مغرب، مذہبی آزادی اور مفتی صاحبان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الزبتھ دوم برطانیہ کی ملکہ ہیں۔ تاجدار برطانیہ ہونے کی حیثیت ان کو جو القاب و اختیارات حاصل ہیں ان میں سے ایک ڈفینڈر آف فیتھ بھی ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ’مدافع ایمان‘ کے آس پاس بنتا ہے۔ یہ لقب دراصل چرچ آف انگلینڈ کا منتظم اعلی ہونے کا اظہار ہے۔ گویا جس طرح سعودی بادشاہ حرمین الشریفین کے خادم ہوتے ہیں ویسے ہی برطانوی تاجدار چرچ آف انگلینڈ کا متولی ہوتا ہے۔ وہی برطانیہ جس کی ملکہ کے عہدے کے ساتھ مدافع ایمان جیسا مذہبی لاحقہ اور برطانوی کلیسا کی تولیت جیسا خالص دینی ذمہ لگا ہوا ہے وہاں اب سے چار برس پہلے تک ساڑھے سترہ سو سے زیادہ مسجدیں تھی۔ یہ تعداد اب مزید بڑھ چکی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں ان مساجد کو اس بات کی آزادی بھی تھی کہ مقامی برطانوی عیسائیوں سمیت ہر ایک عقیدے کے لوگوں کو اپنے یہاں بلاکر اسلام کے بارے میں بتا سکیں، غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکیں اور ان کے سامنے اپنے دین کی دعوت رکھ سکیں۔

کینٹر بری کے آرچ بشپ کا لندن میں واقع گھر لیمبیتھ پیلیس کہلاتا ہے۔ 2012 کے شروع میں وہاں ایک تقریب ہوئی جس میں ملکہ بھی مدعو تھیں۔ ملکہ تقریر کرنے کھڑی ہوئیں۔ ”یہاں لیمبیتھ پیلیس میں ہمیں خود کو یاد دلانا چاہیے کہ چرچ آف انگلینڈ کی ہماری قومی زندگی میں کیا اہمیت ہے۔ ہمارے اس کلیسا کو کئی بار ٹھیک سے نہیں سمجھا گیا اور مجھے لگتا ہے اس کی جو ستائش بنتی تھی وہ اکثر نہیں ہوئی۔ اس چرچ کا کردار یہ نہیں کہ مغربی مسیحی روایات کا دفاع کرے اور دوسرے مذاہب کو الگ تھلگ ڈال دے بلکہ چرچ کی ذمہ داری ہے کہ اس ملک میں تمام عقائد پر آزادی سے عمل کیے جانے کا تحفظ کرے۔“

ہر ایک کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کی آزادی والی یہ بات برصغیر کے کسی لیڈر کی سیاسی تقریر نہیں تھی۔ یہ کسی ملک کے قائد کا وہ خطاب بھی نہ تھا جس کی عملی تکذیب کرنے کے لئے اس ملک کی نومولود قیادت نے چند دہائی رکنا بھی گوارا نہیں کیا۔ یہ ایک ایسی مملکت کی ملکہ کا پراعتماد بیان تھا جہاں قول و فعل میں تضاد معاشرے کی عادت نہیں۔

برطانوی کلیسا کی متولی ملکہ کے ملک میں عاشور کا جلوس نکلتا ہے تو وسطی لندن کی بہت سی سڑکوں پر ٹریفک روک دیا جاتا ہے۔ عقیدت مند سہولت کے ساتھ اپنی ماتمی رسوم ادا کر سکیں اس کو یقینی بنانے کے لئے سیکڑوں گاڑیاں ٹھہری رہتی ہیں۔ صرف ماتمی جلوس ہی کیوں تبلیغی جماعت والے وہاں تبلیغی دورے کرتے ہیں۔ مذہبی اجتماعات بھی ہوتے ہیں جن میں مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب جیسے علما بلائے جاتے ہیں۔ لندن میں عاشور کے جلوس یا محفل نعت کی ویڈیو ایمانی حرارت کے ساتھ فیس بک پر شیئر کی جاتی ہے جس کے نیچے ہم جیسے عقیدت مند ’ماشا اللہ‘ لکھنا نہیں بھولتے۔

برطانیہ سے نکل کر یورپ کے کچھ اور ممالک کو دیکھئے تو یہی نظارے ملیں گے۔ لوگوں کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی آزادی کا ہی نتیجہ تھا کہ جب فرانس نے نقاب پر پابندی لگائی تو بہت سے لوگ معترض ہوئے۔ 13 اپریل 2011 کی تاریخ کے ساتھ دی نیشن کی ویب سائٹ پر موجود ایک خبر کے مطابق مفتی منیب نے نقاب پر پابندی کے سلسلہ میں فرمایا ”نقاب پر پابندی دراصل نظریاتی دہشت گردی ہے، یہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فرانس میں رہنے والی مسلمان خواتین کو فرانس حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے اور معاملے کو یورپی عدالتوں تک لے جانا چاہیے۔“

مفتی صاحب نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس کو آسان لفظوں میں یوں کہا جائے گا کہ کسی کو اس کے مذہبی عقائد کے مطابق عمل کرنے سے روکنا نظریاتی دہشت گردی کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسا کرنا ظالمانہ عمل ہے اور اس سے انسانوں کو حاصل بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ دیکھئے یہ علما کرام لوگوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کو کس قدر اہم خیال کرتے ہیں۔ البتہ یہ مت بھولئے کہ فرانسیسی حکومت نے یہ فیصلہ کسی مذہبی طبقہ کے دباؤ میں نہیں لیا تھا پھر بھی وجہ کے چکر میں پڑے بغیر مفتی صاحب نے مضبوط موقف اختیار کیا۔

ایسے ہی مفتی تقی عثمانی کا معاملہ ہے۔ انہوں نے ابھی پچھلے ہی دنوں چین میں مسلمانوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی۔ مفتی صاحب چین کی مذہبی اقلیت یعنی مسلمانوں کے لئے اس قدر فکرمند تھے کہ حکومت سے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ تک کر دیا تھا۔

سنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر میں کچھ لوگ رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب چونکہ مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب جیسے افراد موجود ہیں تو ہندو بھائیوں کو چاہیے کہ ان دونوں بزرگوں سے رابطہ کریں۔ آخر کو یہ دونوں بیرونی ممالک تک میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے لئے فکرمندی ظاہر کرتے ہیں تو پھر یہ تو ان کے اپنے یہاں والوں کا معاملہ ہے۔

Latest posts by مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 110 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply