سماجی سائنس کے اساتذہ سے کیا تکلیف ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس ملک کے نہ صرف وزراء بلکہ وزیراعظم تک مرغیوں، کٹوں، ٹڈی دل جیسے مضحکہ خیز اور ناقابل عمل منصوبوں سے لے کر کورونا جیسی بین الاقوامی وبا پر سائنسی ضابطوں سے انحراف کرتے رہے ہیں اور کووڈ 19 کی جو بے سروپا تشریحات عوام کےگوش گزار کرتے رہے ہیں، اس کی سمجھ بوجھ کسی سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک کے تمام ادارے ہی روبہ زوال تھے لیکن جس شدت سے اس حکومت نے تمام اداروں پر جو کاری ضرب لگائی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جہاں پر زرتاج گل، فیاض چوہان، غلام سرور، علی زیدی، شہباز گل، علی محمد، شہریار آفریدی اور مراد سعید جیسے کند ذہنوں کی بادشاہت ہو، وہاں پرویز ہود بھائی، محمد حنیف، عمار علی جان، ڈاکٹرعامر اقبال، ضیغم عباس جیسے اسکالرز کو سلامتی کے بہانے تعلیمی اداروں سے فارغ کرنا کونسے اچھنبےکی بات ہے؟ یہ سب دنیا بھر کی بہترین درس گاہوں سے اعلی ترین ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اور آج بھی با آسانی کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں سکونت اختیار کرسکتے ہیں۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے آج بھی انھیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، لیکن وطن واپسی ان سب کا شعوری فیصلہ تھا۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک خاص قسم کا کیڑا موجود ہوتا ہے جو انھیں اپنے ملک اور معاشرے کو سنوارنے کی مسلسل ترغیب دیتا رہتا ہے-

تہذیب یافتہ ممالک کی درس گاہوں میں جن عوامل پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ان میں انسانی برابری، شخصی آزادی، سوالات کرنے کی ہمت، انفرادی نقطہ نظراور آزادی اظہار شامل ہیں اور جب ان جیسے لوگ یہی خاکہ یہاں آ کر لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں ریاستی جبر اور مزاحمت کا شدت سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام باتیں کرنا یا ان پر عمل کرنا نہ صرف ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں بلکہ معاشرے میں بھی ممنوع ہیں۔

پاکستانی تعلیمی نظام کی کمزوریوں کی بنیادی وجوہات ہمارے سماج کی غیر انسانی اور ظالمانہ رویوں سے جڑی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں سماجی اورسائنسی تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن ہماری ریاست کو سماجی علوم پڑھانے والوں اور پڑھنےوالوں دونوں سے ہمیشہ خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کو کبھی سیکیورٹی رسک، غدار اور ملک دشمن عناصر کہا جاتا ہے اور کسی پر سیدھا سیدھا بلاسفیمی کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے۔

 راجن پورسے تعلق رکھنے والا فل برائٹ اسکالر جنید حفیظ کسے یاد نہیں جو واپس آ کر بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی میں بطور وزیٹنگ لیکچرر انگلش ادب پڑھا رہا تھا، اور آج سات سال سےاک نام نہاد بلاسفیمی کیس کے الزام میں کال کوٹھری میں اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے اور کوئی وکیل اس کا کیس نہیں لینا چاہتا کہ اس کے وکیل راشد رحمان کو دن دہاڑے قتل کر کے نشان عبرت بنا دیا گیا۔

حال ہی میں سندھ کے پرفیسر ساجد سومرو کو بلاسفیمی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اور سندھ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسراور سماجی کارکن عرفانہ ملاح کو بھی سوشل میڈیا پر علانیہ معافی مانگنی پڑی اور ان عناصر کا شکر گزار ہونا پڑا جنھوں نے اس معاملے کو ہوا بھی دی اور پھرانھیں اپنے گزشتہ بیان کی وضاحت کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کیا کیوں کہ عرفانہ نے ساجد سومرو کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

دنیا میں رونما ہونے والی مختلف تحریکوں میں اساتذہ کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں کہ کس طرح اساتذہ نے اپنے طلباء کو معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف متحرک کیا۔

350 بعد از مسیح میں اسکندریہ (مصر) میں ہائیپیشیا نامی اک ماہر فلکیات، فلاسفر اور ریاضی دان گزری ہے جو خود کافر ہونے کے باوجود اپنے عیسائی اور پیگن طلباء کی ہردل عزیز استاد تھی اس نے اپنے طلباء میں علم کی پیاس بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماج میں پھیلے امتیازی اور علم دشمنی رویوں کے خلاف متحد کیا لیکن اس وقت کے عیسائی جنونیوں کے ہجوم نے بلاسفیمی کا الزام لگا کر اسے سنگسار کر کے مار ڈالا تھا۔

 اسی طرح 1968 کی تحریک کے محرکات شہری اور سیاسی حقوق کی پامالی، فرقہ وارانہ ، جنسی اورنسلی تعصبات تھے لیکن اس تحریک نے جس تیزی سے امریکہ سے نکل کر پورے یورپ کواپنی لپیٹ میں لیا اس میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلباء کا کردار قابل ذکر ہے۔ حال ہی میں امریکہ میں ہونے والے “بلیک لائیو میٹر”احتجاجی مظاہروں میں نوجوان طلباء کی بھرپورشمولیت دیکھنے میں آئی جو ایک خوش آئند بات ہے۔

لیکن پاکستان میں اسٹوڈینٹ تنظیموں پر جنرل ضیاءالحق کے دورآمریت میں پابندی عائد کرنے اور سیاسی سرگرمیاں ہمیشہ کے لئے تعلیمی اداروں سے ختم کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہمارےسامنے سیاسی شعور سے بے بہرہ اک پوری نسل نظر آتی ہے۔ ایسے حبس زدہ ماحول میں ایسے گنے چنے اساتذہ تازہ ہوا کا جھونکا تھے۔ اوریہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پولیٹیکل سائنس کے استاد کی حیثیت سےاپنے طلباء کوسیاسی شعور دینا اور متحرک کرنا بلکل اسی طرح ضروری ہے جس طرح ایک سائنس یا فلسفے کے استاد کی سچ اور جھوٹ کو حقائق کی روشنی میں پرکھنا سکھانا۔ لیکن ہمارے اداروں نے بڑی صفائی سے سیاسی اور سماجی علوم کو پاکستان اسٹڈیز میں تبدیل کردیا تاکہ نئی نسل کو سیاسی عمل سے جتنا ممکن ہو دور رکھا جائے کیونکہ عوام جب سیاسی اورسماجی شعور سے دور ہوتے ہیں تو اپنے حقوق سے بھی نابلد رہتے ہیں جس سے بالادست طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے۔  پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم پر تبدیلی کے نام پر ایسے نااہل حکمران مسلط نہ کئے جائیں۔ جب درسگاہیں اپنے سوچنے سمجھنے اور سوال اٹھانے والے اساتذہ کونکال باہر کریں گی تو معاشرہ تیزی سے تنزل کی جانب ہی گامزن رہے گا اور اس کے نمونے ہمیں ہر روز دیکھنے کو ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *