عدلیہ کو تیس مار خان بننا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

12 اکتوبر 1999 کو ایک آمر نے شب خون مارا، آئین کو معطل کیا اور عبوری حکم نامہ جاری کیا، منصفوں نے حلف اٹھایا اور ”نظریہ ضرورت“ کے تحت غیر قانونی قبضے کوجائز قرار دیا۔ قاضی القضاہ نے بعد ازاں اس فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ”ارشاد“ کیا:

”کیا کوئی ایسا“ تیس مار خان ”ہو سکتا تھا جو بیک جنبش قلم مارشل لاءکو غیر قانونی قرار دے دیتا اور کیا یہ توقع ہو سکتی تھی کہ جنرل مشرف سمیت جرنیل کسی ایسے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے واپس لوٹ جاتے، اس صورتحال میں مختلف فیصلہ سے ملک و قوم کسی غیر متوقع مصیبت اور عدم استحکام میں مبتلا ہو جاتے“

ظاہر ہے یہ الفاظ اور یہ احساسات عوام کے تو نہیں۔ مگر عوام کی ناقص عقل میں یہ خیال ضرورجنم لے سکتا ہے کہ یہ کہنے والا اپنے ضمیر کا بوجھ عوام کے کندھوں پر رکھ کر خود ہلکا پھلکا کرناچاہتا ہے اوراس احسان کا ثواب الگ لینا چاہتا ہے کہ میں نے تمہیں مصیبت اور عدم استحکام سے بچالیا تھا۔

نوکری بچ گئی، تنخواہ بچ گئی، پنشن بچ گئی، خاندان موج میلے سے پل گیا۔ بڑھاپا بہترین، ڈاکٹروں، اسپتالوں اور آرام دہ گھر میں کٹ جائے گا۔

جناب عالی آپ سے عرض یہ ہے کہ ہم جھنڈے والی گاڑی کے سواروں کے لیے ہر چیز پر ٹیکس کٹواتے ہیں اپنے بچوں کے نوالے آپ کو اس لیے کھلاتے ہیں کہ آپ تیس مار خان بنیں اور کچھ کر دکھائیں۔

لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ عوام کی تکالیف پر فیصلے محفوظ، جیتے ہوئے مقدمات کی اپیلوں پر فیصلے محفوظ اور فیصلوں کی بہترین حفاظت کے لیے محافظوں سے تعلقات بھی بہترین اور محفوظ۔

عزت مآب اگر ہو سکے تو مصیبت اور عدم استحکام کی تعریف بھی واضح کردیجیے۔
شدید گرم موسم اور وبا کے دنوں میں پیٹرول کی تلاش مصیبت ہے یا نہیں۔
پانی کے حصول کے لیے ٹینکر کی تلاش پرائیویٹ نوکری کرنے والوں اور سفید پوشوں کے لیے مصیبت ہے یا نہیں؟
گندگی سے بھرے اور جراثیم اڑاتے نالے مصیبت ہیں یا نہیں؟
نوجوانوں کا لاپتاہونا، ماؤں، بہنوں، بیویوں کا بین کرنا عذاب ہے یا نہیں؟
معمولی نافرمانیوں پر طاقتوروں کا غریبوں پر کتے چھوڑ دینا عدم استحکام اور مصیبت ہے یا نہیں؟

ہاتھ جوڑے ڈاکٹروں کی لاک ڈاؤن کرنے کی اپیلوں کے جواب میں بازار کھولنے کا حکم غالباً عوام کو مصیبت سے بچانے اور صحتمند رکھنے کی آرزو کا اظہار تھا۔

جناب یہ تو محض چند مسائل ہیں، اگر آپ یا آپ کی برادری اپنی ٹھنڈی اور چمچماتی گاڑی میں عام سڑک پر نکل کر ایک چکر بھی لگائے تو بچشم خود مزید مسائل کا نظارہ بھی کرے گی۔

مگر جو لطف دو بوتل شراب کی برآمدگی پر سوموٹو لینے کا ہے۔
جو لطف ڈیم رکھوالی کا وعدہ کرکے لندن گھر بسانے کا ہے۔
جو لطف کسی کو سرتاپا چومنے کے اظہار محبت کا ہے۔
وہ لطف آئین کی بالادستی کے لیے تیس مار خان بننے میں کہاں! یہ تو سراسر خسارے کا سودا ہے۔

اب آپ ماشاءاللہ 84 برس کے ہوگئے ہیں۔ ہم آپ کو منصب سنبھالنے سے لے کر ریٹائرڈ ہونے اوراس کے بعد زندگی کی آخر سانس تک اپنا پیٹ کاٹ کر ہرسہولت بہم پہنچاتے ہیں۔ خواہش یہ ہوتی ہے کہ آپ تیس مار خان بن کر دکھائیں۔ چلیں آپ تیس مار خان نہ بنیں لیکن اپنی بزدلی اور بے ضمیری کا بوجھ ہم پر احسان کی صورت میں ڈال کر سرخرو ہونے کی کوشش تو نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نغمہ خلیل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *