بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2019ء کا آخری سورج غروب ہو رہا تھا تو کس نے سوچا تھا کہ آنے والے سال میں ایک وائرس، اک مہلک وبا کی صورت میں تمام عالم میں پھیل جائے گا اور چند مہینے میں دنیا کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے کر لاکھوں انسانی جانیں نگل لے گا اور کروڑوں انسانو ں کو اپنے گھروں میں مقید اور بے بس کر دے گا۔ چین کے شہر وہان سے پھوٹنے والا یہ وائرس محض تین مہینے کے عرصہ میں تمام دنیا میں پھیل گیا اور تادم تحریر اس مہلک وائرس کے ہاتھوں پانچ لاکھ کے قریب انسان داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ کے قریب انسان اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ تمام دنیا کی قریباً آٹھ ارب آبادی اس وبا کے بروقت علاج کے لیے ایک ویکسین کی دریافت کی منتظر ہے جو فی الوقت کسی کے پاس نہیں۔ کئی دوسرے ممالک کی طرح وطن عزیز کی فضاوں میں بھی کرونا وائرس اور اس سے جڑی تمام عفریتیں جا بجا بکھری پڑی ہیں۔

تادم تحریر پاکستان میں قریباً پونے چار ہزار افراد اس وائرس کے شکنجے میں آ کر دار فانی سے کوچ کر چکے ہیں۔ پچھلے تین ماہ سے تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند بیں اور دفاتر، کاروبار، صنعتیں اور دیگر کاروباری مراکز مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں۔ اس وقت گھروں کے اندر بند کمروں میں، اخبارات کی شہ سرخیوں میں اور ٹی۔ وی کی سکرینوں پر صرف ایک ہی موضوع سخن ہے کہ کورونا وائرس نے مزید کتنی انسانی جانیں نگل لیں، کتنے انسان اس کے آہنی شکنجے سے بچ نکلے، کون سی سرکار نے اس سے نبٹنے کی بہتر حکمت عملی اپنائی اور اس کے ممکنہ علاج کے طریقے، دیسی ٹوٹکے، معجزاتی نسخے اور نجانے کیا کچھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آپ اس وبا سے جڑے انسانی المیوں کے بیسیوں واقعات ہر روز سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے سنتے ہوں گے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں سسکتے اور تڑپتے مریضوں کے واقعات، وینی لیٹرز اور ادویات کے حصول کی بھاگ دوڑ میں لگے ہانپتے اقارب کے قصے اور کئی گنا مہنگے انجکشن بیچنے والے سفاک سوداگروں کے واقعات۔ آپ یہ تمام کہانیاں کتنی بار ہی کیوں نہ سن لیں آپ کو اس وائرس کی سنگینی اور سفاکی کا حقیقی احساس اس وقت ہوتا ہے جب یہ خدانخواستہ آپ کے کسی اپنے پیارے کے جسم میں خاموشی سے داخل ہو کر اسے ہمیشہ کے لیے آپ سے جدا کر دیتاہے۔

میں اور میری فیملی رواں مہینے ایک ایسے کرب سے گزرے ہیں کہ ابھی تک اک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ قریباً تین ہفتے قبل ہمارے ایک بہت ہی قریبی عزیز اس سفاک وائرس میں مبتلا ہوگئے۔ بیماری کے ظاہر ہونے پر بر وقت ان کو گھر میں آئسولیٹ (قرنطینہ) کر دیا گیا اور ٹسٹ مثبت آنے سے قبل ہی ضروری ادویات بھی شروع کروا دی گئیں۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک تیسرے روز ان کی سانس اکھڑنا شروع ہوگئی اور آکیسجن لیول کافی نیچے گر گیا، ان کو اسی وقت لاہور میں بیدیاں روڈ کے قریب ایک نسبتاً بہتر سرکاری ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔

جس وقت ان کا بیٹا اور میرا خالہ زاد بھائی ان کو ہسپتال کے عملے کے سپرد کر کے گھر لوٹ رہا تھا تو اس وقت ان کے حواس قائم تھے، بس آکسیجن لیول کم تھا۔ تین گھنٹے بعد ہسپتال سے ان کے بیٹے کو وہ منحوس فون کال آئی کہ آپ کے والد صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی میت جلد یہاں سے شفٹ کر لیں کیو نکہ ہمارے ہسپتال میں سرد خانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ آپ تصو ر کریں کہ اس فیملی کے لیے اس امر کو تسلیم کرنا کتنا مشکل ہوگا کہ اس گھر کا سربراہ جو ابھی چند گھنٹے پہلے اس مکان کے ایک کمرے میں موجود تھا اور بظاہر اپنی پوری قو ت ارادی سے اس موذی وبا کا مقابلہ کر رہا تھا، اچانک بغیر کوئی عندیہ دیے یوں خاموشی سے دائمی داغ مفارقت دے گیا۔

ایک طرف اپنے کسی پیارے سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے کا غم بذات خود اتنا بھاری ہوتا ہے اور دوسری جانب یہ حزن بھی کیا کم عظیم ہے کہ آپ اس مرض میں مبتلا اپنے پیاروں کے آخری لمحات میں ان کے ساتھ موجود نہیں ہوتے۔ ان کے سرہانے کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ تھام نہیں سکتے۔ ان کو تسلی کے دو بول اور حوصلے کا وہ لمس نہ دے سکیں جس کی ان کو ان لمحات میں سب سے زیادہ ضر ورت ہوتی ہے۔ وہ لوگ جن کے بغیر آپ چند گھڑیاں گزارنے کا تصو ر بھی نہیں کر سکتے آپ کو مجبوراً ان کو ہسپتال کے مخصوص وارڈ میں وہاں کے عملے کے سپرد کر کے بوجھل قدموں سے گھر لوٹ آنا پڑے اور پھر فون کی ایک گھنٹی آپ کی تمام کائنات کو بدل کے رکھ دے۔

لیکن بے بسی اور دکھ کی یہ داستان کسی پیارے کے یوں اچانک الوداع کہے بغیر چلے جانے پہ بھی ختم نہیں ہوتی۔ جس گھر کے مکینوں میں یہ وبا داخل ہو جاتی ہے وہاں تدفین اور تعزیت کی رسومات میں ایک انجانی سراسیمگی کا پہرہ بیٹھ جاتا ہے، رشتہ داروں کی شرکت بالکل محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ لو احقین حزن و ملال اور خوف کی ملی جلی کیفیات میں مبتلا ہو کر رہ جاتے ہیں کہ وہ اس گھر میں جا کر کہیں اس وبا کے جراثیم اپنے ساتھ اپنے گھروں میں نہ لے آئیں اور اپنی خو اتین، بچوں اور بزرگوں کو اس مرض میں مبتلا کرنے کے باعث نہ بن جائیں۔

اس رات جب میں اپنے خالہ زاد بھائی کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے نہایت منکسر المزاج اور نرم خو طبیعت کے مالک باپ کو کھو دینے کے بعد شدت غم سے نڈھال ہو کر سر جھکائے کھڑا تھا اور اس سے چند فٹ کے فاصلے پر تعزیت کرنے والے احباب آتے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر کچھ مخصوص جملے ادا کر کے رخصت ہو جاتے۔ میں نے جب اس کے قریب پہنچ کر اپنے بازو اس کی طرف بڑھائے اور اس کو اپنے سینے سے لگایا تو آنسوؤں کا ایک سیلاب رواں ہوگیا۔ یہ حزن، ملال اور لاچارگی میں گندھا گرم سیال تھا۔ ان آنسوؤں میں ایک تنہا بیٹے کا گریہ تھا اور ان ہچکیوں میں ایک بے بسی کا نوحہ۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ ہم اچانک نہیں مر جاتے، ہم لمحہ لمحہ مرتے ہیں۔ جب ہمارا کوئی اپنا رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہمارے وجود کا ایک حصہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔

اس رات ایک اور بات کا بھی ادراک ہوا کہ کسی اپنے گزر جانے والے کے چہرے کا آخری دیدار کیوں کیا جاتا ہے؟ جب آپ اپنے پیاروں کو آخری بار قریب سے دیکھتے ہیں اور وہ آپ کے پکارنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیتے تو کہیں نہ کہیں آپ کے بے اماں اور بے چین دل کو یہ یقین اور صبر آ جاتا ہے کہ یہ ہمارا اپنا اب ہماری آواز نہیں سن سکتا اور اب یہ کسی اور جہان کا حصہ بن گیا ہے۔ اگر آپ کا کوئی پیارا عزیز اس وائرس کی وجہ سے جہان فانی سے رخصت ہو جائے تو طے شدہ سرکاری پروٹوکول کے مطابق اس کا جسد خاکی ہسپتال سے براہ راست ایک تابوت میں بند کر کے منوں مٹی تلے اتار دیا جاتا ہے اور دو پولیس کے افسران ہسپتال کے عملے کی زیر نگرانی مرحوم کے صرف دو رشتہ داروں کو تدفین کے موقع پر قبرستان میں موجود ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔

کرونا وائرس سے جڑے اس کربناک ذاتی تجربے کے بعد اس وبا سے جڑی تمام خبروں کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا ہے۔ اب رات کو سونے کے لیے آنکھیں بند کروں تو دل میں یہ خواہش ابھرتی ہے کہ جب صبح سو کر اٹھوں تو سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے، میرے شہر کی ماند رونقیں لوٹ آئیں۔ اس کی ہنگامہ خیزی اور ہمہماہٹ جو پہلے کبھی کبھی دل پہ گراں گزرتی تھی، وہ کسی طرح واپس آ جائے اور ہم دوبارہ ان گلیوں کی اجیالی دھوپ میں بے دھڑک اور بے مقصد گھومیں، اے کاش اب اس رواں سال میں اور کسی کا پیارا اس سے نہ بچھڑے۔ کوئی اور اندوہناک خبر سماعت تک نہ پہنچے۔ محمود شام نے ان وبا کے دنوں کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
عجیب درد ہے جس کی دوا ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان سرور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *