بلیک ڈے پر دو قبروں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتنی نفرت ہو گی اس کے دل میں جب اس نے کہا ہو گا کہ ”مجھے ریزر دو، میں نے شیو کرنی ہے، میں ملاؤں کی صورت مرنا نہیں چاہتا۔“
کتنی جرات اور دلیری ہو گی اس کی روح میں جب اس نے تارا مسیح کو مخاطب کر کے کہا کہ ”پھندا کھینچو۔ سب فنش کرو۔“

صاحبو! کوئی شک نہیں کہ اس ”فنش اٹ“ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے۔ کوئی شک نہیں کہ بھٹو پھانسی کے وقت جس عمر میں تھے اس کے بعد ہمارے جیسے ممالک میں ہر کوئی طبعی موت مر ہی جاتا ہے لیکن چونکہ بھٹو نے ہمیشہ کے لئے زندہ رہنا تھا، اس لیے شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔

جس لمحے میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، پانچ جولائی کا سیاہ دن پورے غضب سے سبھی سیاسی غلام گردشوں کی کہانیاں سنا رہا ہے، یہ وہ دن ہے جب ضیا الحقی میرے وطن کی چپے چپے پر سوار ہوئی اور اپنے شیطانی پنجے گاڑتی چلی گئی۔ یہ ملک ترقی پسندوں کا گہوارہ تھا، فن، ادب، لٹریچر، شوبز، گیت، سنگیت سمیت تمام سیاسی رعنائیاں اس مٹی کی پہچان تھیں لیکن ضیا ڈکٹیٹر شپ کے بعد سب کچھ الٹ ہوتا چلا گیا، نو ستاروں کے کندھے پر سوار ضیا الحق نے عجب مذہبی جنونیت دھرتی میں سمو دی جس کی بدبو ابھی تک اس ملک کی ہر نسل کے نتھنوں میں ہے، یہ مارشل لا ایسی دہشتگردی لے کر آیا کہ ہر طرح کی انسانی آزادیاں قصہ پارینہ ہو گئیں، فن، آرٹ، کلچر سمیت ہر طرح کی سیاست کو دیس نکالا مل گیا۔

یقیناً ہم آگے بڑھتی قوم تھے لیکن اب ہمارا پیچھے کا سفر شروع ہو گیا تھا، ہم جذبات میں بھنگڑے ڈالنے والے لوگ تھے لیکن شاہی قلعہ کی قید اور کوڑے ہمارے بدن کی خوراک بن گئے، یہ بلیک ڈے ایسا ہمارے جوڑوں میں بیٹھا کہ جس کا انت طالبان اور القاعدہ کی صورت ہوا، لیکن یہ انت بھی کیسا انت ہے کہ ابھی تک ہم غیر محفوظ ہیں، بڑی بڑی دیواروں، جنگلوں اور خاردار تاروں کے حصار میں زندگی بتاتے ہیں لیکن زندگی ابھی تک ہم سے روٹھی ہوئی ہے، ہم لاکھ روشن خیالی کی دلیلیں دیں مگر نہایت سفاک سچ یہ ہے کہ ہم من حیث القوم مذہبی جنونیت سمیت تشدد پسند ہو چکے ہیں اور ہمارے دل پتھر سے بھی زیادہ سختی پکڑ چکے ہیں۔

بھٹو کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ سیاست کو امرا کے گھروں سے نکال کر عوام میں لے آئے تھے، ان کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے مزدور اور کسان کو سربلند کر دیا تھا، وہ سبھی کو اس لئے نا پسند تھے کہ امریکی بدمعاشی کے سامنے ڈٹ گئے تھے، اسلامی ممالک کا الگ بلاک بنانا چاہتے تھے، اگر ہم ایٹم بم کا کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو نہ بھی دیں تو یہی سب کارنامے بھٹو کی پھانسی کے لئے کافی تھے جن کا ذکر کر رہا ہوں اور یہ بتاتے ہوئے عجب نقاہت اور تھکاوٹ محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستان کو آئین دینے والے بھٹو کو کس بیدردی سے قتل کر دیا گیا۔

یقیناً میری آنکھیں نم ہیں اور سوچ رہا ہوں کہ اگر پانچ جولائی کا دن ہمارے ملک کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو سب کتنا اعلیٰ و ارفعٰ ہوتا؟
کوئی شک نہیں کہ پانچ جولائی کے بلیک ڈے کے خالق نے ہمیں اسلام کا بالکل ایسے ہی جھانسا دیا جیسا جھانسا آج کا حکمران ریاست مدینہ کے نام سے دیتا ہے۔

صاحبو! ایک لمحہ کے لئے آنکھیں بند کیجئے اور سوچیئے کہ اگر مذکورہ بلیک ڈے پاکستان کی تاریخ میں نہ ہوتا تو آج کا پاکستان کس قدر مختلف ہوتا؟ یہاں کوئی ضیا الحقی ڈکٹیٹر شپ ہوتی اور نہ ہی بعد ازاں کسی مشرف کو میرے ملک کے آئین سے کھیلنے کی جرات ملتی۔ کوئی ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھتا اور نہ ہی کسی بینظیر کو پنڈی کی سڑکوں پر بے یارو مددگار مار دیا جاتا۔ کہیں ضیا کے چیلے چمچے گلی محلوں کے غنڈے میرے ملک کے بڑے سیاستدان بنتے اور نہ ہی یہاں کسی غیر جماعتی منافقانہ الیکشن کا رواج ڈالا جاتا، ذوالفقار علی بھٹو کے ہوتے کسی نواز شریف میں جرات نہ ہوتی کہ وہ سیاستدانوں کی بولیاں لگاتا ہوا چھانگے مانگے سجائے اور نہ ہی کوئی عمران خان ایمپائرز کی انگلی پر یوں مست ہاتھی بنا سبھی فصلیں اجاڑتا پھرتا۔

بیشک یہاں آئین کو فالو کیا جاتا، قانون کی حکمرانی چار سو ہوتی، اقتدار عوام کے پاس ہوتا اور ہماری معیشت کبھی کسی بھی طرح کا دھچکا نہ کھاتی، بیشک یہاں فن و آرٹ رواج پاتے، محبتوں کو عروج ملتا، نفرتوں کا قلع قمع ہو چکا ہوتا، سیاست میں لوٹے نظر آتے اور نہ ہی کبھی کوئی جی ایچ کیو اسلام آباد کے ایوانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا۔
بیشک اس گھٹیا بلیک ڈے کے باوجود ضیا الحق کب کا مر چکا اور بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

کون نہیں جانتا کہ اسی ملک میں دونوں کرداروں کی قبریں ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ گڑھی خدا بخش والی قبر پر کسی بھی وقت روشنی و رش ختم نہیں پوتا اور اسلام آباد والی قبر پر جانور پیشاب کرتے ہیں۔

افسوس کہ یہ سب جانتے بوجھتے آج بھی کچھ لوگوں کے اندر ڈکٹیٹر بننے کا زعم ہے، اتنی عبرت ناک کہانی کے باوجود کوئی بھی سبق حاصل نہیں کرتا اور یوں اس دیس کے لئے ہر دن بلیک ڈے بنتا جا رہا ہے، کل کوئی مشرف کہتا تھا کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں اور آج انگلی زدہ کپتان کا دعویٰ ہے کہ اسے کسی کی پرواہ نہیں۔

کاش! کوئی موجودہ حکمرانوں کو بلیک ڈے کی کہانی ایک بار پھر سے سنائے اور سمجھائے کہ ہمیشہ کی زندگی کے لئے عوام کے ساتھ جینا مرنا پڑتا ہے، بڑھکیں نہیں ماری جاتیں بلکہ کچھ کر کے دکھایا جاتا ہے۔

کسے نہیں خبر کہ ذوالفقار علی بھٹو نے صرف چار سال کی مدت میں اس ملک کو پیروں پر کھڑا کر دیا اور آج کے حکمران نے بائیس ماہ کی حکومت میں صرف فلاپ ”مولا جٹ“ بننے کی ناکام کوشش کی۔

کاش! کوئی موجودہ حکمران کو دونوں قبروں کا دورہ کرائے تاکہ اسے اور اس کے حواریوں کو عقل آئے۔ ساتھ ہی ساتھ اسے لانے والے سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہمیشہ کی زندگی کے لئے بھٹو بننا پڑتا ہے، ضیا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply