تبدیلی کب آئے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمیں ایسی زندگی نصیب ہو جس میں خوف و حزن نہ ہو۔ خوف کی نسبت خارجی حالات سے ہے اور حزن دل کے بجھنے سے عبارت ہے۔ ہمیں اپنے جنت ارضی کے خواب کی تعبیر اس لیے نہیں ملتی کیونکہ ہمارے اندر حسد، لالچ، غصہ اور انتقام جیسے منفی جذبات کی آتش سلگ رہی ہوتی ہے اور ہمارے ماحول میں خود پرست مقتدر قوتوں نے وسائل کا رخ الناس سے موڑ کر اپنی جانب منتقل کر کے ہماری بے چینی میں اضافہ کر دیا ہوتا ہے۔

بنی نوع انسان نے سوچا تھا کہ جب علم کی روشنی پھیلے گی تو ظلم و زیادتی کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔ ہم نے سوچا تھا کہ سگریٹ نوشی کے مہلک اثرات کے متعلق سائنسی تحقیق سامنے آئے گی تو انسان سگریٹ نوشی ترک کر دیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ علم انسانی جبلتوں کے سامنے چاروں شانے چت ہو گیا۔ سب کو اپنی مرضی کا پابند بنانے کی انسانی جبلت انسانی حقوق کو خس و خاشاک کی مانند بہا کر لے گئی ہے۔ انسان کے اندر موجود غلبے کی جبلت نے اداروں کو پامال کر دیا۔ شخصی حکمرانی کے جنون نے اصول و ضوابط کی کتاب کے اوراق پریشان کر دیے۔

تمام مذاہب کی غایت یہ ہے کہ عالم اجسام میں عالم ارواح کا حکم نافذ ہو جائے مگر عالم اجسام میں روح کے تقاضے اور اس کی بالیدگی کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ زمین کے سفر میں نادیدہ خدا کے احکام کی جگہ ارضی خداؤں کی ناز برداریاں کی جاتی ہے۔ عالم اجسام کی زمینی زندگی میں حیوانی جبلتوں کی حکمرانی ہے۔ جب بھی انسان زمین کے سفر میں اپنی جبلتوں کی کشش ثقل سے آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے تو جسم کا وزن اسے واپس زمین پر لے آتا ہے۔

انسانی جبلتوں کی پھیلائی ہوئی تاریکی انسان دوستی کی روشنی سے دور نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ اندھیرا اس وقت دور ہو گا جب مقتدر قوتوں کی جسمانی زندگی اور ان کی مادی منفعت ان کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کی زد میں آنا شروع ہو گی۔ راجدھانی کے قلعے میں جب شگاف پڑنا شروع ہوں گے تو ارضی خداؤں کے اندر اپنے مخلوق ہونے کا احساس جاگے گا۔ اقتدار کی مسند کا جو حصہ جس کے حصے میں آیا ہے وہ اسے جیتے جی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جنت ارضی اس صورت میں قائم ہو گی جب ہر شخص مرنے سے پہلے مرنے کے لیے راضی ہو گا۔ بند مٹھی اس وقت کھلتی ہے جب دل کے شیش محل کے تمام دربانوں کو طویل رخصت پر بھیج دیا جاتا ہے۔ مٹ جانے کا یقین ہو۔

جائے یا پھر انسان کسی پر مر مٹے تو پھر مٹی میں مل کر مٹی ہو جانے کے لیے آمادگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت نہ ہو تو زبانی جمع خرچ چلتا رہتا ہے لیکن زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔

شدید محبت یا شدید نفرت انسان کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب عشق کا جادو چلتا ہے یا پھر نفرت کا آتش فشاں دہکتا ہے تو پھر انسان کے اندر تبدیلی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ہر عاشق اپنے محبوب کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔

پس ہم سب اس وقت بدلیں گے جب ہمیں اپنے خراٹے بھی سنائی دینے لگیں گے۔ اہل اختیار و اقتدار بھی اس وقت دوبارہ اپنی کھال کے اندر آ جائیں گے جب خلق خدا ان کی دست درازیوں کو اپنے اتحاد سے زیر و زبر کرے گی اور یہ وقت ہوگا جب زمین اپنے پیدا کرنے والے کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *