کیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق ہمارے معاشرتی مسائل حل کرتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یونیورسٹی کا نام سنتے ہی انسان کے ذہن میں بہت بڑے اور عظیم تعلیمی ادارے کا تصور ابھرتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کی ابتدائی تہذیبوں میں کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہوتا تھا۔ تعلیم استاد اور شاگرد کے رشتہ کے ذریعے ہی دی جاتی تھی۔ طالب علم استاد کے گرد جمع ہو جاتے تھے اور اس سے علم حاصل کرتے تھے۔ رومیوں کے زمانہ میں بھی تعلیمی اداروں کا ذکر ملتا ہے جہاں خصوصیت سے فن خطابت، گرامر، منطق اور قانون 1209 ء میں بنائی گئی۔

برطانیہ کی ان دو یونیورسٹیوں کا دنیا کی ترقی میں بہت بڑا حصہ ہے۔ ہر سبجیکٹ اور موضوع پر ان اداروں میں تحقیق کی جاتی ہے اور اس تحقیق کو عوام الناس کے کے سیاسی، معاشی، صنعتی اور روزمرہ کے معمولات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تعلیم کا مقصد انسان میں شعور پیدا کرنا اور اس کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی تعلیم شعور اور زندگیوں میں آسانی نہیں دے سکتی تو پھر ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں کا ملکی ترقی میں بڑا اہم کردار ہے۔ انسانی زندگی میں موجود تقریباً تمام مسائل پر وہاں ریسرچ کی جاتی ہے اور ان کا آسان اور قابل عمل حل تلاش کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں یونیورسٹیوں میں ایسے ایسے مضامین شامل کیے گئے ہیں جو وقت کی ضرورت کے عین مطابق ہیں اور وقت کے مطابق لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ فزیکل سائنس ہو یا سوشل سائنس دونوں کا انسانی زندگی میں بڑا کلیدی کردار ہے۔ ان یونیورسٹیوں میں ہونے والی ریسرچ بھی پریکٹیکل قسم کی ہوتی ہے جو کہ انسانی زندگی میں فوراً نافذالعمل ہو سکتی ہے اور ان کے مسائل کو کم کر دیتی ہے۔

چین، جاپان اور جرمنی نے یونیورسٹیوں میں ہونے والی ریسرچ کو عام زندگی میں استعمال کر کے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔ یہ تینوں ممالک اس لیے بھی قابل تعریف ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی قومی زبان کو کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا۔ یہاں تک کہ تمام سائنسی معلومات اور سائنسی ریسرچ پیپرز کو اپنی زبان میں ترجمہ کر کے عام لوگوں کے سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آسان بنا دیا۔ انسان جتنی روانی اور مہارت سے اپنی مادری یا قومی زبان میں اظہار خیال کر سکتا وہ کسی بھی مانگی ہوئی زبان میں ممکن نہیں۔

یہاں پر انگریزی کی مخالفت ہر گز نہیں کی جا رہی ہاں لیکن یہ ضرور ہے کہ علم کو سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آسان بنایا جائے۔ ہمارے ہاں تو عدالتوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مقدمات اردو زبان میں لڑے جاتے ہیں۔ فیصلہ انگلش میں لکھا جاتا ہے۔ جبکہ مدعی اور ملزم سرائیکی، پنجابی، پشتو یا سندھی زبان بولتے اور سمجھتے ہیں۔ یہ یقین سے کہا جا سکتا ہوں کہ انگریزی میں لکھا ہوا فیصلہ وکیل بھی صحیح معنی میں نہیں سمجھ سکتا، مدعی اور ملزم کو تو بالکل ہی چھوڑ دیں۔

کیونکہ وکالت کا امتحان بھی ہمارے ہاں جس طرح سے پاس کیا جاتا ہے پوری دنیا بہت اچھی طرح سے جانتی ہے۔ ہمارے ہاں یونیورسٹیاں جو پروڈکٹس پیدا کرکے مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں وہ پریکٹیکل لحاظ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ رہی سہی کسر پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے پوری کر دی ہے جہاں صرف آپ ریگولر فیس جمع کراتے رہیں تو ڈگری آپ کو یقینی طور پر مل ہی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ یوں سمجھیں کہ یہاں پر ڈگریاں خریدی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ سب سے بڑا بیگاڑ یونیورسٹیوں میں سمیسٹر سسٹم نے پیدا کیا ہے۔ اساتذہ کرام بھی دس میں سے ایک چیپٹر پڑھا دیتے ہیں اور انہی میں سے امتحان لے کر سٹوڈنٹس کو نوے فیصد سے زائد نمبر دے دیے جاتے ہیں۔ جس مضمون میں سٹوڈنٹ نے ماسٹر کیا ہوتا ہے اگر آپ ان میں سے کوئی بھی لفظ ان سے پوچھ لیں تو ان کا جواب یہ ہوگا کہ یہ ٹوپیک ہم نے نہیں پڑھے تھے۔ دراصل اس طرح اسٹوڈنٹ بھی خوش رہتا ہے اور استاد بھی۔ دس میں سے ایک چیپٹر پڑھا کر اپنے آپ کو حلال تنخواہ کا حقدار سمجھتا ہے۔

اینول سسٹم میں یہ ہوتا تھا کہ استاد سٹوڈنٹس کو سارہی ہی کتاب پڑھایا کرتا تھا کیونکہ پر چہ جات دوسری یونیورسٹی بناتی تھی لہذا کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا سوالات امتحان میں آئیں گے۔ اب یہ حالت ہے کہ چھ مہینے میں چار سوالات پڑھا کر چار سوالات پر ہی مشتمل ایک پرچہ طالب علم کو دے دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امتحانی سسٹم میں موجود دوسری خرابیاں نقل، سفارش وغیرہ علیحدہ طور پر قابل بحث ہیں۔ یونیورسٹیوں میں ملازمت کا حصول بھی مکمل طور پر سیاسی اور سفارشی ہے۔

وائس چانسلر ڈین یا چیئرمین کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے امیدوار کو منتخب کیا جائے جو ان کی باقی ماندہ ملازمت کے اندر ان کے جوتے اٹھاتا رہے اور تابعدار بن کر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں آپ کو کو تخلیقی اور پر اعتماد اساتذہ کم اور فضول قسم کے سیاسی اور ڈپلومیٹک لوگ زیادہ ملیں گے۔ جن کا مقصد صرف اپنی ترقیاں اور پیسے کا حصول ہوتا ہے۔ تخلیقی کاموں سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کو گورنمنٹ بیرونی ممالک بھیج کر لاکھوں روپے خرچ کر کے پی ایچ ڈی کرواتی ہے وہ بھی واپس آ کر کولہو کے بیل بن کر زندگی گزارتے ہیں۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں کئی پروفیسرز حضرات ایسے ملتے ہیں جن کی سروس کو پچیس سے تیس سال ہوچکے ہوتے ہیں مگر آج بھی ان کو کوئی بھی ریسرچ پیپر لکھنا نہیں آتا اور جن ٹوپیک پر یہ لوگ ریسرچ کروا رہے ہوتے ہیں وہ کئی سو سال پرانے ہوتے ہیں۔ سائنس مضامین کے پروفیسرز ہمیشہ یہی گلہ کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں یہاں سہولیات نہیں ملتی ورنہ چاند پر تو ہم اگلے دن پہنچ جاتے۔ یورپ یا ترقی یافتہ ملکوں سے واپس آنے کے بعد بیس سال تک وہاں کے قصے کہانیاں سناتے رہتے ہیں لیکن وہاں سے سیکھا ہوا کوئی ایک بھی تخلیقی کام کام یہاں کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔

پچھلے کئی سالوں میں تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جن لوگوں پر لاکھوں روپے خرچ کر کے گورنمنٹ نے باہر پڑھنے کے لئے بھیجا وہ واپس ہی نہیں آ ئے اور جو کسی وجہ سے واپس آ جاتے ہیں وہ اس ملک اور قوم میں لاکھوں کیڑے نکالتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یورپ کے قصے سنا تے سنا تے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ آج بھی پچھلے پانچ سال میں ریٹائر ہوجانے والے پروفیسرز کا ڈیٹا اٹھا کر دیکھ لیں کہ ان پر حکومت نے کتنا خرچ کیا اور انہوں نے قوم کو کیا دیا جواب یقیناً صفر ہوگا۔

سائنسی مضامین میں یونیورسٹیوں میں جو تحقیق ہو رہی ہے ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک تحقیقی مقالہ کے اندر دس سے پندرہ پروفیسرز کے نام لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور پڑھنے والا بھی انگشت دندان یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس چھوٹے سے کام کو پندرہ لوگوں نے اپنے حصے میں کیسے تقسیم کیا ہوگا۔ اور کئی اساتذہ کرام تو ایسے ہیں کہ جن سائنسی مشینوں اور آلات کو استعمال کرکے انہوں نے تحقیق کی ہوئی ہوتی ہے وہ سرے سے ان کی یونیورسٹیوں میں یا ملک میں موجود ہی نہیں ہوتیں۔ آپ ان سے حلفیہ پوچھ لیں جن سائنسی مشینوں کا ذکر اپنے ریسرچ پیپرز میں کرتے ہیں کیا انہوں نے زندگی میں وہ کبھی دیکھے ہیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا جواب نہیں میں ہوگا۔

یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو ہمارے اعلی تعلیمی اداروں میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں پر مقصد یونیورسٹیوں کی خدانخواستہ تذلیل کرنا ہرگز نہیں ہیں بلکہ ایک نکتہ یہ بیان کرنا ہے کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کی جامعات پر ہوتا ہے۔ اگر ہم آج بھی یونیورسٹیوں میں ملکی مسائل سے متعلقہ ریسرچ اور تحقیق کروانا شروع کر دیں لیکن یہ تحقیق حقیقت، سچ اور ایمانداری پر مبنی ہو تو ہم ملک کے بہت سارے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سب سے زیادہ سیاسی بھرتیاں چاہے وہ اساتذہ کرام کی ہوں یا انتظامی امور میں کام کرنے والے افسران کی وہ یونیورسٹی میں ہی ہوتی ہیں۔ ایم این اے اور ایم پی اے بھی کلاس فور کی ملازمتیں اپنے کوٹہ سسٹم پر یونیورسٹیوں میں ہی کرواتے ہیں۔ مختصر یہ کہ یونیورسٹی میں کوئی بھی بھرتی بغیر سفارش کے نہیں ہوتی۔ سب سے پہلے اساتذہ کرام اور انتظامی امور کے آفیشلز کی بھرتی کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے یا کسی بھی امتحانی اور مقابلہ کے سسٹم سے گزار کر کیا جائے۔ چاپلوس، نا اہل اور ڈپلومیٹک قسم کے اساتذہ کو یونیورسٹیوں میں بھرتی نہ کیا جائے۔ جب ایک مقابلے کی فضا قائم ہوگی تو قابل اور محنتی اساتذہ کرام یونیورسٹیوں میں آئیں گے تو وہ ملک کی ترقی میں ضرور کردار ادا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply