ارتقاء کے بارے میں ابن خلدون کے دلچسپ خیالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حیاتیاتی ارتقا کے نظریے کے سائنسی مقام کو مذہبی وجوہات کی بنا پر ہمارے ملک میں رد کیا جاتا ہے، اور اسے راسخ العقیدہ مسلمان خلاف اسلام مانتے ہیں۔ چند ایک علماء کو چھوڑ کر، جن میں جاوید احمد غامدی صاحب بھی شامل ہیں، جمہور علماء حیاتیاتی نظریہ ارتقا کو لغو اور اسلامی مذہبی فکر و فلسفہ سے متصادم پاتے ہیں۔ لیکن آج سے تقریباً چھ سو سال پہلے گزرنے والے ایک نابغہ روزگار مسلمان عالم ابن خلدون نے حیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں جو لکھا، وہ دور حاضر کے اسلامی علماء کی بجائے سائنس دانوں کے نقطہ نظر کی تائید کرتا ہے۔

یہ ایک انتہائی حیران کن بات ہے، کیوں کہ ابن خلدون ایک راسخ العقیدہ سنی مسلمان تھے، اور ان کا تعلق معتزلہ کے مخالف اہل سنت کے اشعری مکتبہ فکر سے تھا، یعنی ابن خلدون فکری طور پہ امام غزالی سے متاثر تھے۔ ابن خلدون مسلم دنیا کے عظیم ترین مورخین اور مفکرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی کتاب ”مقدمہ“ بلاشبہ تاریخ و عمرانیات پہ قرون وسطی میں لکھی گئی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے فلسفہ تاریخ، معاشیات، اسلامی دینیات، عمرانیات اور تعلیم جیسے وسیع موضوعات پہ قلم اٹھایا۔

اس شاہکار کتاب کا انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ پہ پی ڈی ایف شکل میں دستیاب ہے۔ ابن خلدون اس کتاب کے پہلے باب میں چھٹی تمہیدی بحث میں نبوت کے معانی کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ عالم موجودات کے عناصر ایک دوسرے کے ساتھ علت و معلول کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، مادی عناصر ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتے ہیں، یہ تبدیلی ہمیشہ ایک سادہ اور ادنیٰ شکل سے پیچیدہ اور اعلیٰ شکل کی طرف ہوتی ہے۔ علامہ صفحہ 137 پہ آگے چل کر رقم طراز ہوتے ہیں

” اب ہم اپنی توجہ مخلوقات کی طرف لاتے ہیں۔ عالم مخلوقات کا آغاز معدنیات سے ہوا، یہ معدنیات ایک زبردست تدریجی عمل سے نباتات اور پھر حیوانات میں تبدیل ہوئیں۔ معدنیات کا اعلیٰ ترین درجہ، نباتات کے ادنیٰ ترین درجہ یعنی بوٹیوں اور بے تخم نباتات میں تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح نباتات کے اعلیٰ ترین درجے ( کھجور کا خاندان اور بیلیں وغیرہ) کا تعلق حیوانات کے ادنیٰ ترین درجہ یعنی شیل فش اور گھونگھے / حلزون وغیرہ سے ہے۔

ان ابتدائی حیوانات میں صرف حس لامسہ ( چھونے کی حس) ہوتی ہے۔ لفظ تعلق کا معنی یہ ہے کہ مخلوقات کا ایک گروہ مخلوقات کے دوسرے اعلی تر گروہ میں تبدیل ہوتا ہے۔ یعنی نباتات کا اعلی ترین درجہ حیوانات کے ادنیٰ ترین درجے میں تبدیل ہوتا ہے۔ عالم حیوانات اس کے بعد وسعت اختیار کرتا ہے، اور متعدد انواع وجود میں آتی ہیں۔ انسان ایک عقل رکھنے والا حیوان ہے، جو بندروں کے اعلیٰ درجے سے وجود میں آیا، بندروں کے اعلیٰ ترین درجہ سے انسانوں کا ادنیٰ ترین درجہ ( بقول ابن خلدون افریقہ کے جنگلوں کے سیاہ فام لوگ) وجود میں آتا ہے۔“

اس بیان کے بعد ابن خلدون انسانوں کے مراتب بیان کرتے ہیں، اور پیغمبروں کو انسانوں میں بلند ترین درجہ کا حامل قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ براہ راست خدائی دانش سے نفع یاب ہوتے ہیں۔

یہ ابن خلدون کی کتاب کا ایک انتہائی دلچسپ باب ہے، حیاتیاتی ارتقا کے متعلق یہ چند جملے بظاہر ارسطو کے زندگی کی سیڑھی کے نظریہ ( ladder of life) سے متاثر نظر آتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ ارتقا کی ایک ابتدائی شکل آج سے چھ سو سال قبل ایک ایسے مفکر نے بیان کی جو راسخ العقیدہ مسلمان ہیں، ان کا تعلق اشعریہ سنی مسلک سے ہیں اور وہ امام غزالی کی فکر کے پیروکار ہیں۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اسے ”نبوت کے معانی“ نامی باب کے تحت لکھا۔ اگر ابن خلدون آج کے دور میں ہوتے اور وہ یہ باتیں تحریر کرتے تو شاید انہیں شدید مخالفت اور معاندانہ فتاویٰ کا سامنا کرنا پڑتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply