ایڈولف ہٹلر اور وسیم اکرم کے جرائم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلی صدی کے اواخر میں فیصلہ سازی پر ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ ماہرین نے مختلف زاویوں سے موضوع پر بات کی لیکن ایک صاحب نے فیصلہ سازی میں اخلاقیات کا ذکر کیا اور کہا کہ کئی بار آپ کے سامنے ایسے حالات ہوں گے کہ صحیح اور غلط کے درمیان واضح حصہ نہیں ہو گا بلکہ خاصہ لمبا چوڑا گرے ایریا موجود ہو گا۔ مثال اس بات کی انہوں نے بہت مزے کی دی:

”فرض کیجیے آپ کو ایک ٹائم مشین میں بٹھا کر بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں آسٹریا بھیج دیا جاتا ہے جہاں آپ اعلا ترین عدالت میں اعلا ترین جج ہیں۔ اب یہ بھی فرض کر لیں کہ اپ کے کسی فیصلے پر آپ کا کوئی احتساب نہیں ہو گا (اور ہوا بھی تو ٹائم مشین تو ہے آپ کے پاس۔ تشریف فرما کر عیش و آسٹریا چھوڑ کر واپس ماڈرن پاکستان آ جائیے گا جہاں ویسے بھی کسی کا کوئی احتساب نہیں ہو گا) ۔

ایک روز آپ کی عدالت میں ایک نوجوان کو لایا جاتا ہے جس پر قتل کا الزام ہے۔ تمام شواہد اس کی بے گناہی کی تصدیق کرتے ہیں لیکن آپ کی ایک جنبش قلم اس کو تختہ دار پر پہنچا دے گی۔ ”

اب مقرر صاحب نے شرکاء سے پوچھا، کتنے لوگ اس نوجوان کو بری کر دیں گے؟ ظاہر ہے کے تمام جواب ہاں میں تھے۔ لیکن پھر مفروضے سے بھری کہانی میں ٹوئسٹ آیا۔ مقرر نے کہا:

”نوجوان کا نام ایڈولف ہٹلر ہے، چند سال بعد وہ آسٹریا سے جرمنی جائے گا، نازی پارٹی میں شامل ہو گا، اور پھر جو ہو گا وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ اسے سزائے موت دے کر آپ دنیا کو پامالی سے بچا سکتے ہیں۔ کیا اب بھی آپ اس کو بے گناہ قرار دے کر بری کر دیں گے؟“

آج صرف اتنا یاد ہے کے منظرنامے میں معمولی تبدیلی سے ایک دلچسپ بحث کا آغاز ہوا اور شرکاء نے دونوں پہلوؤں کی اخلاقیات کے بارے میں وزنی دلائل دیے اور ہم نے دیکھا کہ کیسے فیصلہ سازی کے دوران اخلاقیات سیاہ و سفید نہیں ہوتی اور گرے ایریا فیصلے پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آج اس سیمینار کا ذکر اس لئے کیا کہ بیسویں صدی کے اواخر میں ایک اور ہٹلر نما مجرم بنام وسیم اکرم نے 25 مارچ 1992 کے دن ایسا جرم کیا جس کا خمیازہ دنیا کی ایک عظیم قوم آج بھگت رہی ہے۔ تو آئیے مفروضے کے زمان و مکان کو تبدیل کر کے اخلاقیات کا ایک اور سوال کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کے کیا اس میں بھی کوئی گرے ایریا ہے یا فیصلہ کرنا آسان ہو گا۔

اور بے فکر رہیے، نہ خدانخواستہ وسیم بھائی کو سزائے موت دینے کی بات ہو گی، اور نہ آپ جج یا جیوری کا کردار ادا کریں گے۔ محض فرض کریں کے آپ پاکستان کرکٹ ٹیم کے فیزوتھراپسٹ ہیں اور 24 مارچ 1992 کی شام ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں موجود ہیں۔ ایک بار پھر وہی تمام باتیں کہ آپ پر کوئی انگلی نہیں اٹھے گی کیونکہ آپ تو ٹائم مشین استعمال کر کے 2020 کے بہترین سال میں جب چاہے واپس آ سکتے ہیں۔ تو جناب، ورلڈ کپ کے فائنل سے ایک شام پہلے آپ وسیم اکرم کو مساج کر رہے ہیں اور بہت آسانی سے ان کی ہیمسٹرنگ سے چھیڑ چھاڑ کر کے اگلی صبح کہ لئے انھیں مکمل ان فٹ کر سکتے ہیں۔

ایسا کرنے سے قوی امکان ہو گا کہ پاکستان ورلڈ کپ 1992 کا فائنل ہار جائے۔ تو کیا آپ ایسا کریں گے؟

اب یہ تو بالکل یاد نہیں کہ بیس سال پہلے ہم نے ہٹلر کی زندگی یا موت، کس کے حق میں بات کی تھی۔ لیکن اگر وسیم اکرم والے مفروضے کا جواب ہمیں دینا پڑے تو ذہن میں کوئی گرے ایریا نہیں ہو گا۔ ہم اپنی جاب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف وسیم اکرم کو ان فٹ کر دیں گے، بلکہ جاوید میانداد کو ایسی نیند کی گولی دیں گے کہ اگر ٹیم کے کپتان انہیں صبح میچ کے لئے ڈھول وغیرہ بجا کر اٹھا بھی دیں تب بھی سارا دن وہ کرکٹ کا شاطر ترین ذہن غنودگی کے عالم میں رہے اور کپتان صاحب کو جیت کی حکمت عملی بنا کر طشت میں رکھ کر نہ پیش کر سکے۔

اور ہم انضمام کے کھانے میں جمال گوٹا ملا دیں گے۔ اور پھر اس پر بھی بس نہیں، ہم تو عاقب، معین، مشتاق، کو بھی کھیلنے کہ قابل نہیں چھوڑیں گے، بلکہ بیچارے اقبال سکندر جیسے ”ریلو کٹے“ کو بھی کوئی ٹوٹکا کر کے بارہویں کھلاڑی کے نمبر سے بھی آؤٹ کروا دیں گے۔

آخر کیوں تھوڑا سا بھی موقع دیں ان میں سے کسی کو بھی پرفارم کرنے کا اور اس ٹیم کو ورلڈ کپ فائنل جیتنے کا؟ اس جیت کی چند لمحوں کی خوشی منانے، ہوائی فائرنگ کرنے، پٹاخے پھوڑنے، بھنگڑے ڈالنے کی سزا قوم آج اٹھائیس سال بعد بھی بھگت رہی ہے۔ ٹائم مشین کی بدولت وسیم اکرم کو مین آف دی میچ پرفارمنس کے جرم سے روک کر ہم خود قوم کے ہیرو کیوں نہ بن جائیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فیصل قمر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply