی الصبح گائے بکریوں سے دودھ نکالنے کے بعد انہیں باڑے سے نکال کر کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور شام گئے خود بخود جانور اپنے ڈیرے پر لوٹ آتے ہیں۔ اگر کوئی گائے یا بھیڑ بکری راستہ بھٹک کر گم ہو جائے تو یہ جو ”لکھ“ کا نشان ہے انہیں ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ویسے تو تھر میں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں، اونٹ اور گائے ہوتی ہیں مگر ان کے جسم پر موجود لکھ کے نشان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کون سی گائے بکری اور بھیڑ کس جات برادری کی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ہر کمیونٹی کے جانور کی پہچان کے لیے ایک الگ نشان یا لکھ ہوتا ہے۔ جس سے تھر کے ہر دور دراز کے گاؤں کے سب لوگ واقف ہوتے ہیں۔

ماموں مومن اس حوالے سے ”وڑول“ کا مخصوص لفظ ستعمال کرتے ہوئے بتانے لگے ”اگر میری کوئی بکری یا گائے گم ہوجاتی ہے تو میں تھر کے مختلف تڑوں پر“ وڑول ”دوں گا کہ اس رنگ و نسل کی بکری یا گائے ان کے ریوڑ سے گم ہے“ اور سامنے والا ایک دم سے لکھ کا پوچھے گا۔ کہ وہ جانور، بھیڑ بکری، گائے کس لکھ سے ہے؟

”آپ کا لکھ کون سا ہے؟“ میرے اس سوال پر ماموں مومن نے بتایا کہ ان کی بھیڑ بکریوں کا لکھ ”بٹو ککر“ ہے یعنی ”دو بادل ایک ساتھ“

بھیڑ بکری کے کان میں چھری وغیرہ سے دو جگہ ساتھ چمڑی کا ٹکرا کاٹ دینے کو بٹو ککر کہا جاتا ہے۔ اور اگر کسی جانور کے کان میں اسی طرح کا ایک کھانچہ بناکر کان کی نوک میں کٹ لگایا جائے تو اسے ”اپرنی کھمبی“ بولتے ہیں۔ اور اگر کسی اونٹ کی گال پر گول صفر کا نشان ڈال دیا جائے تو یہ لکھ ”کنر“ یا ”کنری“ کہلاتا ہے۔ اور اگر اونٹ کے دونوں گال پر یہ نشان ڈال دیا جائے تو ”دونوں گال پر کنر“ کہلائیگا۔ اور اگر ایک ہی گال پر ساتھ دو گول بنا دیے جائیں تو جڑواں یا ڈبل کنر کہینگے۔ اور یہ چار مختلف قبیلوں کے لکھ جانے جائیں گے۔

چھوٹے جانوروں کو یہ لکھ یا داغ کان پر اور بڑے جانور کی گردن، گال یا ران کے اوپر ڈالتے ہیں۔ تاکہ یہ نشان دور سے واضح طور پر دکھائی دے۔

اور ہر برداری کے پاس اپنے لکھ کا نشان لوہے سے بنا ہوتا ہے جو آگ میں گرم کرنے کے بعد جانور کے جسم پر لگایا جاتا ہے اور گرم لوہے سے یہ داغ لگائے جانے کے بعد اس جگہ پر بال نہیں اگ سکتے اور یہ نشان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

صحرائے اچھڑو تھر اور تھرپارکر میں جانوروں کے معروف لکھ کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں۔

1۔ منجی داغ۔ یہ راجڑ برادری کا لکھ ہے جو چارپائی کی طرح کا چورس نشان ہوتا ہے۔ جو راجڑ برادری کی سب کاسٹ گالا راجڑ کی پہچان کو ظاہر کرتا ہے۔

2۔ منجی تارو۔ اس داغ سے مراد چارپائی اور تارے کا نشان ہے۔ ایک چورس کے اوپر ستارا بنا ہوا ہوتا ہے اور یہ لکھ راجڑ برداری کی ایک اور سب کاسٹ کی پہچان ہے۔

3۔ گڈھ کھرو یعنی گدھے کا پیر۔ یہ راجڑ برادری کے ملاں ملوک کے خاندان کا لکھ ہے۔

4۔ قئنچی کڑو کے نام سے لکھ نو کے عدد کی شکل کا ہوتا ہے اور یہ بھی راجڑ برادری کی سب کاسٹ جادم جا راجڑ کا نشان ہے۔

5۔ لیٹ ایک کے عدد یا الف کی شکل سے ہوتا ہے اور یہ راجڑ برادری کے کوپانی خاندان کی پہچان مانا جاتا ہے۔

6۔ وچھوں داغ یعنی بچھو کی شکل کا یہ داغ کھوسہ کمیونٹی کا نشان ہے۔
7۔ چنڈ تارو یعنی چاند ستارہ داغ پلی برادری کا لکھ ہے۔
9۔ جنڈ یعنی آٹا پیسنے کی چکی کا لکھ ابڑہ کمیونٹی کی پہچان ہے۔
10۔ کونجی داغ یعنی چابی کا نشان سماں برادری کا لکھ ہے۔
11۔ کانگ پیرو یعنی کوے کا پیر۔ یہ نشان منگریو کمیونٹی کا لکھ ہے۔
12۔ سنگھر داغ یعنی زنجیر کا نشان۔ یہ صوفی خاندان کی پہچان ظاہر کرتا ہے۔

اس طرح کے سینکڑوں اور نشان ہوتے ہیں جن سے مختلف خاندان و برادری کے نام اور پہچان ظاہر ہوتی ہے۔ ان سے بالخصوص ہمیرانو داغ مشہور ہے جو ٹھاکروں کا لکھ ہے۔ رائکو داغ بھاٹی کمیونٹی کا، پیرانو داغ راجپار برادری کا، کھنو داغ سید خاندان کا، سجاؤ داغ سمیجہ برادری کا، کجاؤ آریسر کمیونٹی کا، ٹپری نہڑی برادری کا لکھ مانا جاتا ہے۔

ان نشانات سے جانوروں کی ان کے مالکان کی ذات سے پہچان ہوتی ہے اور کوئی ڈھور ڈھنگر گم ہونے کی صورت میں تلاش میں مشکل پیش نہیں آتی۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ تھر کے یہ لوگ اپنے ہر جانور کے پیر کے نشان کی بھی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کا کوئى جانور اگر بھٹک کر کسی اور ریوڑ میں چلا جائے تو اس پورے ریوڑ کے پیروں کے نشانات میں سے وہ اپنے جانوروں کا پیر ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ اور ان کے مویشیوں کے جسم پر موجود ہر نشان کی الگ زبان ہے جو فقط انہی لوگوں کو سمجھ میں آتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply