1947ء ۔۔۔ پناہ گزین کیمپ کے چند روز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو بہنوں تین بھائیوں اور خیمہ نما برقعہ میں ملبوس ایک خیمہ ہی کی طرح ہماری حفاظت بنے چاروں طرف دیکھتی ہماری والدہ ہمیں ساتھ لئے تعلیم الاسلام سکول پہنچ چکی تھیں۔ فوراً رضاکار خواتین ہمیں ایک کمرہ میں پہنچا آئیں۔ بڑے بھائی تیرہ سال کے ہونے کی وجہ سے مردانہ کیمپ (جو غالباً ملحقہ کالج کی عمارت میں تھا) میں موجود ہمارے بہنوئی کے پاس پہنچا دیے گئے۔ کمرے سے فرنیچر نکال پرالی بچھا دی گئی تھی۔ جہاں ہر خاندان جگہ کے مطابق ڈیرہ ڈال رہا تھا۔

ہماری بڑی شادی شدہ بہن جو اپنے گھر سے ہم سے پہلے یہاں پہنچ چکی تھیں ڈھونڈتی آ گئیں اور پھر بچوں کو بھی لے آئیں۔ مٹی کے آب خوروں میں پانی پلایا گیا۔ اندھیرا ہونے والا تھا۔ ابلی ہوئی گندم کے ساتھ نمک مرچ کی پڑیاں کھانے کے لئے دی گئیں۔ بجلی تو تھی نہیں۔۔۔ بڑے کلاس روم جیسے کمرے میں ایک آدھ لالٹین کا انتظام کر دیا گیا تھا۔ ہم دونوں بھائی باہر نکلے۔ سکول کی بلڈنگ کے باہر اور ملحقہ کھیتوں میں کجھور کی بنی صفوں اور بانس کی مدد سے چار دیواری سی کر دی گئی تھی۔

جا بجا ترتیب سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر غالباً شہر کے تمام پانی کا نلکا (ہینڈ پمپ) لگانے والے۔ رضاکاروں کی مدد سے نلکوں کا بور کر رہے تھے۔ چند جگہ ان بور کردہ سوراخوں کے ارد گرد کجھور کی چٹائیوں سے پردے کرکے لیٹرینوں کی شکل دی گئی تھی۔ کہیں ترتیب سے نلکے لگائے جا رہے تھے۔ اس رات بہت کم پانی مہیا کیا گیا تھا۔ رات یاد نہیں شاید برقعوں کے بچھونے بنا سو کر گزری۔ صبح پھر وہی گندم ابلی ہوئی کا ناشتہ۔ لیکن لیٹرین اور نلکے کافی لگ چکے تھے۔

اور سارا انتظام خواتین کے ہاتھ آ چکا تھا۔ گیارہ بارہ سال تک کے لڑکے مردانہ حصہ سے سپلائی لانے پر مامور تھے۔۔۔ (بڑے ہونے پر پڑھا کہ باؤنڈری کمیشن میں بدنیتی کی افواہوں کے ساتھ ہی جماعت احمدیہ کے محترم سربراہ کی ہدایت پر سالانہ جلسہ کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہنگامی حالات کے لئے تمام پہلؤوں پر غور کرتے پوری منصوبہ بندی کر لی گئی تھی) اور آگے کیمپ میں موجود لڑکیاں بچیاں مقررہ نگرانوں کی نگرانی میں تقسیم کر رہی تھیں۔ دودھ صرف دودھ پیتے بچوں کے لئے تھا۔ باہر نوجوان چوکس جو ہتھیار میسر تھا لئے باری باری پہرہ دیتے۔ مستقبل کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ ہر دم دعاؤں اور قرآن مجید کی تلاوت کا زور تھا۔

دو تین دن گزر گئے کھانے کو کبھی ابلی گندم کبھی ا بلے چنے۔ کبھی بھنے چنے ملتے۔ شاید ایک آدھ مرتبہ روٹی دال بھی ملی۔

ایک دن مردانہ سے سے میرے بہنوئی نے رابطہ کیا۔ ان کا کوئی سکھ گہرا دوست ان سے ملا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ ان کے ساتھ جا کر گھر سے کوئی سامان لانا ہو تو مدد کر سکتا ہے۔ والدہ نے چابیاں دیں اور خصوصی ہدایت کی کہ گھر میں کئی سیر پڑے پیاز ضرور لیتے آئیں کہ رش کی وجہ سے بچوں کی آنکھیں اور دیگر بیماریوں کی مدافعت کے لئے استعمال کیے جا سکیں۔ ہمارے گھر میں شہر کے ببیرونی علاقہ میں رہائش پذیر ہماری ہمشیرہ کے علاوہ والدہ کے بہت تعلق والی ایک اور فیملی کا سامان بھی تھا جو اپنے نابینا حافظ قرآن بیٹے بہو کے ساتھ رہتی تھیں اور مرد کلکتہ میں کاروبار پر تھے۔

بہنوئی کو پہچان تو تھی نہیں۔ واپس آئے تو ان خاتون کے تین چار صندوق۔ بستر۔ پیاز کچھ آٹا اور جو سمجھ آیا لے آئے۔ بھینسیں ان دوستوں کے حوالہ کر دی گئیں۔ وہ صندوق اسی کمرہ میں مقیم ان خاتون کے حوالے کیے گئے۔ مجھے یاد ہے ان میں کلکتہ سے بھیجی گئی ولائتی ٹافیاں گولیاں موجود تھیں۔ جو کئی خواتین کو بچوں کا دودھ میٹھا کرنے کے کام لائی گئیں۔۔۔

شور مچا کہ پاکستان سے کچھ فوجی ٹرک قادیان کی آبادی کے انخلا کے لئے آنے کا بندوبست ہو گیا ہے۔ اور سب سے پہلے انتہائی چھوٹے اور شیر خوار بچوں والے خاندان بھیجے جائیں گے۔۔۔ نو ٹرک اور تین ٹرک مسلح پاکستانی فوجیوں کی حفاظت میں دو تین دن کے وقفہ سے آئے۔ مجھے یاد نہیں کہ نو پہلے آئے تھے کہ تین۔ تاہم ہم میں سے کوئی پہلے والوں میں سوار نہ ہو سکا کہ انتظام برقرار نہ رہا۔ دوسرے آنے والے ٹرکوں کو کھڑکی سے ہی آتے دیکھ والدہ سب کو لے باہر آ گئیں۔

جانے کس طرح ہمت کرتے پہلے ہماری بڑے بھائی سے بڑی بہن کو اٹھا کر ٹرک میں پھینکا۔ ساتھ ہی بڑا بھائی کودنے میں کامیاب ہوگیا بڑی ہمشیرہ کے تین ماہ کے بچے منیر کو ( آج 3 جولائی اتفاق سے اس کی تہتر ویں سالگرہ بھی ہے ) بہن کے حوالہ کرنے میں بھی کامیاب ہو گئیں۔ پھر فوجیوں اور انتظامیہ کو بتاتے کہ چھوٹا بچہ اندر ہے اور ماں باہر۔ اس طرح میری بڑی بہن اپنے خاوند اور باقی تین بچیوں کے ساتھ اس قافلہ میں سوار ہونے میں کامیاب ہوتے پاکستان روانہ ہو گئیں۔ والدہ نے کیمپ میں آتے ہی پر چیوں پر نام والد صاحب کا نام۔ کلکتہ کا ایڈریس اور لاہور میں مقیم ہماری دوسری بہن کے نام پتے لکھ کپڑے کی گانٹھ ڈال تعویذ کی شکل ہر بڑے اور بچے کے گلے میں ڈلوا دیے تھے۔ اسی طرح بھنے چنوں کی پوٹلیاں بنا رکھی تھیں۔ جو ساتھ دی گئیں۔ ۔ ۔

کیمپ میں رش کچھ کم اور سہولتیں کچھ بڑھ گئیں تھیں۔ قادیان کے اصل باسی سکھ ہندو خفیہ طور سامان مہیا کرنے میں کامیاب ہو جاتے شہر کا مرکزی علاقہ حکومت ہند سے شاید خصوصی اجازت کے ساتھ صرف مردوں کے کنٹرول میں تھا اور رہا۔ مجھے یاد ہے جب لیٹرین کا بور بھر جاتا تو پھر اس کو مٹی سے بند کر دوسری جگہ بور کر دیے جاتے۔ تاہم عارضی نالیاں بنانے کے باوجود کچے میدانوں میں کیچڑ پانی اور تعفن پھیل چکا تھا۔

چند دن اور گزر گئے۔ پہلے قافلوں کی بخیریت لاہور پہنچنے کی اطلاعات بھی آ گئیں مگر ساتھ ہی پنجاب کے ہر علاقہ سے پاکستان جانے والے مہاجروں کے قافلے لٹنے قتل عام ہونے خواتین کی بے حرمتی اور پوری کی پوری ٹرینوں کے لاشوں سے پٹے ہوئے پاکستان پہنچنے کے ساتھ پاکستان سے ہندوستان ہجرت کر کے آنے والے قافلوں سے بھی بعینہ یہی سلوک ہونے اور درندگی روا رکھنے کی خبریں بے چینی اور خوف ہم بچوں کے دلوں میں بھی بڑھا رہی تھیں جو بڑوں کے باتیں کرتے ہم سن لیتے۔ کہ اس طرح کشیدگی میں اضافہ ہوتا جاتا تھا، ماسٹر تارا سنگھ کا نام بطور حکومت ہند کی سرپرستی میں فسادی سرغنہ ہر زبان پہ تھا

اکتوبر کا شاید آخری ہفتہ آ چکا تھا کہ دن چڑھے پاکستان سے تین فوجی ٹرکوں کی معیت میں سولہ بسوں کا قافلہ سکول کے باہر سڑک پر موجود تھا۔ انتظامیہ پہلے تجربوں سے سیکھ سکون اور اطمینان سے منظم طور بچوں والے خاندانوں کو سوار کرا رہی تھی۔ بپیچھے رہ گئے میری والدہ بڑی بہن اور ہم دونوں چھوٹے بھائی ایک بس میں سوار ہونے میں کامیاب ہو چکے۔ کچھ سامان بھی رکھنے کی اجازت مل گئی تھی۔ سہ پہر کے قریب ہم قادیان کو دعاؤں کے ساتھ الوداع کہہ رہے تھے۔

ایک فوجی ٹرک آگے ایک درمیان ایک پیچھے تھا ہر بس کی چھت پہ ایک یا دو مسلح فوجی موجود تھے۔۔۔ قادیان سے بٹالہ تک سڑک کچی تھی۔ قصبہ سے نکلتے ہی کچھ دور نہر کی پٹری پر رواں قافلہ کے دونوں طرف لٹے قافلوں کی لاشوں کا تعفن تھا کہ سورج غروب سے قبل پاکستان سے قادیان کی باقی ماندہ آبادی نکالنے کے لئے آنے والے قافلے نے آگے شدید خطرے کی اطلاع دیتے واپسی کا حکم دیا اور یوں واپس مڑتے قصبہ میں کرفیو شروع ہو جانے کی وجہ سے رات قصبہ کے باہر کھیتوں میں پڑاؤ کیا جس کی کہانی اور پاکستان کے سفر کی داستان پہلے بیان کر چکا۔

ایک حیران کن اور بظاہر ناقابل یقین اتفاق میری زندگی میں موجود ہے کہ اس وقت ساڑھے چھ سال کا یہ لئیق احمد۔ چوالیس سال بعد دسمبر 1991 جب میں اپنی بیوی اور بڑی بیٹی کے ہمراہ ایک قافلہ کے ساتھ قادیان گیا تو اٹاری سٹیشن پر ٹرین سے اتر بسوں کے قافلہ میں سوار قادیان پہنچتے بس ابھی رکنے کے لئے بریک لگا ہی رہی تھی کہ میرے منہ سے اونچی رندھی آواز میں یہ فقرہ نکلا۔ ۔ ۔ بیگم یہ تو اسی سکول کے باہر آ کھڑی ہوتی لگتی ہے۔ جہاں سے ہم ہجرت کرتے بسوں پر سوار ہوئے تھے۔ اور جب رکی تو اسی کمرے کے باہر والی جگہ پہ تھی۔ اور جب میں اتر کر مردوں کی اس قیام گاہ میں گیا۔ تو مجھے قیام کے لیے اسی کمرہ میں لے جایا گیا۔ جہاں چوالیس سال پہلے کچھ یادگار دن گزرے تھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *