کرونا کے دنوں میں فاصلاتی نظام تعلیم و تدریس۔ ایک قابل تحسین اقدام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم و تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر موجودہ دور میں اس کی افادیت اور اہمیت دو گنا ہو گئی ہے۔ اب جبکہ کرونا کی وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے گزشتہ مارچ سے بند پڑے ہیں اور کروڑوں طلبہ و طالبات اپنے اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی حرج روکنے اور انہیں اپنی پڑھائی سے منسلک رکھنے کی غرض سے بہت سے تعلیمی اداروں نے فاصلاتی نظام تعلیم و تدریس یعنی آن لائن ایجوکیشن سسٹم متعارف کرایا ہے۔ ہر ادارہ اور اس کی انتظامیہ اپنی اپنی بساط اور رسائی کے مطابق اس نظام کو بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت نے بھی تعلیم گھر اور ٹیلی سکول کے نام سے اس مقصد کے لیے پراجیکٹ ایپلی کیشن کا استعمال متعارف کرایا ہے۔

پاک ترک معارف انٹر نیشنل سکولز و کالجز نے بھی اپنے طلباء و طالبات کے لئے ایک مثالی فاصلاتی نظام تعلیم و تدریس متعارف کرایا ہے جو آن لائن ایجوکیشن سسٹم میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ انہوں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کرونا کے ابتدائی دنوں میں ہی کر دیا تھا تاکہ بچوں کی تعلیم کا حرج اور نقصان نہ ہو۔

پاکستان میں کرونا نے فروری مارچ میں جڑیں پکڑنا شروع کردی تھیں اور وسط مارچ سے تعلیمی ادارے بند ہونا شروع ہو گئے۔ یکم اپریل سے سکول انتظامیہ نے بلیک بورڈ اوپن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے نام سے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا اور اپنا تدریسی نظام اس جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا۔ اس طرح ورچوئل کلاس رومز متعارف کرائے گئے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے 1100 اساتذہ کی تربیت کی گئی۔ انھیں تعارفی سیشن اور سیمینارز میں شریک کیا۔

ترکی سے ماہرین تعلیم اور اس نظام کے ماہر اساتذہ نے اس نظام کی وضاحت کی۔ 13000 طلباء و طالبات کو اس سسٹم میں داخل کر کے ان کا اندراج کیا اور ان کا بائیو ڈیٹا اور معلومات درج کی گئیں۔ تربیت یافتہ اساتذہ نے اس بلیک بورڈ اوپن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے آن لائن کلاسز لینا شروع کر دیں۔ کچھ کلاسز آن لائن جبکہ کچھ ریکارڈ اسباق تھے جو بچوں کو دیے گئے۔ اس سسٹم کی خاص بات فالو اپ پروسیجر ہے یعنی بچہ صرف سبق لیتا ہی نہیں بلکہ اسی سسٹم کے ذریعے اپنا ہوم ورک اور اسائنمنٹ جمع کراتا ہے۔ اساتذہ اسے سسٹم کے ذریعے چیک کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ بچے براہ راست اپنے اساتذہ سے سوال اور اساتذہ براہ راست جواب بھی دے سکتے ہیں۔

اسی آن لائن سسٹم میں بچوں کی تدریسی اور سبقی صلاحیت بھی اساتذہ جانچ سکتے ہیں۔ اساتذہ کو یہ بھی پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ کون بچہ آن لائن سیشن لے رہا ہے اور کون غیر حاضر ہے۔ اساتذہ سکول کا نصاب اور کتب پڑھا رہے ہیں۔ یہی نہیں لیسن بلکہ بچوں کی مطالعہ اور پڑھائی میں دلچسپی قائم کرنے کے لئے کی غرض سے سٹوری ٹائم بھی رکھا گیا ہے انگریزی اور ترکی بھی پڑھائی جا رہی ہے۔ بچے باقاعدگی سے صبح 9 بجے سے دوپہر اڑھائی بجے تک یہ آن لائن کلاسز لیتے ہیں۔

سوموار سے جمعہ تک کلاسز کا شیڈول ہے۔ یوں بچے منفی سرگرمیوں اور فارغ بیٹھنے کی بجائے آن لائن کلاسز میں مشغول رہتے ہیں اور ان کا ذہن مثبت طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اساتذہ اور بچے گھر پر رہ کر کرونا کی و باء کی باوجود اپنی پڑھائی میں مصروف ہیں۔ یوں یہ نظام اب 13 ہزار طلبہ و طالبات اور 1100 اساتذہ کے ساتھ بڑی کامیابی سے چل رہا ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فاصلاتی تدریس کا یہ جدید نظام اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک کہ کرونا کی وبا ختم نہیں ہو جاتی۔ حالات نارمل نہیں ہو جاتے اور بچے واپس اپنے سکولوں میں دوبارہ نہیں آتے۔

جہاں تک اس آن لائن سسٹم کی فیڈ بیک کا تعلق ہے تو سبھی والدین بے حد مطمئن اور خوش ہیں کہ ان کے بچے گھر پر اپنے اسباق اور پڑھائی میں مصروف ہیں۔

پاک ترک معارف انٹرنیشنل سکولز اور کالجز کے ایجوکیشن کوآرڈنیٹر مسٹر بورا اوزلر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد آن لائن ایجوکیشن سسٹم ہے جو انتہائی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور جس میں تمام خوبیاں محدود موجود ہیں۔ ترکش معارف فاؤنڈیشن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ہارون کو چک الاداع لی نے اپنے اس قابل مثال آن لائن ایجوکیشن سسٹم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے اس دور میں یہ نظام بچوں اور والدین کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس سے بچے ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس میں دلچسپی لیں گے جو ان کے ایجوکیشن کیرئیر کے ساتھ ساتھ لائف اور پروفیشنل کیرئیر میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اس بلیک بورڈ اوپن لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کے دوسرے مرحلے کا آغاز 8 جون سے ہو چکا ہے جس کا افتتاح وفاقی وزیر تعلیم پاکستان جناب شفقت محمود صاحب، صوبائی وزیر تعلیم پنجاب جناب مراد راس، ترکش ڈپٹی وزیر تعلیم جناب ریحا دینامچ، ترک سفیر پاکستان جناب مسٹر مصطفے یورداکل، چیئرمین ترکش معارف فاؤنڈیشن پروفیسر ڈاکٹر بیرول اقگن اور کنٹری ڈائریکٹر پاکستان جناب ہارون کو چک الاداع لی نے 18 جون 2020 کو کیا اور اس آن لائن سسٹم کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکش معارف فاؤنڈیشن فی الوقت پوری دینا کے 43 ممالک میں 332 سے زائد تعلیمی ادارے چلا رہی ہے جس میں تقریباً 44000 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ پاکستان میں یہ فاؤنڈیشن 27 سکولز و کالجز 10 سے زائد شہروں میں اپنی سر پرستی میں 13000 طلباء و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔ لاہور میں 5 کیمپس اور 3500 سے زائد طالب علم اور 500 کے قریب سٹاف ہے۔ ہیں فاونڈیشن پاکستان سمیت دینا بھر میں اپنے معیار تعلیم اپنے مشن اور وژن کی وجہ سے مسلسل کامیابیاں سمیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اور تعلیمی میدان میں قابل قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

فاؤنڈیشن کا قیام 2016 ء میں عمل میں آیا اور یہ ترکش پارلیمنٹ کے اسپیشل ایکٹ کے تحت بنائی گئی۔ یہ ایک ترک ریاستی ادارہ ہے جو حکومت ترکی کے تحت اور سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ ریاست ترکی کے نام پر پوری دنیا میں سکولز، کالجز، ہوسٹلز، ڈارمیٹریز، کا مجاز ہے۔ فاؤنڈیشن بچوں کی وظائف بھی فراہم کرتی ہے اور تعلیمی کیرئیر میں ان کی مدد کرتی ہے۔ ترکش معارف فاؤنڈیشن کے فارغ التحصیل بچے ترکی سمیت دینا کی نامور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ہر سال ہزاروں طلباء و طالبات ان اداروں میں یا ان کے توسط سے تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرر ہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 12 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti

Leave a Reply