الفاظ کی بارش میں معنی کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بارے میں شاید ہی کسی کو اختلاف نہ ہو کہ اس کرہ ارض میں وجود میں آنے والی یا لائی جانے والی ہر نئی دریافت یا ایجاد، اپنے اندر، اچھے اور برے، دونوں پہلو لیے ہوئے ہوتی ہے۔

بی بی سی نے، کچھ برس پہلے، ایک بہت لاجواب ٹاک شو کیا تھا جس کی اہمیت کا اندازہ اس کے شرکا سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ تمام ماہرین، مختلف میدانوں کے نوبل انعام یافتہ تھے اور گفتگو کا موضوع تھا کہ کیا کسی ایجاد کے مرحلے کے دوران میں یہ تعین کرنا ممکن ہے کہ وہ دنیا کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ ہو گی۔ شرکا عمومی طور پر متفق تھے کہ ایسا شاید ممکن نہ ہو۔ بصورت دگر اس ممکنہ ایجاد کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ان دنوں سوشل میڈیا، جس تیزی اور ہمہ گیریت کے ساتھ ہماری زندگی میں رابطے کا ذریعہ بنا ہے، اسے بجا طور پر انسانی زندگی کا تاریخی انقلاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی اہمیت اور حیثیت کو دیکھتے ہوئے، کسی مبالغے کے بغیر، یہ دعوی بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس نے دنیا کو حقیقی معنوں میں، عملی طور پر، گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے مختلف النوع رسائی، اس سے قبل اتنی سہل، وسیع اور تیز رفتار نہ تھی۔

مختلف اقسام اور انداز کے تخلیقی عمل کو بھی اس سے، غیر معمولی فروغ ملا ہے اور اظہار کا ایسا پلیٹ فارم میسر آیا ہے جس نے دنیا بھر میں لوگوں کو، آسمان کو چھو لینے کے مترادف، آزادی اور اظہار کے منفرد مواقع بہم پہنچا دیے ہیں۔ اپنے آغاز سے لے کر آج تک، اس میڈیا نے، اتنے قسم کے رجحانات کو جنم دیا ہے کہ شاید، اب ان رجحانات کا شمار بھی مشکل ہو، اور ان سے کنارہ کشی بھی!

انفرادی یا اجتماعی اظہار کے لئے، سوشل میڈیا سے قبل، وہ سب سوچنا محال تھا، جو، اب اس کے استعمال سے، سب کی دسترس میں ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تا حال سوشل میڈیا کے صارفین کے لئے، اس آزادی کی راہ میں ایسا کچھ حائل نہیں، جسے رکاوٹ یا بیشتر معاملات میں، اظہار کی راہ میں نا پسندیدہ امر قرار دیا جا سکے۔

یوں سوشل میڈیا میں ملنے والی آزادی چوں کہ عام طور پر نظر ثانی کے کسی مرحلے کی پابند نہیں، اس لئے الفاظ کے اس ہجوم سے، اعتبار اور یقین کی سند ہر کسی کو دینا بھی ممکن نہیں۔ اس میڈیا کا یہی وہ پہلو ہے جسے دیکھتے ہوئے، سر دست، اس کی فراہم کردہ تمام معلومات یا اطلاعات کو، محققین یا علم کے متلاشی سنجیدہ افراد کے نزدیک، کلی طور پر معتبر یا مستند تسلیم نہیں کیا جاتا۔ احساس ذمہ داری کے حوالے سے، وکی پیڈیا ایک اچھی مثال کہی جا سکتی ہے جو اپنی معلومات کو مکمل یا حتمی تصور نہیں کرتا اور پڑھنے اور سوچنے والے کو اس میں تصحیح اور اضافے کی کھلی دعوت دیتا ہے۔

معلومات اور اطلاعات سے ہٹ کر، اگر انسانی جذبات پر مشتمل مقامی مواد کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے معاشرتی مزاج کے مطابق، بیان میں، مبالغہ نہ ہو تو، اظہار کا مزہ نہیں آتا۔ سو یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر بھی اسی شد و مد سے جاری و ساری ہے۔

اس ضمن میں، سب سے زیادہ جو لفظ ان دنوں مجروح ہو رہا ہے، وہ، انگریزی کا لفظ لیجنڈ ہے جو اردو میں بھی خوب مروج ہے۔ ہر شخصی خاکے میں، اگر موصوف یا موصوفہ خوش قسمتی سے بہ قید حیات ہیں اور عمر رسیدہ بھی، تو ایسی شخصیات کے لئے، نہایت آسان نسخہ موجود ہے کہ وہ لیجنڈ قرار پائیں۔ گویا لیجنڈ ہونے کے لئے محض یہ کافی ہے کہ آپ کا تعلق ماضی بعید سے ہو اور آپ عمر دراز کے آرزو اور انتظار والے، چاروں دن گزار چکے ہوں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ مزید طرہ یہ کہ جس کو لیجنڈ کی صف میں شامل کیا جا رہا ہے، وہ شاید اپنی فیلڈ میں، کام اور کارکردگی کی بجائے، قابل رشک، خوش قسمتی کا استعارہ ہی رہا ہو۔

مرحومین کے لئے بھی، یہ اعزاز استثنی نہیں ہے۔ طبیعت مائل ہو تو کسی کو بھی یہ تاج پہنایا جا سکتا ہے۔ اور اگر دل نہ مانے تو حقدار کو اس کے حق سے محروم بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہاں بھی فراخدلی کو سبقت حاصل ہے۔

بہتات میں کی گئی، اس تقسیم کا المیہ یہ ہے کہ، حقیقی لیجنڈ بھی، حقیقتاً اپنے مقام سے ہٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ جاننا اور جانچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا یہ اصلی لیجنڈ ہے یا اسی فراخ دل فہرست کا حصہ ہے۔

اچھا، خوب صورت، عظیم، اعلی، شاندار، بے مثال، یہ اور اس جیسے کئی دوسرے صفاتی الفاظ کا استحصال بھی پوری شان و شوکت سے جاری ہے۔ صفات کی کم از کم تین سطحوں سے، کم و بیش، سبھی صارفین آگاہ ہیں پھر ہمیشہ بالائی سطح ہی منظور نظر کیوں ہو۔ اسے اس وقت کے لئے کیوں نہ بچایا جائے، جب اس کا واقعی اطلاق ہوتا ہو۔

الفاظ کا موزوں اور بر محل استعمال، خیال اور متن کو تقویت دیتا ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو قائل کرنے کا سبب بنتا ہے۔

سوشل میڈیا ایک نیا معاشرتی رجحان ہے اور ابھی نہ جانے، اس نے کن کن مراحل سے گزر کر، کیا کیا ہیئت تبدیل کرنی ہے، سو یقین رکھنا چاہیے کہ الفاظ کے حق میں بالآخر بہتر اور معنی خیز فیصلہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “الفاظ کی بارش میں معنی کی تلاش

  • 02/07/2020 at 10:39 am
    Permalink

    آج کل کے نوجوانوں کے ذہنوں کی لیجنڈ کے بارے میں confusion اور کم علمی کو دور کرنے کے لئیے بہترین تحریر ہے اس کو پڑھنے کے بعد بھی لوگ کسی بھی شخص کو اتنا بڑا ٹائٹل دینے سے بعض نہیں آ سکتے یہ اس قوم کا المیہ ہے ۔بہت خوب صورت تحریر ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *