تعلیم کے تھری سی اور ہمارے اساتذہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا کزن بلال شام کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہے۔ ایک دن اسے دیر ہو گئی تو میں بچوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور گپ شپ لگانی شروع کر دی۔ ٹیوشن پڑھنے والے، بچوں میں مختلف عمر، مختلف کلاسز، مختلف رتبے کے بچے موجود تھے۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے سوال کرنے شروع کر دیے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ ہر بچہ یہ بتائیے کہ اسے کون سا ٹیچر اچھا لگتا ہے۔ کیوں اچھا لگتا ہے اور وہ کیا پڑھاتا ہے۔ میرا دوسرا سوال یہ تھا کہ کون سا ٹیچر برا لگتا ہے۔

کیوں برا لگتا ہے۔ اور وہ کیا پڑھاتا ہے۔ تمام بچوں کا مجموعی جواب کچھ یوں تھا ہمیں وہ استاد اچھا لگتا ہے جو کلاس میں ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرے کچھ قصے کہانیاں سنائے اور زیادہ سخت نہ ہو۔ اور وہ استاد برا لگتا ہے جو صرف اور صرف پڑھائی کی بات کرے۔ سختی کرے۔ اور بچوں کو گالیاں دے یا برے طریقے سے بلائے۔ صرف ایک بچے کے علاوہ سب نے کہا کہ ان کا ناپسندیدہ مضمون ریاضی ہے۔ زیادہ تر کا پسندیدہ استاد یا تو اردو پڑھاتا تھا یا انگلش۔

ریاضی مضمون کے ساتھ ساتھ ریاضی پڑھانے والے ٹیچر بھی ان کو پسند نہ تھے۔ مجھے اپنے ایف ایس سی کے ریاضی کے استاد یاد آ گئے۔ اللہ ان پہ رحم کرے کلاس میں آتے تھے تو سلام کرنے کے بعد لکھنا شروع کرتے تھے اور آخری منٹ تک لکھتے ہی رہتے تھے۔ ہم ان سے بے انتہا عاجز تھے۔ بارہا فیڈ بیک میں ان کی شکایت کی کہ یہ کوئی اخلاقی گفتگو نہیں کرتے نہ کبھی کوئی واقعہ سناتے ہیں بس آتے ہیں روبوٹ کی طرح پڑھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مگر ہمارا فیڈ بیک نہ تو استاد بدل سکا، نہ ہی استاد کو بدل سکا۔ اور ہم مومن خان مومن کی طرح اللہ اللہ کر کے ایف ایس سی سے نکلے

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن
رات کاٹی خدا خدا کر کے

مجھے اب بھی ریاضی سے اتنی الجھن ہے کہ اگر قیامت کے دن خدا نے مجھے یہی سزا سنا دی کہ اپنے اعمال کا حساب خود کر کے لے آؤ تو میرے لئے یہی سزا کافی ہو گی۔ میں نے بی ایس کیمسٹری صرف اور صرف ریاضی کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔ پھر بی اے کیا اور ایم اے ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لیا۔ تو شکر ہے ان دونوں ڈگریوں میں ریاضی کہیں بھی نہیں ہوتا۔

خیر بات ہو رہی تھی ٹیچر کی تو بچوں کی بات رہی ایک طرف ہم اب یونیورسٹی لیول پے بھی ان اساتذہ کو پسند کرتے ہیں جو کلاس میں دوستانہ ماحول رکھیں، تھوڑا پڑھائیں اور کچھ باتیں کریں۔ یونیورسٹی لیول کے تقریباً تمام اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ پڑھانا کیسے ہیں مگر چھوٹے لیول پر مجھے بعض اساتذہ کے طریقہ کار پر ترس آتا تھا۔ مثلاً جب استاد نے گپ شپ یا آنکھ لگانی ہوتی تو ہمیں ایک ہی لائن کو سینکڑوں دفعہ لکھنے کا کہہ دیتے۔

تعلیم کی جو جدید تعریف کی جا رہی ہے وہ ”تھری سی“ ہے۔
پہلا سی (C) Confidence ہے۔
دوسرا سی (C) Creativity ہے۔
اور تیسرا سی (C) Character ہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں بجائے ان چیزوں کو پروان چڑھانے کے الٹا برباد کیا جاتا ہے۔ آج ہماری خصوصاً میرے کانفیڈنس کی حالت یہ ہے کہ یونیورسٹی لیول پہ آکر بھی سٹیج پہ کچھ بولنا پڑے تو آواز اور ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ کری ایٹیوٹی کی حالت یہ ہے کہ ہم آج کوئی ایسا آئیڈیا یا ایجاد سامنے نہیں لا پا رہے جو دنیا کے لئے مفید ہو۔ اور رہی بات کیریکٹر کی تو اس کی تو بات ہی نہ کریں۔ یہاں ہم سب کا کریکٹر ڈھیلا ہے۔

میرا ایک کلاس فیلو تھا وہ کہتا تھا کہ میں جب افسر بنوں گا تو خوب مال بناؤں گا۔ یہ تو سوچ ہے ہماری۔ کہتے ہیں کردار دو طرح سے بہتر ہو سکتا ہے۔ یا تو آپ کسی ایسے شخص کو رول ماڈل بنائیں جو اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہو اور اپنے آپ کو اس کے رنگ میں رنگتے ہوئے برائیوں اور غلطیوں سے دور ہوتے جاؤ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ کا سسٹم اتنا طاقتور ہو کہ آپ اس کے ڈر سے کوئی غلط کام نہ کریں۔ جب آپ کو پتہ ہوگا کہ اگر آپ نے کوئی غلط کام کیا تو ملک کا وزیراعظم بھی آپ کو سزا سے نہیں بچا سکے گا تو آپ کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے سوچیں گے۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں موجود اساتذہ کا فرض نبھانے والے لوگ شاید خود بھی معاشرے کے کارآمد افراد نہیں ہیں تو وہ معاشرے کے لیے کارآمد انسان کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply