اسٹاک ایکسچینج کے ”4 مسنگ پرسنز“ اور اصل مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”حامد میر کے چار مسنگ پرسنز اسٹاک ایکسچینج سے برآمد“ یہ وہ طنز ہے جو بی ایل اے کے اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کی مماثلت کسی حد تک 2018 ء میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد بلوچستان کے مسنگ پرسنز کی لسٹ میں شامل تھے۔ یہ بات قومی میڈیا پر دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے بھی کی تھی جبکہ اس کی تصدیق کراچی میں ”ڈی ڈبلیو“ کے نمائندے نے بھی کی تھی۔

اگرچہ مجھے ایسی باتوں، خبروں اور بیانات کی حقانیت پر قطعاً کوئی شک نہیں مگر بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما ہیں؟ کیا ان سوشل میڈیا ٹرینڈز اور خبروں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام مسنگ پرسنز کالعدم اور قوم پرست جماعتوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور ٹریننگ کی غرض سے بھارت و افغانستان میں موجود ہیں، اس وجہ سے ان کے گھر والے انہیں مسنگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ بنا بتائے گھر سے چلے جاتے ہیں؟

ممکن ہے یہ بات کسی حد تک درست ہو بلکہ درست بھی ہے اور ایک نہیں، درجنوں کیسوں میں یہ بات ثابت بھی ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود مسنگ پرسنز کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے اس انداز میں دبایا یا چھپایا جا سکے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہو چلا، جنرل پرویز مشرف بھی مسنگ پرسنز کے معاملے میں یہی دلیل دیا کرتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ قوم پرست جماعتوں کے بجائے جہادی جماعتوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ یادش بخیر اس حوالے سے وہ ایک عورت کا حوالہ اپنی ہر تقریر اور مسنگ پرسنز کے حوالے سے پوچھے جانے والے ہر سوال کے جواب میں دیتے تھے کہ وہ عورت کسی طرح اپنے بیٹے کی تصویر کے ہمراہ ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی، اس کا جواں سال بیٹا مسنگ تھا، جنرل صاحب کی ذاتی کاوشوں پر ایجنسیوں کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ بیٹا فلاں جہادی تنظیم میں شمولیت اختیار کر چکا ہے اور اب افغانستان یا کشمیر، جانے کہاں ہے۔

اسی دور میں مرحومہ مدیحہ گوہر کا ایک لانگ پلے سرکاری ٹی وی سے نشر ہوا، پوری کہانی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو جہادی تنظیموں کے خوشنما نعروں میں پھنس کر گھر سے فرار ہو کر تنظیم کی خاطر پاکستان میں دھماکا کرنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ مرکزی تھیم یہی تھا کہ یہ جو مسنگ پرسنز کا شور ہے، دراصل یہ وہ جہادی ہیں جو پاکستان میں دھماکے کر رہے ہیں، ایک ڈیڑھ دہائی میں فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اب جہادی تنظیموں کی جگہ قوم پرستوں کا نام لیا جاتا ہے، پہلے اگر مذہبی طبقے کے لوگ زیادہ غائب ہو رہے تھے تو اب قوم پرست زیر عتاب ہیں، پہلے مسنگ پرسنز پر جو لبرلز شادیانے بجاتے تھے، اب وہی اس پر سیخ پا ہیں۔

میں پہلے بھی عرض کیا کہ یقیناً کئی کیسوں میں اور حالیہ اسٹاک ایکسچینج حملے میں بھی مارے جانے والے کم از کم ایک فرد کا نام مسنگ پرسن لسٹ میں تھا، تاہم سوال یہ ہے کہ تمام مسنگ افراد میں ایسے افراد کا تناسب کیا ہے؟ درحقیقت مذکورہ جماعتوں میں شامل ہونے والے بیشتر افراد بھی دلبرداشتہ و متنفر افراد تھے، جنہیں پہلے ”غائب“ کیا گیا، بعد ازاں چھوڑ دیا گیا مگر پھر وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ اپنا کام یکسوئی سے کر سکیں کہ دوبارہ غائب ہونے کا خطرہ مسلسل ان کے سر پر منڈلاتا رہا، نتیجتاً انہوں نے کالعدم جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

عذر گناہ بدتر از گناہ، میں کسی دہشت گردی کی تاویل نہیں کر رہا مگر مسئلہ کو سمجھنے کے لیے اس کے تمام پہلوؤں کو بخوبی جاننا ضروری ہوتا ہے۔ کیا مسنگ پرسنز کے مسئلے کو ڈھکوسلا سمجھنے والے اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی کسی دور میں ”مسنگ پرسنز“ لسٹ میں شامل تھیں، کیا عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بعد ”جہادی تنظیم میں شمولیت“ کا ڈرامہ نہیں رچایا گیا تھا؟ کیا مسعود جنجوعہ آج تک مسنگ نہیں؟

کیا مسز آمنہ مسعود 2005 ء سے اپنے شوہر و دیگر مسنگ پرسنز کی بازیابی کی تحریک نہیں چلا رہیں؟ ماما قدیر کے بھارت سے متعلق بیان کی کوئی بھی محب وطن تائید نہیں کر سکتا، مگر اس کے بیٹے کی گمشدگی اور بعد ازاں مسخ شدہ لاش کی صورت میں برآمدگی کوئی افسانہ ہے؟ کیا کالعدم حزب التحریر کا نوید بٹ کوئی چھلاوہ تھا جو غائب ہو گیا؟ کیا بلوچستان وزارت داخلہ کی رپورٹ کہ 2010 ء کے بعد بلوچستان سے ایک ہزار سے زائد مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جھوٹ پر مبنی ہے؟

کیا سینیٹ کی کمیٹی نے مسنگ پرسنز سے متعلق معاملے پر پنجاب، سندھ اور بلوچستان حکام کو طلب نہیں کیا تھا؟ کیا ملک بھر میں پچھلی جمہوری دہائی کے دوران ہزاروں بلوچ، پختون اور سندھی لاپتا نہیں ہوئے؟ ہم تو ایسے دور کے چشم دید گواہ ہیں جہاں مسنگ پرسنز کے حوالے سے ایک انوکھا احتجاج دیکھنے کو ملا جس میں صرف خواتین نے شرکت کی تھی کیونکہ ان کے بقول مرد اب احتجاج میں اس وجہ سے شرکت نہیں کرتے کہ مسنگ پرسنز کے لیے احتجاج کرنے سے وہ خود بھی مسنگ ہو جاتے ہیں؟

کسی دور میں افتخار چوہدری کا نام مسنگ پرسنز کے لیے امید کی کرن تھا، پھر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دیا تو وہ نگاہوں میں جچنے لگے مگر ہوا کیا، خود سپریم کورٹ نے اس حوالے سے کمیشن بنایا جس کی سربراہی موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے پاس ہے، (گزشتہ دنوں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق جسٹس جاوید اقبال آج بھی ہفتے میں ایک یا دو دن گمشدہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہیں اور اب تک کئی مسنگ پرسنز کو بازیاب کروایا جا چکا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی کسی تنظیم سے وابستہ نہیں پایا گیا) کیا ان سب باتوں کو جھٹلایا جا سکتا ہے؟

مسنگ پرسنز صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہیں، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں جبری گمشدگیوں کا دھندہ جاری ہے، دوسری طرف پوری دنیا سے جبری طور پر مسنگ پرسنز کے حوالے سے 46 ہزار سے زائد کیسز اقوام متحدہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

جب یہ ساری باتیں حقیقت ہیں تو مسنگ پرسنز کو کیوں ایک طعنہ بنا دیا گیا ہے؟ کیوں اس معاملے کو دبایا جا رہا ہے؟ کیوں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ دراصل افراد کے بنا بتائے گھر سے چلے جانے کا معاملہ ہے؟ کیا دھول قالین کے نیچے چھپانے سے گندگی ختم ہو جاتی ہے؟

اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں عموماً چار قسم کے مسنگ پرسنز ہیں۔
1۔ قوم پرست کارکن، جن میں زیادہ تر بلوچ و سندھی شامل ہیں، ان پر مسلح مزاحمتی تحریک میں حصہ لینے یا اس کی حمایت کا الزام ہے۔

2۔ کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد، جن پر ان تنظیموں سے تعلق، حمایت یا سہولت کاری کا شبہ ہے۔ قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا سے اکثر گمشدہ افراد کا تعلق اس کیٹگری سے ہے۔

3۔ سیاسی جماعتوں بالخصوص سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز سے تعلق رکھنے والے افراد۔
4۔ جو انسانی حقوق اور مسنگ پرسنز کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اکثر این جی اوز کے کارکن بھی لاپتا ہوئے۔

دو سال قبل اس حوالے سے ایک نئے باب کا اضافہ ہوا تھا، اور یہ وہ افراد تھے جو نام نہاد لبرلز اور ایکٹوسٹ تھے۔ ان پر سوشل میڈیا پر توہین مذہب کا الزام تھا مگر یہ سبھی افراد نہ صرف یہ کہ بازیاب ہو چکے ہیں بلکہ بعض تو اپنے کیے کا اعتراف کرنے کے بعد ملک سے بھی فرار ہو چکے ہیں۔

بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ ایسا چھوٹا نہیں کہ اسے یونہی دبا دیا جائے، یہ ایک حقیقت ہے جسے جلد یا بدیر ہمیں تسلیم کرنا ہی ہے، پھر اس معاملے میں اس قدر تساہل کیوں؟ کیوں اس معاملے میں تجاہل عارفانہ سے کام لیا جا رہا ہے؟ بہتر ہوگا کہ جس قدر جلد ہو سکے اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے اور مسنگ پرسنز کی بازیابی کو ممکن بنانے کے لیے اقدام کیے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *