اقتدار آنی جانی چیز ہے: وزیراعظم کو کس نے سمجھایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرائع ابلاغ سمیت حکومتی ہم نوا سیاسی تجزئیہ کا ر حلقوں میں وفاقی بجٹ کی منظوری کو حزب اختلاف کے لئے شرمندگی کا باعث قرار دیا جارہا ہے تو کیا بجٹ کی نامنظوری کا فی الواقع کوئی سیاسی خدشہ موجود تھا۔ ؟اگر اس پر غورکریں تو حاصل کرنے والے جواب کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بجٹ کے متعلق حزب اختلاف اپنے سیاسی مقصد کے حصول میں کامیاب رہی کیونکہ قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں کو جو اکثریت حاصل ہے اس کے پیش نظر قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا البتہ حزب اختلاف نے اس موقع پر سیاسی ہلچل کے ذریعے حکومتی اتحاد اور پی ٹی آئی کے اندر دراڑیں پیدا کیں۔ مخلوط حکومت کے لئے پارلیمان میں عددی برتری برقرار رکھنا لازم ہوتا ہے اور جب بھی اس برتری کی گنتی کا مرحلہ درپیش آتا ہے حکومتی ارکان اور اتحادی جماعتیں جن کے کندھوں پر حکومت قائم ہوتی ہے وہ اپنی کم تعداد کی افادیت منوانے کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ حزب اختلاف ایسے مواقع پر حزب اقتدار کی صفوں میں اضطراب پیدا کرنے اور کم تعداد والی پارٹیوں یا پھر ناراض ارکان کی افادیت میں اضافہ کر کے حکومتی حلقوں میں بے چینی خوف کی لہر دوڑ دے حالیہ بجٹ کے پہلے مگر اہم مرحلے میں حزب اختلاف نے اپنا یہ ہدف خوبصورتی سے حاصل کرگئی ہے چنانچہ حکومت کا یہ اعتراف کہ اس نے سب ناراض اراکین اسمبلی کو منالیا ہے بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بجٹ کی منظوری کی مرحلے میں اسے خطرات درپیش تھے یعنی عددی اکثریت کھودینے کا خدشہ نظر آرہا تھا۔ 28 جون کی شب دیئے گئے عشائیہ اور عرصہ دراز کے بعد وزیراعظم کا دربار قومی اسمبلی تشریف لانا ان نفی خدشات کو دور کرنے کی کوشش تھے یہ الگ بجٹ ہے کہ جناب عمران خان اسمبلی اجلاس میں دوران تقریر جو کچھ فرماگئے اس سے ان کی سیاسی بصیرت پر کوئی حرف نہیں آیا۔ البتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی سیاسی بساط پر اسکے کردار بارے پہلے سے ظاہر کئے جاتے تحفظات کو تقویت ملی ہے۔ اسامہ کو شہید قرار دینا زبان پھسلنے کا عمل ہے یہ عمران کے لاشعور سیاسی میلانات کی ترجمانی تھی اور مملکت کی نزاکت ملکی پالیسی کے خدوخال تضادات اور ملکی مفادات کے ادراک سے قطعی مختلف ہیں اسی لئے میں نے کہا ہے کہ ان ارشادات سے ان کی سیاسی ساکھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن شاید ایسا بھی نہیں ہوا اقتدار میں آنے سے قبل بھی عمران خان کے ایک ایسے ہی بیان پر ان کی جماعت کے شہری بالائی متوسط طبقے میں جھنجلاہٹ مشاہدہ میں آچکی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ خان اسمبلی اجلاس میں خاموش رہ کر شمولیت کی راہ اپنالیں۔ مگربات بجٹ کی منظوری سے نکل کر کہیں دور چلی گئی تھی۔

صاحبو یہ بات طے تھی اور نوشتہ دیوار تھی اور یہ عاجز اس کا اظہار بہت پہلے کرچکا یہ بجٹ تین حوالوں سے منظور ہونا طے شدہ امر تھا۔ الف:یہ بجٹ عالمی مالیاتی اداروں کا بجٹ تھا اور اسے منظور ہونا ہی تھا۔ آئی ایم ایف بجٹ کی منظوری کیلئے حکومت پر انحصار نہیں کرتی کہ بدقسمتی سے برے ملک کا اقتدار اعلیٰ کئی دہائیوں سے اسکے دستوری تقاضوں کے برعکس پارلیمانی اداروں کے ہاتھ نکل کر پنڈی کے معروف گرجا گھر کے آس پاس جا چکا ہے۔ آئی ایم ایف بھی اپنے معاملات طے کرتے ہوئے صرف ریاست کے مقتدر حلقے پر بھی انحصار کرتا ہے۔ اور اس بجٹ کی منظوری بھی اسی انداز سے ہوئی ہے جبکہ بجٹ میں سب سے زیادہ دلچسپی اس حلقے کی ہوئی ہے جس کیلئے سب سے زیادہ وسائل مختص ہوں۔ یہ دوسری وجہ پہلے سبب سے ملک کر گہرائی می اتر کراثر کرنے والی صورت ہے تو بجٹ جن کا تھا انھوں اسے ہر حال میں پاس کرانا تھا یہ نکتہ ناراضگی اور اختلافات کا اظہار کرنے والے اتحادیوں کو سب سے زیادہ بہتر طور پر معلوم تھا، ق لیگ نے الگ عشائیہ کا اہتمام آنے والے دنوں کے سیاسی خدوخال واضح کرنے کی ابتدا کے طور پر کیا تھا بجٹ میں انہوں نے ووٹ دے کر ہمارے خیال کی تصدیق کی ہے راجہ ریاض کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا وہ پی ٹی آئی میں جہانگیر گروپ کے رکن ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں ان کی تنقید بجٹ کے بعد کے حالات کی پیش بندی ہے۔ بجٹ کی منظوری میں ان جہانگیر ترین گروپ کے تعاون کا اظہار تھا۔ عمران خان کیلئے بلکہ ان کے لئے جن کا بجٹ تھا اور جو اسے پاس کرانے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

ج۔ حزب اختلاف کے لئے بھی اس بجٹ کا من وعن پاس ہوجانا سیاسی حکمت علمی کے عین مطابق اوروہ بھی طاقت کے مراکز سے تعلقات میں کشیدگی سے گریز کررہے ہیں ثانوی طور پر عالمی سرمایہ داری سے جڑے تھا۔ اتحادی مسلم لیگ، پیپلزپارٹی سمیت دائیں بازو کا روایتی تصو ر گروہ عالمی مالیاتی اداروں پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن اسے اتنا خفا نہیں کرنا چاہیں گے کہ کل اگر ان کی حکومت آئے تو عالمی سرمایہ دار اور اس کے مالیاتی ادارے تعاون سے انکار کردیں۔

اہم ترین نکتہ جو اپوزیشن کی پالیسی کو قابل تقسیم بناتا ہے وہ بجٹ کے خد وخال ہیں۔ کسی بھی زاوئیہ نظر سے بجٹ عوام دوست نظریہ نہیں آتا بجٹ میں شرح نمو میں اضافہ نہ ممکن نہیں تو اس سے معاشی گراوٹ بے روزگاری افراط زر کی شرح اور معیشت میں ٹکراؤ غیر متوقع نہیں یہ بجٹ عوام کے وسیع تر حلقوں میں حکومت مخالفت اضطراب بے چینی واحتجاجی منظم کرسکتا ہے جس کی اپوزیشن کو ضرورت ہے وہ عمران حکومت کو صرف اقتدار سنگھاسن سے نکالنے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ سیاسی عمل سے الگ کردینے کی خواہاں ہے جبکہ عمران خان اپنے عمل سے اپوزیشن کی اس طویل المدت گہرے اثرات والے ہدف کی تکمیل کے لئے مکمل معاونت کررہے ہیں سینٹ اجلاس میں اپوزیشن کم تعداد میں شرکت کرئے یا احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ نتیجہ بجٹ کی منظوری کی صورت سے نکلے گا جسے بین السطور میں لکھا جملہ یا تعاون کیا جائے گا مگر اس کے سیاسی اسباب و عمل کو درمیان میں رکھنالازمی ہے۔

اہل خبر کی سرخیل احباب نے عمران خان کے اپنے بارے میں فرسودہ ناگزیری کے دعویٰ پر جتنے عنوانات وموضوع سخن کیے ہیں بیشتر حوالوں کو محیط اور ماضی کے مزمودات کے ذکر سے نصیحت کے علاوہ بہت کچھ کے ممکنات کا مجموعہ ہے۔ میرے لئے اس جملے میں دو پہلو قابل ذکر ہیں۔

”میرا کوئی متبادل نہیں“ کیا عمران خان نے اپنی جماعت کے ارکان کو پیغام دے رہے تھے جن کی بابت اقتدار کی راہداریوں میں وزیراعظم بننے کی خواہش و کوشش کی کروٹیں سنائی دی گئی ہیں؟

کیا عمران خان عوام سے کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں؟ یا اس جملے کے ذریعے انہوں نے مان لیا ہے کہ انہیں مسند اقتدار تک ایک متبادل کے طور پر لایا گیا تھا تاہم اس مفروضے کی حقانیت کا انحصار اس پر ہے کہ واقعی عملی کارکردگی سے عمران خان خود ماضی کی حکومت کا بہترین متبادل ثابت کریں۔ معیار کا یہ پیمانہ عمران خان کے پلڑے کے خلاف جاتا ہے۔ بطور وزیراعظم ان کے عہدے کا احترام اور انحصار آئین کے ان معینہ اصولوں میں طے کیا جا چکا ہے کہ حکمران کون ہوگا اس کا ناقابل تنسیخ حق پاکستان کے عوام کے پاس ہے اگر کسی کو اپنے ناگزیر ہونے کا پختہ یقین ہے تو پھر ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ عوام سے دو بارہ رجوع کریں مگر پہلے مکمل بندوبست کریں کہ کوئی طاقت عوام کے ووٹ کے تقدس کو پاؤں تلے نہیں روند سکے گی۔ شفاف منصفانہ آزادانہ پرامن جمہوری فیصلہ سازی کا اہتمام کیجئے پھر دیکھئے عوام کے پاس کتنے متبادل اور معقول متبادل موجود ہیں اگر عوام کی اکثریتی رائے آپ کے فرمان خود پسندی پر مہر تصدیق ثبت کریں تو آپ کی عظمت کو جھک کر سلام۔ اس کے برعکس نتیجہ نکلے تو آپ پر لازم ہوگا کہ اس فیصلہ پر عوام کو ان کی قوت فیصلہ و بصیرت کو دونوں ہاتھوں سے سلام پیش کر کے رخصت ہو جائیں

انتخابات محض کارکردگی کی بنیاد پر جیتے جاسکتے تو دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کا دفاع ممکن بنانے ا ور اسے فتح یاب کرانے کے بعد چرچل اور اسکی جماعت انتخاب نہ ہارتی، عوام، حکومتوں کے اسلوب، مستقبل پر اسکے اثرات اور معاشی حرکیات پر اثر انداز ہوئے فیصلوں کو بھی اجتماعی بصیرت کے اظہار میں مد نظر رکھتے ہیں۔ خان صاحب کو برطانیہ کی تاریخ کو تو یاد رکھنا چاہئے اور ایک آئینی ریاست میں شخصی حکمرانی کے نعرے بلند کرنے کی بجائے آئین کی بالادستی کے روبرو تسلیم خم کرنا چاہئے خان صاحب کا فرمان آئین کی جمہوری روح کے سراسر منافی، پارلیمانی طرز حکمرانی کی مسلسل بے توقیری کا ایک نیا حوالہ ہے آئین شکنی کے مماثل ہے

پس نوشت:۔ 30 جون کو اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم نے متبادل نہ ہونے والے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے یوٹرن لیا اور بڑی عاجزی سے اقتدار کو آنی جانی چیز قرار دیا اپنے ساتھیوں کو نصیحت کی وہ حکومت کو دائمی نہ سمجھیں۔ لگتا ہے انہیں بتا دیا گیا کہ آپ ناگزیر نہیں رہے اور متبادلات موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *