اولمپک میں شکست کا جشن

منصوبہ تو یہ تھا کہ جیسے ہی پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم اپنا جیولین ہوا میں پھینکتے، روحانیت کی فیکٹری سے ایک جن ہوا میں بلند ہوتا اور ٹوکیو کی فضاؤں میں پہنچ کر جیولین کو تھام کر کانسی کے تمغے کے لیے درکار فاصلے پر گرا دیتا۔ اب جن تو اڑا لیکن اسے اونچائی سے زمین پر کچھ ایسا نظر آیا جسے وہ غلط فہمی میں نواز شریف کی کرپشن سمجھا اور اس کی تحقیق کے لیے غوطہ لگا بیٹھا۔

Read more

شاطر ملازم اور گدھا مالک

    میں اپنے ملازم سے سخت نالاں ہوں۔ ہر پہلی کو تنخواہ لینے موجود ہوتا ہے۔ پھر پورا مہینہ غائب۔ ایک بار اسے ڈھونڈتا ہوا اس کی رہائشی کالونی پہنچا۔ پہلے تو ملازم کے ملازمین اندر گھسنے نہیں دے رہے تھے۔ شناختی کارڈ اور عزت نفس گیٹ پر رکھوا کر بہت مشکل سے داخلہ ملا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میرے خدا! سڑک نامی شے کے بارے میں صرف سنا تھا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ کبھی ہمارے

Read more

نارتھ ناظم آباد کا ریپ

ریپ ہونے سے پہلے کراچی کی بستی نارتھ ناظم آباد میں ابن انشاء کی رہائش اور مشتاق احمد یوسفی کا آنا جانا تھا۔ یوسفی صاحب کے دوست بشارت نے قیام پاکستان کے بعد کاروبار میں ترقی کی تو اس بستی میں اپنا گھر بنایا اور اس کے باہر بہت محبت سے مولسری کا ایک درخت لگایا (حوالہ: ”آب گم“ ، صفحہ 240، ایڈیشن 1990) ۔ آج جب اس بستی کا مسلسل ریپ دو دہائیوں سے جاری ہے، نارتھ ناظم آباد

Read more

سندھ میں انسانوں کی نس بندی

صوبہ سندھ میں آوارہ انسانوں کی بہتات کی وجہ سے عزت دار کتوں کی آبادی کو مسائل درپیش ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ یہ انسان وقتاً فوقتاً کتا مار مہم کے مطالبے کرتے رہتے ہیں۔ مقام شکر یہ کہ سندھ کے مالکان کتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لاڑکانہ میں کتوں کے غول نے انسانی بچے کو بھنبھوڑ دیا، کراچی میں ایک باپ اپنی بچی کو پاگل کتوں سے بچاتے ہوئے ریبیز کا شکار ہو کر مر گیا۔ کچھ سرکاری

Read more

میں ہوں فواد عالم

کرک انفو پر میچ کمنٹری کے دوران ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی تمام قسمت فواد عالم کے نام لکھوا سکے۔ یہ میچ کا وہ دورانیہ تھا جب میچ بچانے یا جیتنے سے زیادہ پاکستانی شائقین فواد عالم کو سنچری کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔ ان عام پاکستانیوں کو فواد میں اپنا عکس نظر آ رہا تھا۔ گیارہ سال سے وہ اپنی کارکردگی کی فائل لیے کرکٹ بورڈ کے دروازے کھٹکھٹاتا رہا۔

Read more

شکوہ، ایک سٹریٹ کریمینل کا

غضب خدا کا، لوگ خودکشی جیسے حرام فعل کو جائز کرنے کے لئے ہمارا استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی کل ایک صاحب پر پستول تان کر موبائل کا مطالبہ کیا۔ جناب بھڑ گئے مجھ سے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو ٹھوکنا ہماری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ بھئی سٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت نہیں کی جاتی، یہ بنیادی اصول تو بچوں کو بھی سکھا کر گھر سے بھیجا جاتا ہے۔ موبائل سنیچنگ کی تابندہ تاریخ کراچی میں دو دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے، اور اگر کسی کو اب تک اس بنیادی اصول کا علم نہیں تو یہ لاعلمی نہیں بلکہ جہالت ہے۔ کسی کے پاس بھلے سے پی ایچ ڈی کی سند ہو، لیکن اگر اس کے پاس سڑک کی عقل (سٹریٹ سمارٹس) نہیں ہے تو وہ ان پڑھ ہے اور اس کے ساتھ وہی ہونا چاہیے جو میں نے ان صاحب کے ساتھ کیا۔

Read more

وزن گھٹائیے، کیلوریز اور قوم کو جلائیے

وزن کم کرنا آسان ہے اگر آپ کے ارد گرد موجود افراد آپ کی ہمت توڑنے کے درپے نہ ہوں۔ اگر ہوں بھی تو بجائے اس کے کہ آپ ان سے بحث کریں یا ہار مان لیں، بہتر یہ ہے کے ان کے سامنے مظلوم بن جائیں۔ مثال کے طور پر، دعوتوں میں لوگ اصرار کرتے ہیں بے حساب کھانے پر۔ ارے صرف اتنا سا کھایا، اور لیجیے نا، ابھی سے ہاتھ روک لیا، کیا کھانا پسند نہیں آیا، وغیرہ۔ اگر جو غلطی سے آپ نے کہ دیا کے وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے آپ کو۔ جیسے وزن کم کرنا کوئی جرم ہو، اور شاید ہے اس معاشرے میں جہاں پیٹ پتلون کی بیلٹ کے اوپر سے ابل رہا ہو تو اسے صحت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عزت بھی ملتی ہے کہ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔

Read more

جنسی ہراسانی کی مظلوم اسی وقت آواز کیوں نہیں اٹھاتیں؟

فیصل نیند سے جاگا، موبائل میں سوشل میڈیا کی فیڈز دیکھیں، اور سخت کوفت میں مبتلا ہو گیا۔ ایک اور محترمہ کو اپنے ساتھ ہوئی کئی سال پرانی جنسی ہراسانی یاد آ گئی تھی اور اپنی مظلومیت کا رونا آج رو رہی تھیں۔ جھوٹی عورت، فیصل نے سوچا، اگر سچی ہوتی تو اسی وقت بولتی نا۔ تب تو بولی نہیں اور آج کسی شریف انسان کی عزت ٹویٹر پر اچھال رہی ہے۔ فیصل کو اس شریف انسان سے بہت ہمدردی محسوس ہوئی۔

Read more

ہائبرڈ چلڈرن

ایک آن لائن لغت میں لفظ ”ہائبرڈ“ کا ترجمہ تھا، ”دو نسلا“۔ اب گاڑیوں کی حد تک تو دو نسلا پن اچھی بات ہے۔ ایندھن کی بچت، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، وغیرہ۔ انسان کے بچے بھی دو نسلے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اچھے خاصے یک نسلی بچے کو زبردستی ہائبرڈ بنایا جائے تو یہ بات قابل تحسین نہیں لگتی۔ پھر بھی آج کل یہ چیز فیشن کا حصہ بن چکی ہے اور والدین اپنے لاڈلوں کو ہائبرڈ بنانے پر تلے نظر آتے ہیں۔

ایک جاننے والے کے گھر جانا ہوا۔ خاتون خانہ نے کسی سے کہا، ”شیک ہینڈز کرو۔“ یہ لفظ ”شیک“ سنتے ہی میں چھلانگ لگا کر صوفے پر چڑھ گیا۔ در اصل ”شیک“ کی کمانڈ کتوں کی ٹریننگ میں استعمال ہوتی ہے۔ کتے کو سکھایا جاتا ہے کہ بیٹھ کر کس طرح ایک پاؤں اوپر کرنا ہے اور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہاتھ ملانا ہے۔

Read more

خوبصورتی کا انخلا

ذہانت کے انخلا (برین ڈرین) کہ بارے میں پریشان ہونے کا وقت تبھی گزر چکا تھا جب مشرق وسطیٰ کے صحرا میں تیل پھوٹا اور ہمارے صحراؤں کی قسمت پھوٹی۔ اب خوبصورتی کا انخلا (بیوٹی ڈرین) بھی تیزی سے جاری ہے، لیکن فوری عملی اقدام سے شاید اسے روکا جا سکتا ہے۔ اب یہ بات تو ماننے والی ہے کہ خوبصورت لوگوں کی زندگی بھی پرکشش ہوتی ہے۔ چمکتی گاڑیاں، شاہانہ پارٹیاں، اور بدصورت ان کے قدموں میں۔ سو خوبصورتی

Read more

بچوں کو اپنے پیشے کی آگاہی دیں

سڑک پار کرتے ہوئے ایک صاحب کو دیکھا جو موٹر سائیکل روک کر اپنے بچے کو تابڑ توڑ تھپڑوں سے نواز رہے تھے۔ پہلے تو سوچا، ہمیں کیا، لیکن پھر ہمیں مرنے کا شوق جاگا اور ان صاحب کو نیک نصیحت کر بیٹھے۔ سامنے سے ٹھیٹ پاکستانی سوال آیا، ”تم ہوتے کون ہو میرے معاملے میں بولنے والے؟“

اس سوال کا ایک جواب تو ہے خاموشی اور اپنی راہ لینا، دوسرا اپنے منہ کا سامنے والے کے مکے سے تعارف کروانا، اور تیسرا درویشی کی راہ لے کر محبت سے سمجھانا۔ اور یہ تیسرا طریقہ کام کر گیا۔ ان صاحب کو ڈوروتھی نولتے کی نظم ”بچے جیسے رہتے ہیں وہی سیکھتے ہیں“ کے کچھ اقتباسات سنائے اور کہا کہ آپ کے طرزعمل سے یہ معصوم بچہ ایک بلند کردار، با عمل انسان کے بجائے عادی مجرم، کوئی موبائل سنیچر وغیرہ ہی بن سکے گا۔

Read more

لاک ڈاؤن کے دنوں میں کرپشن

سنتے تھے کہ کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے دنوں میں اس کا حقیقی ادراک ہوا۔ لوڈو کھیل کھیل کر جب بور ہو گئے تو کیرم بورڈ کی ڈھونڈ مچی۔ نوے کی دہائی کے آخر میں خاندانی کیرم کو کمبل میں لپیٹ کر زمانے کے گرم سرد سے مکمل محفوظ کر دیا تھا۔ عزت مآب جناب مشرف کے مارشل لاء، ایم کیو ایم کے بھتوں، کراچی کی چائنا کٹنگ، بارہ میئی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، بن لادن صاحب کی ہلاکت و شہادت، زرداری صاحب کی مسکراہٹ و صدارت، شریف خاندان کی خدمت و حکومت، غرض وقت کی کون سی چیرہ دستی تھی جس سے اس بورڈ کی حفاظت نہیں ہوئی۔ بالآخر جب ملک میں دودھ اور شہد کے دریا بہنے لگے تو بورڈ بھی اپنا جوبن دکھانے باہر نکلا، لیکن معلوم ہوا کہ گوٹیاں ندارد۔ دودھ کے دریا میں یوں لگا کہ کسی کم ظرف نے مینگنیاں ملا دیں ہوں۔

Read more

ایڈولف ہٹلر اور وسیم اکرم کے جرائم

پچھلی صدی کے اواخر میں فیصلہ سازی پر ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ ماہرین نے مختلف زاویوں سے موضوع پر بات کی لیکن ایک صاحب نے فیصلہ سازی میں اخلاقیات کا ذکر کیا اور کہا کہ کئی بار آپ کے سامنے ایسے حالات ہوں گے کہ صحیح اور غلط کے درمیان واضح حصہ نہیں ہو گا بلکہ خاصہ لمبا چوڑا گرے ایریا موجود ہو گا۔ مثال اس بات کی انہوں نے بہت مزے کی دی: ”فرض کیجیے آپ

Read more