چیئرمین ایف بی آر کی تقرری اور جسٹس فائز عیسیٰ سے متعلق خدشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک شخص سے کسی نے کتا مانگا۔ آگے سے جواب ملا ”پہلی بات تو یہ کہ میرے پاس کتا ہے ہی نہیں لیکن اگر ہوتا بھی تو میں تمہیں نہ دیتا“ ۔ یہ ہوتی ہے نیت کی نیکی اور آج جب چیئرمین ایف بی آر کا تین ماہ کے لئے عارضی تقرری کا حکم نامہ دیکھا تو یہ واقعہ یاد آ گیا کہ کیسے عمران خان صاحب کی حکومت اس شخص کے مصداق نیت کی نیکی بھی نہیں کرنا چاہتی۔

تئیس ماہ کی مختصر مدت میں وزیراعظم عمران خان صاحب نے یہ چوتھا چیئرمین ایف بی آر لگایا ہے اور پوری کوشش کرکے انہوں نے اس تقرری پر بھی انکم ٹیکس اور کسٹمز کے محکموں کے اندر گومگو کی کیفیت برقرار رکھنے کا ریکارڈ قائم رکھا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سمجھتے ہوں کہ بے یقینی ہی محصولات کی غیر یقینی حد تک بڑی رقم اکٹھا کرنے کا واحد راستہ ہے۔ یاد رہے ان تئیس ماہ میں سے کم از کم تین ماہ ایف بی آر جس کی حیثیت پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی ہے بغیر کسی چیئرمین کے بھی رہا جب شبر زیدی چلے گئے اور حکومت سے یہ فیصلہ نہ ہوپایا کہ نیا چیئرمین کس کو لگایا جائے۔

نوشین امجد کو فارغ کرکے جاوید غنی کو تین ماہ کے لئے لگا کر پھر وہی قسط دہرائی گئی جیسے حکومت متبادل نام فائنل کرنے سے پہلے جہانزیب خان کو چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش کر دیا تھا اور اس کے بعد عمران خان صاحب نے اپنے کچھ دوستوں کو چیئرمین کے لئے موزوں شخص تلاش کرنے میں مدد کی استدعا کی تھی۔ شبر زیدی کے نام کا اعلان بھی وزیراعظم عمران خان صاحب نے زیدی صاحب کی باضابطہ رضامندی سے پہلے ہی کر دیا تھا اور یوں انہیں یہ عہدہ قبول کرنا پڑا۔ اختیارات کے بغیر اور کئی قسم کے چوہدریوں کی موجودگی میں شبر زیدی بھی کچھ نہ کرسکے۔

جاوید غنی کی تقرری کے حکمنامے میں بنیادی سقم سے پہلے کا ستم یہ ہے کہ جاوید غنی بنیادی طور پر انتہائی شریف النفس انسان ہیں اور وہ 32 یا 33 سال کی ملازمت میں شاید ہی اپنے کسی ماتحت، برابر یا سینئر افسر سے اونچا بولے ہوں۔ ایک ایسے محکمے میں جہاں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا بدمعاش اور اثرورسوخ والے افسر موجود ہو جو جب چاہے چیئرمین تک کا تبادلہ کروا دے وہاں اتنا شریف چیئرمین کبھی بھی نہیں چل سکتا لہذا یہ بہت واضح ہے جاوید غنی جو چیئرمین مٹیریل ہی نہیں کا انتخاب کوئی بہت مناسب نہیں۔

رہی سہی کسر حکومت نے ان کے تقرری کے حکم نامے میں تین ماہ کی مدت لکھ کر پوری کردی ہے۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے۔ پہلی بات یہ کہ جاوید غنی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کوئی بھی سنجیدہ کام کرنے کی کوشش مت کرنا کیوں کہ تمہیں صرف اور صرف تین ماہ کے لئے لگایا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے اس سے پہلے بھی گھر بھیج دیے جاوٴ۔ دوسرا اب محکمے کا کوئی بھی چیف کمشنر، چیف کلکٹر، کمشنر یا کلکٹر جاوید غنی کو سنجیدہ نہیں لے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ چیئرمین صاحب زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے مہمان ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تین ماہ سے بہت پہلے چلے جائیں۔

مالیاتی محصولات کا ہدف حاصل کرنے کے لئے مالی سال کے پہلے تین ماہ انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اگر پہلی سہ ماہی کا ہدف حاصل نہ ہو تو بقیہ سال میں کسی بھی صورت میں ہدف کا خسارہ پورا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی گنا اضافہ ہی ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جاوید غنی کا تقرر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ٹیکس معاملات کی چھان بین میں اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اگر حکومت یا مقتدر حلقوں نے ایسا سوچا بھی ہے تو یہ ہو پائے۔ جاوید غنی جس نے ساری ملازمت اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہوئے انتہائی شرافت سے گزار دی ہے وہ کبھی بھی ملازمت کے تقریباً آخری ایام میں یہ ملامت اپنے گلے نہیں ڈالیں گے۔ دوسرا جب انہیں معلوم ہے کہ وہ تین ماہ کے لئے لگائے گئے ہیں تو وہ یہ کام کیوں کریں گے؟

سوال یہ ہے کہ جب وزیراعظم پاکستان کے پاس کسی بھی وقت چیئرمین ایف بی آر کو گھر بھیجنے کا اختیار موجود ہے تو یہ بات ان کی تقرری کے خط میں لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو فی الحال اس کی دو وجوہات کے علاوہ تیسری وجہ سمجھ نہیں آتی۔ پہلی تو یہ کہ موجودہ وفاقی حکومت میں لابیز اور مشیروں کی بھرمار ہے اور ہر کوئی اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہوتا ہے اس لئے کسی ایک بات پر متفق ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

دوسری وجہ، جس کا غالب امکان ہے یہ ہے کہ حکومت کی نظر میں اس عہدے کے لئے اپنی کی مرضی کا کوئی شخص موجود ہے جو اس وقت کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں لگایا جاسکتا۔ یا تو وہ اندرون یا بیرون ملک کسی تربیتی کورس کا حصہ ہے اور یا اسے اگلے پروموشن بورڈ میں ترقی دی جانی ہے۔ لہذا اس پسند کو نوازنے کا پورا بندوبست موجودہ چیئرمین کے تقرری کے خط میں موجود ہے۔ تین ماہ کی شق سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے موجودہ لگائے جانے والے چیئرمین کو ناکام کرنے کا مکمل سامان کر دیا گیا ہے۔

بہر حال معاملہ کچھ بھی ہو یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مسلسل تیسرے مالی سال یعنی سن 2020۔ 21 میں بھی حکومت پاکستان محصولات کی وصولی کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گی اور اس کے نتیجے میں معاشی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں تو پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں کئی گنا اضافے، سٹیل مل اور روزویلیٹ ہوٹل وغیرہ کو بیچ کر اور تعلیم اور صحت کے پیسے کاٹ کر گزارا چلانے کی کوشش ہو رہی ہے سوال یہ ہے کہ اگلے سال کیا کیا جائے گا۔

ویسے ایک تجویز ہے کہ اگر پاکستانی کا ایک ایک گردہ بیچ دیا جائے۔ 223 ملین گردے اگر پاکستان ایک لاکھ روپے فی گردہ بھی فروخت کرے گا تو نہ صرف ہمارے سارے خرچوں کے پیسے نکل آئیں گے بلکہ اس ملک کو کھانے والوں کی اگلی چند نسلیں بھی عیش کریں گی۔ رہی بات گردہ بیچ کرعوام کی صحت کی حالت زار کی تو پہلے ہمیں اس کی کون سی پرواہ ہے جو اب کرنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply