عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ: آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں، ارشد پپو سمیت 198 قتل کے واقعات میں ملوث ہونے کا انکشاف

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عزیر بلوچ

AFP

سندھ حکومت نے عزیر بلوچ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو پیر جولائی کو عام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کو اس رپورٹ کی دستخط شدہ کاپی حاصل ہوئی ہے، جس میں سابق صدر آصف علی زرداری سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ملوث ہونے کا کوئی ذکر شامل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اس رپورٹ کی دستخطوں کے بغیر کچھ نقول میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں آصف زرادی اور ان کی بہن فریال تالپور کے کردار سے متعلق بھی دعوے کیے گئے۔

اس سے قبل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں نے بھی نجی ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت کچھ ہے، جس کی وجہ سے سندھ حکومت اس رپورٹ کو عام نہیں کر رہی ہے۔

رپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے۔

تاہم جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہے کہ کس کے ذریعے یہ تبادلے کیے گئے۔

لیاری آپریشن

AFP
رپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے

عزیر بلوچ کے بارے میں انکشافات

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خوف کی علامت عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں ایکشن، تھرل، سپنس سب کچھ ہی ہے جو اس کے بیان کو بالی ووڈ ایکشن مووی کا اسکرپٹ بنا دیتی ہے۔

’پولیس موبائیلوں میں سوار پولیس افسر اور گینگسٹر نے تین لوگوں کو اغوا کیا، ان تین لوگوں کا ایک گدام میں قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات گٹر میں پھینک دیں۔‘

خیال رہے کہ یہ بالی ووڈ کی انڈر ورلڈ پر بنی ہوئی کسی فلم کے سین نہیں ہے بلکہ لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ کا اعترافی بیان ہے، جو اس نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کو دیا۔

جن تین لوگوں کو قتل کیا گیا ان میں ارشد پپو اور اس کے دو ساتھی شامل تھے۔ ان پر عزیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام تھا۔

پولیس کے ساتھ پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی نے اپریل 2016 کو عزیر جان بلوچ کا بیان رکارڈ کیا تھا۔

والد کے قتل کا بدلہ

جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ 10 اکتوبر 1977 کو لیاری کے علاقے سنگو لائن میں پیدا ہوئے اور مقامی کالج سے انٹر تک تعلیم حاصل کی۔ عزیر سنہ 2000 میں اپنے والد فیض محمد بلوچ کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شامل ہوئے۔

عزیر بلوچ نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں 2001 میں لیاری کے ٹاؤن ناظم کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

عزیر کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب سنہ 2003 میں ان کے والد فیض محمد بلوچ کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا اور بدلہ لینے کے لیے عزیر نے رحمان ڈکیت کے گینگ کو جوائن کر لیا۔

عزیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام ارشد پپو گینگ پر آیا تھا۔

ارشد پپو کا انجام

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مارکر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 کو 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، دیگر اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات، اور شیرا پٹھان کو اغوا کرلیا یہ واردات پولیس موبائیلوں کے ذریعے کی گئی جن کا انتظام انسپکٹر جاوید نے کیا تھا۔

جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں عزیر نے بتایا کہ ان تینوں کو آدم ٹی گدام لے جایا گیا جہاں انھیں قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات کو گٹر میں پھینک دیا گیا۔

اپنے سب سے بڑے مخالف ارشد پپو کو راستے سے ہٹانے کے بعد عزیر بلوچ خود لیاری کا کنگ بن گیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق عزیر سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2008 تک مختلف الزامات میں سینٹرل جیل میں قید رہا۔

سنہ 2008 میں رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عزیر بلوچ نے گینگ کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد رکھی۔

قتل کے 198 واقعات

جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ نے بلواسطہ یا بلاواسطہ قتل کے 198 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں گینگ وار کے علاوہ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے قتل بھی شامل ہیں۔

عزیر بلوچ نے بتایا کہ سنہ 2012 کو ڈالمیا سے حاجی اسلم اور اس کے دو بیٹوں کو طلب کیا اور انھیں بابا لاڈلہ کے حوالے کیا تاکہ منشیات فروش حنیف بلوچ کے قتل کا بدلہ لے سکیں بعد میں اس کے ساتھیوں نے تینوں کو قتل کرکے لاش نامعلوم جگہ پر دفنا دی۔

کباڑی مارکیٹ میں ہونے والی ہلاکتوں کا اعتراف

عزیر بلوچ نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ 11 تاجروں کے قتل کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور تشدد کے واقعات میں مزید چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ 19 اکتوبر 2010 کو کباڑی مارکیٹ میں اس کے کارندوں جبار لنگڑا، نثار،فدا اور دیگر نے ایک سیاسی جماعت کے 11 ہمدردوں کو قتل کیا تھا، جو اسی جماعت کو چندہ دیتے تھے۔

لیاری پولیس

Reuters
عزیر بلوچ نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے

پولیس اور رینجرز پر حملے

عزیر بلوچ نے چار پولیس اہلکاروں اور دو رینجرز اہلکاروں کے قتل کا بھی اعتراف کیا ہے۔ جے آئی ٹی کو عزیر نے رینجرز کے حوالدار منیر اور حوالدار اعجاز کے بارے میں بتایا ہے کہ مارچ 2013 میں شیر محمد شیخ عرف شیرو جو ایم کیو ایم الطاف کا کارکن تھا، نے بتایا کہ اس نے رینجرز کے دو اہلکاروں کو اغوا کیا ہے، جو اس کے گینگ کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے اور ان کا تعلق رینجرز کے انٹیلیجنس ونگ سے ہے۔

عزیر بلوچ کے بیان کے مطابق اس نے انھیں دو روز انتظار کرنے کا حکم دیا۔ رینجرز حکام نے اس سے رابطہ کر کے لاپتہ اہلکاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ملزم نے شیرو کو دونوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ قتل اس طرح کیے جائیں کہ لگے ایم کیو ایم اس میں ملوث ہے۔

2010 میں پولیس تھانے کلری بغدادی پر حملہ

عزیر کے مطابق انسپکٹر آصف منور نے بھتہ بڑھانے کے لیے شیراز کامریڈ کے جوئے کے اڈے پر چھاپا مارا۔ اس نے انسپکٹر آصف منور کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ چھاپا کیوں مارا ہے تو اس نے بدتمیزی سے جواب دیا۔

اس کے بعد انھوں نے اپنے کارندوں کو حملہ کرنے کو کہا جس میں پولیس کی بکتر بند سمیت مالی نقصان پہنچا۔

سنہ 2010 کو بھتے کے معاملے پر انسپکٹر چاکیوارہ باہر ہاشمی اور ڈی ایس پی سرور کمانڈو نے جبار لنگڑا کے اڈے پر چھاپا مارا، جس کے بعد اس نے جدید اسلحے ایس ایم جیز، ایل ایم جیز اور بموں کے ساتھ پولیس سٹیشن چاکیواڑہ، پولیس سٹیشن کلاک کوٹ اور پولیس کوارٹرز پر حملہ کیا۔

پولیس تعلقات اور آپریشن

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس کے پولیس کے ساتھ گہرے تعلقات بھی رہے ہیں۔ اس نے ایس پی اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرایا اس کے علاوہ سات انسپیکٹرز اور سب انسپکٹرز کو لیاری کے مختلف تھانوں پر ایس ایچ او تعنیات کرایا تاکہ وہ اس کو اور اس کے کارندوں کی مدد کرسکیں، تاہم جے آئی ٹی میں یہ واضح نہیں ہے کہ کس کے ذریعے یہ تبادلے ہوئے۔

عذیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ 6 نومبر 2012 کو اس کے دوست امین بلیدی نے لیاری ٹاون کے نائب ناطم ملک محمد خان کو لی مارکیٹ کے قریب قتل کردیا کیونکہ وہ بلوچ مخالف بیانات دیتا تھا۔

ملک محمد خان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، ان کی ہلاکت کے بعد لیاری میں آپریشن شروع ہوا۔

عزیر بلوچ نے چیل چوک آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ پولیس کو چیل چوک تک محدود کریں فائرنگ کے تبادلے میں چار پانچ پولیس اہلکار عام شہری ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

عزیر بلوچ

PakRangers

ایرانی شہریت کا اعتراف

عزیر بلوچ نے دوران تفتیش ایرانی شہریت کا بھی اعتراف کیا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عزیر نے اقرار کیا ہے کہ ان کی رشتے دار خاتون عائشہ ایران کی مستقل رہائشی ہیں، جن کے پاس پاکستان اور ایران دونوں کی شہریت ہے۔ ان کا بیٹا 14 سال کی عمر میں انتقال کرگیا تھا۔ سنہ 1987 میں ملزم کی رشتے دار نے ملزم کی تصویروں سے ایران میں اپنے بیٹے کے نام سے جعلی برتھ سرٹیفیکٹ بنوایا۔

ملزم 2006 میں لیاری میں آپریشن کی وجہ سے کزن کے ہمراہ ایران چلے گئے جہاں انھوں نے اپنا ایرانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوایا۔

عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ سنہ 2014 میں ایران کے شہر چاہ بہار میں انھیں حاجی ناصر نامی جاننے والے نے پیشکش کی کہ اس کے ایرانی انٹیلیجنس سے اچھے تعلقات ہیں، وہ ان کی ملاقات کا اتنظام کرسکتا ہے۔ ملزم کی مرضی سے اس ملاقات کا انعقاد کرایا گیا۔ جس میں ایرانی انٹیلیجنس حکام نے پاکستان کے فوجی افسران اور تنصیبات کی معلومات فراہم کرنے کے لیے کہا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عزیر بلوچ فوجی تنصیبات اور افسران کی خفیہ معلومات اور نقشے غیر ملکی ایجنسی کے افسران کو فراہم کرنے میں ملوث ہیں۔ اسی لیے سفارش کی جاتی ہے کہ ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

اس سفارش کے بعد عزیر بلوچ کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور ملٹری ٹرائل کورٹ سے بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پیپلز پارٹی

BBC

پیپلز پارٹی سے قربت اور دوری

یاد رہے کہ لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار رحمان ڈکیت کی ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عزیر بلوچ کا نام سامنے آیا تھا اور انھوں نے لیاری امن کمیٹی کی ذمہ داری سنبھالی تھی، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی ہمدرد سمجھی جاتی تھی۔

پیپلز پارٹی دور میں سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کھل کر اس کی حمایت کرتے تھے۔

امن کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی اتحادی حکومت میں تنازع کی وجہ بنی رہی، جسے بعد میں وفاقی وزیر رحمان ملک نے اس کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

لیاری میں عزیر بلوچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے متبادل اپنی سیاسی پوزیشن بنانے کی کوشش کی اور ان کے نامزد کیے گئے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیئے گئے۔

وہ پیپلز پارٹی کے قریب رہے اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ناراضی کے ساتھ وہ بھی دور ہوتے گئے، ایسی کئی تصاویر سامنے آئیں جن میں وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ موجود دیکھے گئے یا یہ رہنما عزیر کی دعوت میں شریک ہوتے۔

جے آئی ٹی میں عزیر بلوچ کے جرائم کی معاونت اور تاوان کی وصولی وغیرہ کے تو اعتراف شامل ہیں لیکن کسی سیاسی شخصیت سے تعلقات یا ہدایات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14650 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp