مولانا آزاد کی پاکستان سے متعلق پیش گوئیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میری پوری زندگی، ایک کھلی کتاب ہے
میں بے غرض ہوں، اور جو بے غرض ہوتا ہے، بے پناہ ہوتا ہے
آپ سمجھے
بے پناہ کون ہوتا ہے؟
نہیں
آپ نہیں سمجھے،
میں بتاؤں
بے پناہ وہ ہوتا ہے، جسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی

انڈین پارلیمنٹ میں فرقہ پرست ہندوؤں سے خطاب کرتے ہوئے یہ غیر معمولی الفاظ ہندوستان کی ایک قد آور علمی و سیاسی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کے تھے۔ پارلیمنٹ سے اس خطاب پر نئی دہلی کے انگریزی اخبار اسٹیٹسمین نے تبصرہ کیا کہ کسی بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں کبھی بھی اس سے زبردست تقریر مشکل سے کی گئی ہوگی۔ مولانا آزاد کے سیاسی نظریے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے علمی قد سے انکار کسی طور ممکن نہیں ہے۔ تقاریر کے دوران مدلل انداز میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنا نقطہ نظر بیان کرنا مولانا آزاد کی ایک ایسی صفت تھی جس پر ہر سامع عش عش کر اٹھتا تھا۔

مولانا ابوالکلام آزاد کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہندوستان کی انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ متحدہ ہندوستان کے لیے کوششیں کرتے رہے۔ ان کے خیال میں متحدہ ہندوستان کی تقسیم سے مسلمان کمزور ہو کر اقلیت میں بدل جائیں گے جبکہ تقسیم نا ہونے کی صورت میں مسلمان متحدہ ہندوستان میں اقلیت نہیں بلکہ دوسری بڑی اکژیت ہوں گے۔ تا ہم ان کے اس سیاسی فلسفے سے مسلم لیگ نے اتفاق نہیں کیا اور متحدہ ہندوستان کے تصور کو رد کرتے ہوئے الگ وطن کے مطالبے پر قائم رہے۔ حتیٰ کہ قائد اعظم نے ایک مرحلے پر مولانا آزاد کو کانگریس کا شو بوائے بھی کہا۔ تاہم مولانا آزاد اپنے موقف پر قائم رہے اور پاکستان کے مطالبے کی حمایت نا کی۔

مولانا آزاد نے پاکستان کے مطالبے کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار مختلف مقامات پر اپنی تقاریر میں بڑی تفصیل کے ساتھ کیا۔ 3 14 اگست 1947 میں پاکستان اور ہندوستان بننے کے بعد مولانا آزاد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہندوستان نے اگرچہ آزادی حاصل کر لی لیکن اس کا اتحاد باقی نہیں رہا۔ پاکستان کے نام سے جو نئی ریاست وجود میں آئی ہے اس میں برسراقتدار طبقہ وہ ہے جو برطانوی حکومت کا پروردہ رہا ہے۔ اس کے طرز عمل میں خدمت خلق اور قربانی کا کبھی کوئی شائبہ نہیں رہا ہے، اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے یہ لوگ پبلک کاموں میں شریک ہوتے رہے ہیں“

مولانا آزاد نے ایک اور جگہ پر کہا کہ کیا پاکستان کے قیام سے، فرقہ وارانہ مسئلہ حل ہو گیا؟ کیا یہ مسئلہ اب پہلے سے زیادہ شدید اور ضرر رساں نہیں بن گیا ہے؟ جب تقسیم کی بنیاد ہی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان عداوت پر رکھی گئی تھی تو پاکستان کے قیام سے یہ منافرت ایک آئینی شکل اختیار کرگئی ہے اور اس کا حل اب اور مشکل ہوگیا ہے۔ برصغیر دو ریاستوں میں تقسیم ہوگیا ہے اور یہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کو نفرت و ہراس کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ ہندوستان اسے اطمینان سے جینے نہیں دے گا، اور جب بھی اسے موقعہ ملے گا، وہ اسے نیست و نابود کردے گا۔ ہندوستان کو بھی یہ ڈر ہے کہ جب بھی پاکستان کو موقع ملا، وہ اس پر حملہ کرے گا۔ اس طرح دونوں ملک خوف و ہراس کے تحت اپنا فوجی خرچ بڑھاتے رہنے پر مجبور رہیں گے، اور معاشی ترقی سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مولانا آزاد نے دو بڑی پیش گوئیاں کی جن میں سے ایک یہ کہ بنگال کی علیحدگی کا امکان اور دوسرا پنجاب، سندھ، سرحد کے درمیان کشیدگی کا اندیشہ۔ مولانا آزاد نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شاید مسٹر جناح اور ان کے ساتھی یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جغرافیائی صورت حال ان کے موافق نہیں ہے۔ سارے برصغیر میں مسلمان اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ صرف ایک ہی علاقہ میں ان کی جداگانہ ریاست کا قیام ممکن نہیں تھا۔

مسلمان مشرق اور شمال مغرب کے علاقوں میں اکثریت میں تھے۔ لیکن یہ دونوں علاقے کسی جگہ بھی ایک دوسرے سے ملحق نہیں ہیں اور یہاں کے باشندے مذہب کے سوا ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ یہ بات کہ صرف مذہبی یگانگت، دو ایسے علاقوں کو متحد رکھنے کے لئے کافی جو جغرافیائی، معاشی، لسانی اور معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں، فریب دہی اور خود فریبی سے کم نہیں ہے۔

بے شک اسلامی تعلیمات، نسلی، لسانی، معاشی اور سیاسی حد بندیوں سے بالاتر ہیں، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ زیادہ سے زیادہ پہلی صدی کو چھوڑ کر سارے مسلمان ممالک صرف اسلام کی اساس پر اپنے آپ متحد نہیں کرسکے۔ کون توقع کر سکتا ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے اختلافات دور ہوجائیں گے اور یہ دونوں علاقے ایک قوم بن جائیں گے۔ مغربی پاکستان کے اندر بھی سندھ، پنجاب، سرحد اپنے اپنے جداگانہ مفاد ومقاصد کے لئے کوشاں نہ ہوں گے۔ تاہم پاکستان کی نئی ریاست اب ایک حقیقت ہے اور ہندوستان و پاکستان دونوں کا فائدہ و سلامتی اس میں ہے کہ باہم دوستانہ تعلقات بڑھائیں اور اشتراک عمل کریں۔ اس کے خلاف کوئی پالیسی اپنائی گئی تو وہ نئے اور بڑے مصائب وآلام کا باعث بن سکتی ہے۔

سیاست کے طالب علم کی حیثیت سے مولانا آزاد کی تحریر و تقریر پر تبصرہ کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ مولانا نے متحدہ ہندوستان سے متعلق جو موقف اپنایا وہ بھی بغور پڑھیں اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے جو کہا اس پر بھی غور کریں۔ مولانا آزاد کے سیاسی موقف پر آپ جو رائے قائم کریں تا ہم ان کی اس بات سے کسی کو انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کا فائدہ وسلامتی اس میں ہے کہ باہم دوستانہ تعلقات بڑھائیں اور اشتراک عمل کریں۔ اس کے خلاف کوئی پالسی اپنائی گئی تو وہ نئے اور بڑے مصائب و آلام کا باعث بن سکتی ہے۔ مولانا آزاد کی تجویز آپ کے سامنے ہے اور فیصلہ بھی آپ کے ہاتھوں میں ہے، ویسے یاد رہے کہ مولانا آزاد کی پہلے کی گئی باتوں کو وقت نے ثابت کیا کہ وہ ٹھیک تھیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply