میاں صاحب مائنس کرنے کو تیار نہیں ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ ایک دور دراز کے گاؤں میں ایک میاں صاحب رہتے تھے۔ نہایت وجیہہ و شکیل تھے۔ رنگ ایسا جیسا پنجاب آٹا نمبر ایک میں شہد گھول کر بنفشہ بھی ڈال دیا گیا ہو۔ جسامت ایسی کہ کسرت کرنے والے پہلوان لگتے تھے۔ ویسے تو وہ نہایت متقی اور پرہیزگار تھے مگر ان کے بعض شریک بتاتے تھے کہ میاں صاحب اندھیرے اجالے چوکتے بھی نہیں، جہاں ہاتھ پڑے پڑوسی کی مرغی پار کر کے کڑاہی بنا لیتے ہیں۔ بہرحال یہ بات دوست دشمن سب مانتے تھے کہ بستی میں موجود دیگر شریکوں کے مقابلے میں وہ ازار بند کے پکے تھے۔

تو ہوا یوں کہ ایک مرتبہ میاں صاحب کو سفر پر جانا پڑا کہ وہ قریبی قصبے کی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ کر ان کے دام کھرے کریں۔ اب وہ زمانہ بہت پرانا تھا۔ آج کی طرح ایسا نہیں تھا کہ جہاز پر بیٹھو اور وہ چند گھنٹے میں کالے کوسوں دور منزل پر پہنچا دے۔ اس زمانے میں لوگ اونٹ کو ہی جہاز قرار دے دیا کرتے تھے اور اس زمانے کے اونٹ ہوتے بھی جہاز ہی تھے۔

بہرحال میاں صاحب کے پاس اونٹ کیا گدھا تک نہیں تھا۔ اس لیے وہ اپنی بکریوں کو لے کر پیدل ہی روانہ ہوئے۔ بیچ میں جنگل پڑا جہاں بندہ نا بندے کی ذات مگر وہ بور نا ہوئے اور حسب معمول بکریوں سے گفتگو کرتے اور ان سے اپنی بانسری کی بے سری تانوں پر داد وصول کرتے وہ دوسرے قصبے کی منڈی پہنچ گئے۔ دوپہر تک اچھے گاہک لگ گئے اور ان کا سارا ریوڑ بک گیا۔ میاں صاحب کو اچھا منافع ہوا تو انہوں نے عیاشی کی سوچی۔

ان کی عیاشی بھلا کیا ہوا کرتی تھی، حسن کے وہ قدردان نہیں تھے کہ اس کوچے میں وہ اپنی بکریوں کی کمائی نذر کرتے، بس یہ عیاشی کرتے تھے کہ ایک مرغ پکایا یا نہاری چڑھا دی اور اس وقت تک کھاتے رہے جب تک ڈھیر نا ہو گئے۔ اس مرتبہ کمائی زیادہ اچھی ہوئی تھی تو میاں صاحب نے سوچا کہ دو مرغیاں کھا لیں۔ انہوں نے خرید لیں۔ ساتھ کڑاہی بنانے کے لیے ایک ٹوکرا بھر ٹماٹر بھی خرید لیے اور ایک ہاتھ میں ٹوکرا اور دوسرے میں مرغیاں پکڑ کر واپسی کا قصد کیا۔

ایسے میں ان کے گاؤں کی ایک نہایت حسین و جمیل، خوبرو و دلکش، سمارٹ اور ہینڈسم دوشیزہ بھی ان کے سر ہوئی کہ میاں جی مجھے ساتھ لے چلیں، میں یہاں سہیلیوں کے ساتھ سبزیاں بیچنے آئی تھی، ان کی جلدی بک گئیں تو سب مجھے تنہا چھوڑ کر چلی گئیں، میری اس سمے جا کر بکی ہیں تو واپسی میں تنہا جاتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے۔ زمانہ خراب ہے کہیں کوئی لٹیرا اکیلا دیکھ عین غین مائنس پلس نا کر دے۔

میاں صاحب کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا۔ اس لیے ہامی بھر لی اور اسے ساتھ لے کر چل پڑے۔ بیچ جنگل میں پہنچے تو وہ دوشیزہ یکایک خوفزدہ ہو گئی۔ کہنے لگی کہ میاں صاحب مجھے آپ کی نیت میں کھوٹ لگ رہا ہے۔ آپ مجھ اکیلی جوان جہاں لڑکی کو ورغلا کر یوں اکیلے اس مقام پر لے آئے ہیں۔ میں دو تین گھنٹے وہاں اور انتظار کر لیتی تو کیا پتہ میری سہیلیاں سکھیاں مجھے ڈھونڈتی واپس آ جاتیں اور اپنی حفاظت میں لے جاتیں۔ آپ نے مجھے اعتماد دلا کر اکیلے آنے پر راضی کر لیا۔ اب میری عزت خطرے میں ہے۔ آپ مجھے پلس مائنس کرنے پر آمادہ ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

میاں صاحب بہت سٹپٹائے۔ کہنے لگے کہ واقعی یہاں جنگل بیابان ہے۔ ویرانہ ہے۔ دور دور تک آدم نا آدم زاد۔ جاندار کے نام پر یہاں میں ہوں، تم ہو اور میری مرغیاں ہیں۔ لیکن یقین مانو مجھے مرغی سے کسی بھی حسینہ کے مقابلے میں زیادہ محبت ہے۔ ایسا اعلیٰ قورمہ بنتا ہے کہ بندہ جیتے جی جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ میرے ایک ہاتھ میں ٹماٹروں کا ٹوکرا ہے، دوجے میں میری محبوب مرغیاں ہیں، میں مرغیاں چھوڑتا ہوں تو وہ بھاگ جائیں گی اور انہیں پکڑنا ناممکن ہو گا، تو پھر میں تمہیں کیسے مائنس کر سکتا ہوں؟

تس پہ وہ معصوم سی البیلی دوشیزہ مزید متوحش ہو گئی۔ کہنے لگی کہ میاں صاحب آپ سو عیاروں کے ایک عیار ہیں۔ مجھے علم ہے کہ آپ مجھے پلس مائنس کرنے کے لیے کوئی نا کوئی طریقہ سوچ لیں گے۔ مثلاً آپ ٹماٹروں کے ٹوکرے کو خالی کر کے اسے مرغیوں کے اوپر اوندھا رکھ دیں تاکہ وہ بھاگ نا سکیں اور پھر مجھے مائنس ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

میاں صاحب نے کچھ دیر صورت حال کی سنگینی پر غور کیا۔ اس کے بعد ٹوکرے کو زمین پر رکھا۔
دوشیزہ مزید وحشت زدہ ہو کر چیخنے لگی بچاؤ بچاؤ میاں صاحب مجھے مائنس کرنے لگے ہیں اور قریب آ گئی۔

میاں صاحب نے ٹوکرے سے ایک ٹماٹر اٹھایا، اسے سموچا اپنے منہ میں ڈال کر کچر کچر کھانے لگے اور ٹوکرا اٹھا کر اپنی راہ پر چلنے لگے۔ دوشیزہ چلاتی ہوئی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑی کہ میں مائنس ہونے لگی ہوں لیکن پھر بچے گا کوئی بھی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *