مسئلہ کشمیر قراردادوں کے مطابق حل‘ بھارتی مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے: اردگان‘ ممنون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"tayyab-erdogan\"

اسلام آباد+ لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ خصوصی رپورٹر) ترک صدر رجب طیب اردگان دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ نور خان ائربیس پر وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ترک صدر کا پُرتپاک استقبال کیا انہیں گلدستے پیش کئے گئے۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے ترک صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر خاتون اول محترمہ کلثوم نواز‘ مریم نواز اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ رجب طیب اردگان کا بحیثیت صدر پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق حکومت کی جانب سے اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد رجب طیب اردگان کو ایوان صدر لے جایا گیا جہاں ان کے لئے استقبالئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ترک صدر آج دوپہر دو بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس حوالے سے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ایوان میں پاکستان تحریک انصاف نے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد ترک صدر لاہور جائیں گے جہاں شاہی قلعے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان کے اعزاز میں پُرتکلف ضیافت دی جائے گی جس میں اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ ملکی سیاسی قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ترک صدر کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر حکام بھی ہیں‘ ان کا خصوصی طیارہ جیسے ہی پاکستانی حدود میں داخل ہوا انہیں پاک فوج کے ایف 16 طیاروں نے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ ایوان صدر میں اردگان اور صدر ممنون حسین میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ صدر ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے ٗ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اور خطے میں امن، لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے خاتمے ، افغانستان میں دیرپا امن کیلئے مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ تعاون پر اتفا ق کیا، دونوں رہنمائوں نے کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا۔ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائیر گروپ کے معاملے میں بھر پور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔ صدر نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ترکی کو دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدتی دفائی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینی چاہئے جس سے معز ز مہمان نے اتفاق کیا۔ صدر ممنون حسین نے پاکستانی آبدوز اپ گریڈ کرنے پر ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشتاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر رجب طیب اردگان نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے دنوں میں دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہو گا اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ دونوں رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ٗ صدر ممنون نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ کے تحت ہونی چاہئے ٗصدر نے مسئلہ کشمیر کے ضمن میں ترکی کی بھرپور حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور معزز مہمان کو یقین دلایا کہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کی بھرپور حمایت غیر مشروط طور پر جاری رکھے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ ترک صدر نے صدر اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک ترک تجارت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران کچھ کمی آئی ہے، جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ ترک صدر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے تجارت میں اضافے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جلد ہی اس صورت ِ حال میں بہتری پیدا ہو گی۔ اردگان نے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔ دونوں رہنمائوں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ صدر نے توقع ظاہر کی کہ ترک عوام اپنے عزم سے کرد اور داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو بہت جلد شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ترک صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، پاکستانی عوام اور مسلم افواج کے عزم کی تعریف کی اور پاکستان بہت جلد امن کا گہوارا بن جائے گا۔ صدر ممنون حسین نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ دونوں ملکوں کو اپنے سفارتی تعلقات کی 70 سالہ تقریبات بھر پور طریقے منائیں اور اس سلسلے میں تجویز پیش کی کہ اس طرح کے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کے علاوہ مشترکہ آباد کاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جانا چاہئے اور ثقافتی تعاون میں اضافہ کیا جائے۔ ترک صدر نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا۔ صدر نے ترک ہم منصب کو پاکستان اقتصادی راہداری کے سلسلے میں ہونے والے پیش رفت سے آگاہ کیا او راس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بیشتر ممالک میں امن کے قیام اور توازن کا مساوی اندازہ فکر رکھتے ہیں لیکن بعض ممالک کے امتیازی طرز عمل سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ترک صدرنے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ عالمی امن وا ستحکام کا ذریعہ بنے گا۔ صدر نے نیو کلیئرسپلائیر گروپ میں پاکستان کی رکنیت کے معاملے پر ترکی کی حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کچھ ملکوں کی طرف سے بھارت کی غیر منصفانہ حمایت سے پاکستان کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ ترک صدر نے اس سلسلے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ طیب اردگان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والے 19 ویں عالمی رہنما ہونگے۔ وہ تیسری بار مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ اردگان کی ایوان صدر آمد پر صدر ممنون حسین نے خودمرکزی دروازے پر آکر استقبال کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے ان کو گلدستے پیش کئے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں ترک وزیر خارجہ صدارتی ترجمان‘ ترک سفیر‘ سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری اور اعلٰ حکام موجود تھے۔ رائٹرز کے مطابق انقرہ میں پاکستان روانگی سے قبل ترک صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلیجئم کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوئوں اور بغاوت کی سازش کرنے والے گولن کے حامیوں کا مرکز ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی کیلئے فنڈز اکھٹا کرنے والی تنظیم سے متعلق جرمنی کو ثبوت دیدئیے۔ طیب اردگان آج لاہور پہنچیں گے جہاں وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی جانب سے ان کے اعزاز میں حضوری باغ شاہی قلعہ میں استقبالیہ دیا جائے گا۔ ترک صدر کی لاہور آمد کے سلسلے میں ترک صدر کی سکیورٹی ٹیم پہلے ہی یہاں آ چکی ہے جس نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداورں کے سکیورٹی پلان کو تسلی بخش قرار دیا۔ ترکی کے سکیورٹی حکام نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد صدر کے دورہ لاہور کی کلیئرنس دے دی۔ لاہور پولیس کے 6 ہزار سے زائد اہلکار اس موقع پر ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ ترک صدر کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر ترک حکام بھی ہیں۔ نور خان ایئر بیس پر بچوں نے ترک صدر کو گلدستے پیش کئے، وزیراعظم نواز شریف نے استقبال کیلئے آنیوالوں سے رجب طیب اردگان کا تعارف کرایا۔ رجب طیب اردگان صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف سے ون آن ون ملاقات بھی کریں گے۔ ترک صدر کے ساتھ وزیروں، مشیروں اور تاجروں کا وفد بھی پاکستان آیا ہے، ترکی اور پاکستان کے وفود کے درمیان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون کے اہم فیصلوں کا بھی امکان ہے، دونوں مشترکہ پریس بریفنگ کرینگے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>