کورونا وائرس۔۔۔ تعلیمی ادارے ابھی نہ کھولے جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر گزرتے دن کے ساتھ کوروناوائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی ہے چاہے ترقی پذیر ممالک ہوں یا ترقی و تہذیت یافتہ، تمام تر کوششوں کے باوجود اس وبا پر قابوپانے میں تاحال ناکام ہیں اور پوری دنیا دوراہے پر کھڑی ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے خصوصاً غریب ممالک کے لیے یہ لمحات کسی بہت بڑی آزمائش اور امتحان سے کم نہیں کیونکہ اگر مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ملکی معیشت تباہ اور غریب عوام بھوک و افلاس اور نہ کرنے کی صورت میں بیماری سے مرتے ہیں اور یہی کچھ ہو رہا ہے

اگر وطن عزیز پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو جب چھبیس فروری کو کورونا کی ابتدا ء ہوئی تو اس کے بعد مختلف علاقوں سے روزانہ ایک دو مریضوں میں اس مہلک بیماری کی تشخیص کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے شخص میں کورونا وائرس کی منتقلی اور مریضوں کی تعداد بڑھنے پر حکومت کو مجبوراً ملک میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا

لاک ڈاؤن کے دوران بھی مریضوں کی تعداد میں قابل برداشت اضافہ ہورہا تھا لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ایک طر ف ملکی معیشت تباہ حالی کا شکار ہو رہی تھی تو دوسری طرف عوام فاقہ کشی پر مجبور ہورہے تھے حکومت اور فلاحی اداروں نے اپنی حد تک لوگوں کی امداد کی کوشش بھی کی لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی غربت کا راج ہو لوگ بمشکل دو وقت کی روٹی پوری کر رہے ہوں اور آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو تو اتنے لوگوں تک بغیر کسی سروے، رسائی اور پھر کئی ماہ تک راشن پہنچا نا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن سی بات تھی اور ہے

اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بعض علاقوں سے مکمل لاک ڈاؤن ختم کرنے اور بعض علاقو ں میں حسب ضرورت سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد زندگی تو کسی حدتک رواں دواں ہوئی لیکن عوام کی جانب سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بے احتیاطی کا مظاہرہ کیا گیا اور حکومتی ایس او پیز کو نہ صرف درخور اعتناء نہ سمجھا جانے لگابلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا گیا اور ابھی تک اڑا رہے ہیں انتہائی مقام افسوس ہے کہ آج بھی عوام کا ایک طبقہ اس بیماری کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نظر نہیں آتا

جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی ہر آنے والے دن متاثرہ مریضوں اور جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جہاں روزانہ ایک دو مریض سامنے آرہے تھے اب درجنوں مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہو رہی ہے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تادم تحریر وطن عزیز میں دو لاکھ اکیس ہزار افراد میں مرض کی تصدیق جبکہ ساڑھے چار ہزار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں

ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کو کھولنا کسی بہت بڑے خطرے سے خالی نہیں ہوگا بچوں کا قیمتی وقت ضائع اور تعلیمی مستقبل تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ سکولوں با الخصوص نجی تعلیمی اداروں کے مسائل اپنی جگہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں سٹاف کی تنخواہیں پوری کرنا تو درکنار کرایہ کی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کے مالکان کے لیے ماہانہ کرائے اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی بھی مشکل ہوکررہ گئی ہے جس کی وجہ سے ادارے بند اور ملازمین بے روزگا ر ہورہے ہیں اور بعض گھروں میں فاقہ کشی تک نوبت پہنچ چکی ہے جو کہ تشویشناک بات ہے لیکن اس تمام تر کے باوجود حکومت کو اس کا متبادل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے

اگر تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کی شرط پر کھولا گیا تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ ان ایس او پیز پر عمل درآمد بھی ہوگا جبکہ ہم اس کا پہلے ہی تجربہ بھی کرچکے ہیں کہ اگر ہمارے بڑے اپنی جان بچانے کے لیے کسی کی بات نہیں مان رہے تو بچوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے اور پھرنجی سیکٹر میں زیادہ تعداد چھوٹے سکولوں کی ہے جن کے پاس وسائل محدود اورسکول عمارتیں اتنی چھوٹی ہیں کہ چھوٹے چھوٹے تنگ کمروں میں بمشکل دس بیس بچے ٹھونس کر بٹھانے کی گنجائش موجود ہے تو ایسے حالات میں بچوں سے کورونا ایس او پیز پر کیسے عمل درآمد کروایا جاسکے گا اور کون سی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی

اگر ہم اپنے معاشرے اور ارد گرد نظر ڈالیں تو ہر گھر کے کم از کم دو تین بچے ان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور اگر خدانخواستہ سکولوں سے کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تو ہمارے لیے سنبھالنا مشکل ہو کر رہ جائے گا اور بچوں کی محبت شفقت اور پیار کا تقاضا ہے کہ والدین یا بہن بھائی ان سے سماجی فاصلہ بھی برقرار نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ہی کورونا پروٹوکول پر عمل درآمد، ایسے ماحول میں کوئی گھر بھی اس مہلک و جان لیوا بیماری سے بچ نہیں سکے گاجبکہ صحت کے شعبہ میں ہمارے پاس پہلے ہی کوئی نظام موجود نہیں علاج معالجہ تو دور کی بات ٹیسٹنگ اور تشخیص بھی سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گی جبکہ ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات پہلے ہی سب کے سامنے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اتنا بڑا رسک لینے کی بجائے حکومت تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے اس حوالے سے اساتذہ و سکول تنظیمات نے اپنی ڈیمانڈز بھی حکومت اور حکومتی نمائندوں کے سامنے رکھ دی ہیں ان کی روشنی میں حکومت مسائل کا حل تلاش کر سکتی ہے اسی طرع بچوں کے لیے آن لائن تعلیم یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ سہولیات فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے کی ضرورت ہے لیکن جب تک کورونا وبا کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تعلیمی ادارے ہر گز نہ کھولے جائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments