وزیر ہوابازی کی قلابازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

30 جون کو ایک خبر سننی کو ملی کہ ”یورپین یونین ائر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشل ائرلائنز (پی آئی اے ) کے یورپین ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے“ اس فیصلہ سے پی آئی اے کے ریونیو کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جائے گا۔ ایاسا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹرک کائی نے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ ’ائرلائن یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اس نے سیفٹی مینیجمنٹ کے نظام کے تمام عناصر کا موثر طور پر اطلاق کیا ہے جو شکاگو کنوینشن کے مطابق درکار ہیں۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایاسا کو ملنے والی معلومات کے مطابق بدھ 24 جون کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے پاکستانی پارلیمان کو بتایا تھا کہ ایک تفتیش کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے آٹھ سو ساٹھ پائلٹس میں سے دو سو ساٹھ سے زیادہ پائلٹس کو جو حکام نے لائسنس جاری کیے ہیں وہ دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایاسا کو پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز کی درستگی کے بارے میں تشویش ہے۔‘

دنیا بھر میں رائج ایوی ایشن قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی جہاز کو اڑانے کے لیے پائلٹ کے اجازت نامہ کو لائسنس کہا جاتا ہے اور ہر ملک میں قائم ایوی ایشن اتھارٹی اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ پائلٹ تمام امتحانات اور ضروری پرواز کے گھنٹے مکمل کرنے کے بعد ہی لائسنس حاصل کرے جس کی ہر کچھ عرصے بعد تجدید ہوتی ہے۔ جس کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ائر لائن کو یورپی یونین نے یکم جولائی سے تین جولائی تک پروازیں یورپ لے جانے کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔ اس اجازت سے مسافروں کو آخری لمحے پر اپنا سفر منسوخ یا تبدیل نہیں کرنا پڑے گا۔

یورپی یونین کی ائر سیفٹی ایجنسی کے پابندی کے اعلان کے بعد پاکستان کی حکومت کی کوشش سے پی آئی اے کو تین جولائی تک آپریٹ کرنے کی اجازت ملی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سیکریٹری نے اس حوالے سے یورپ کے تمام ممالک میں پاکستانی سفیروں سے رابطہ کیا تھا۔ اس دوران پاکستانی حکام یورپی یونین سے رابطے کر کے مزید رعایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن 2 جولائی کو فرانس حکومت نے پی ائی اے حکام کو مطلع کیا کہ پیرس کے لئے خصوصی پرواز جو 3 جولائی کو آنی ہے اس کی حکومت فرانس اس وقت تک اجازت نہیں دے سکتی جب تک پاکستانی حکام ان پائلٹس کی لسٹ فراہم نہیں کرتی جن کے پاس جعلی لائسنس ہیں۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد بعض ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کیا جا رہا ہے۔ ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے پیر کو کہا ہے کہ حکومت نے ان تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا ہے جو مقامی ائر لائنز میں کام کر رہے تھے۔

کویت میں سات پاکستانی پائلٹس اور 56 انجینئرز کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ قطر اور امارت کی طرف سے بھی اس حوالے سے آئندہ چند روز میں اقدامات متوقع ہے۔ ہوابازی سے متعلق بین الاقوامی تنظیم، انٹرنیشنل ائر ٹریول ایسوسی ایشن (ایاٹا) نے پاکستان میں پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پائلٹس کے جعلی لائسنس کا ذکر کیا گیا ہے اور ہوابازی کے ریگولیٹر ادارے کی طرف سے سیفٹی کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

اس اقدام سے پی آئی اے تو تباہی کے دہانے پر پہنچ ہی گئی ہے پاکستان کی بھی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ غلام سرور خان وزیر ہوا بازی ہوتے ہوئے پی آئی اے کی ساکھ کا ہر صورت تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا غلام سرور خان وزیر ہوا بازی کا بیان ذمہ دارانہ تھا؟ کیا ایسا بیان ان کو دینا چاہیے تھا؟ اگر وزیر صاحب کا بیان واقعی درست ہے تو پھر سب سے پہلے تو جعلی پائلٹس کو نکال باہر کیا جاتا اور پھر دنیا کو بتایا جاتا کہ دیکھیں حکومت نے کیسے اپنی قومی ائر لائنز کو صاف کر کے محفوظ بنا دیا ہے۔

یورپ میں موجود پاکستانی کمیونٹی اس فیصلے کی وجہ سے متاثر ہو گی۔ کیوں کہ پی ائی اے وہ واحد ائر لائن تھی جس کی یورپ سے پاکستان کے لئے ڈائریکٹ فلائٹ تھی۔ لیکن ان تمام مسائل کے باوجود مثبت پہلو یہ ہے کہ جس طرح وزیر ہوا بازی نے بیان دیا ہے اس طرح اگر وزیر تعلیم بیان دے دے کہ ہمارے ملک میں جعلی تعلیمی ڈگریاں بھی ہیں اور مثال کے طور پر ہمارے کئی سیاستدان ماضی میں جعلی ڈگریوں کی وجہ سے نا اہل ہو چکے ہیں۔ جس سے دیار غیر میں کام کرنے والوں کو جعلی تعلیمی ڈگریوں کا ابہام پیدا کر کے ان لوگوں کو فارغ کروا کر اپنے ملک میں خدمت کا موقعہ دیا جا سکتا ہے۔

اگر اس سے بھی کام نہ بنا تو پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ بہت زیادہ پاسپورٹ غلط طریقے سے بنائے گئے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ دیار غیر میں ہماری کمیونٹی کو وطن واپس بھیج کر ملک میں اپنے خدمات دینے کا موقع مل جائے گا۔ اور پی ٹی ائی حکومت نے الیکشن سے پہلے جو کہا تھا کہ ہماری حکومت میں باہر سے لوگ آ کر ملک میں نوکریاں کریں گے ان کی یہ بات بھی درست ثابت ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *