پانچ جولائی اور ضیاء باقیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں ہوش سنبھالا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس، ایٹم بم کی تیاری کی خبریں اور باتیں، قائد اعظم اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے صد سالہ جشن حکومتی سطح پر منانا خوب یاد ہیں۔ بھٹو صاحب جب بیرون ملک جاتے تو وہاں کے طلبا کی نصابی و غیر نصابی پر خصوصی نظر رکھتے۔ شمالی کوریا کے دورے سے واپس تشریف لائے، تو وہاں کے طلبا کے دلکش ورزشی کرتب پاکستانی طلبا کو سکھانے کا اہتمام کیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس کی بھی ذرائع ابلاغ میں خوب تشہیر ہوئی۔ نامور شاعروں اور موسیقاروں نے لا زوال ملی نغمے لکھے اور دھنیں ترتیب دیں۔ بچے بچے کی زباں پر ملی نغمے ہوتے تھے۔

تعلیمی اداروں میں حکومتی احکامات کی روشنی میں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے صد سالہ جشن منائے گئے۔ یادگاری سکوں اور ٹکٹوں کا اجراء ہوا۔ شہری بہبود کے ادارے کے ملازمین بھی وقتاً فوقتاً سکولوں کا دورہ کرتے اور طلبا کو سیلف ڈیفنس اور ابتدائی طبی امداد کے طریقوں سے آگاہ کرتے اور عملی تربیت کا بھی انعقاد کرتے۔ اس زمانے میں معاشرتی علوم کی نصابی کتاب تین حصوں پر مشتمل ہوتی تھی، تاریخ، شہریت اور جغرافیہ۔ شہریت ایک ایسا مضمون تھا جو طلبا میں شہری امور اور ذمے داریوں کے حوالے سے شعور بیدار کرتا تھا۔ اب شہریت بطور مضمون نہیں پڑھایا جاتا۔ مطالعہ پاکستان نے اس کی جگہ لے لی ہے۔

جب بھٹو صاحب نے عام انتخابات کا اعلان کیا، تو شہر کراچی کی رونقوں میں سیاسی رونق کا اور اضافہ ہو گیا۔ گھروں کی چھتوں اور محلوں کے داخلی دروازوں پر سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کے جھنڈے لگ گئے۔ ناظم آباد جماعت اسلامی کا گڑھ تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان قومی اتحاد کی مرکزی جماعت تھی۔ جلسے جلوس شروع ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار قومی اسمبلی حکیم سعید مرحوم نے عیدگاہ میدان میں جلسہ کیا۔ قومی اتحاد کے کئی جلسے ہوئے۔ آخری جلسہ پٹرول پمپ ناظم آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں اصغر خان مرحوم نے اعلان کیا کہ اگر انتخابی نتائج ہمارے خلاف آئے تو ان کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے انتخاب والے دن خوب گہماگہمی رہی۔ کراچی میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے نہیں آئی۔ ملک بھر میں بہرحال اکثریتی نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ نتائج کو حسب توقع پاکستان قومی اتحاد نے تسلیم نہیں کیا۔ اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ قومی اتحاد نے دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جو جلد ہی تحریک نظام مصطفی اور پر تشدد تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ شہر کراچی سے شروع ہونے والی تحریک وطن عزیز کے بڑے شہروں تک پھیل گئی۔ مرحوم اصغر خان نے فوج سے مداخلت کی اپیل کی۔ حکومت حزب اختلاف سے مذاکرات پر مجبور ہوئی اور جب مذاکرات اختتامی مرحلے پر پہنچے، تو فوج نے مداخلت کی اپیل پر عمل در آمد کرتے ہوئے، 5 جولائی کو اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

جمہوریت پسندوں کے لئے مارشل لا کا نفاذ باعث دکھ و تشویش تھا۔ جب کہ قومی اتحاد کی چند جماعتیں اور سیاست دان خوشی خوشی آمر مطلق کی کابینہ میں شامل ہو گئے۔ اور جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرتے وقت 90 روز میں عام انتخابات کا جو وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے کی تکمیل میں رکاوٹ بنے اور پہلے احتساب کا نعرہ لگایا۔ جو آمر مطلق کو بھا گیا۔ اور آمر مطلق من چاہی عدلیہ کے ذریعے من چاہا احتساب کرتے رہے۔ آج بھی حکومت وقت کا نعرہ اولین احتساب کا ہے۔ لیکن باوجود ہر کوشش کے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

جنرل ضیاء الحق نے اقتدار کی طوالت کی خاطر کون کون سے نا جائز سیاسی و غیر سیاسی، لسانی و مسلکی اور مذہبی ہتھکنڈے نہیں اپنائے۔ جس کا خمیازہ وطن عزیز اور قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ بھی میونخ میں یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہماری 40 سال قبل اپنائی جانے والی حکومتی پالیسیز غلط تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت بھی ایک سر بستہ راز ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو دوسروں کے لئے گڑھے کھودتا ہے۔ اس کا مقدر بھی ایسا ہی ایک گڑھا اور ہمیشہ کی ذلت ہوتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کا ہر وقت دم بھرنے والے سیاست دان اور صحافی بھی آمر مطلق کا نام زباں پر لاتے ہوئے کتراتے ہیں۔

پانچ جولائی 1977 وہ تاریخ ہے جو جمہوریت پسند بھلائے نہیں بھولتے۔ چونکہ یہ وطن عزیز کی ان منحوس تاریخوں میں سے ایک ہے۔ جو ہر سال جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت کی یاد دلاتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی باقیات کھل کر تو نہیں، پس پردہ اپنی حرکتوں سے وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششوں میں لگی رہتی ہیں۔ لیکن اب ان کی دال ماضی کی طرح نہیں گلنے والی۔ لے دے کر ان باقیات کا کام یہی رہ گیا ہے کہ ہر وقت سیاست دانوں کی کردار کشی کی جائے اور ادوار آمریت کی یادیں تازہ کی جائیں۔ وزیر اعظم بھی اکثر و بیشتر جنرل ایوب خان اور پرویز مشرف کے دور آمریت کو یاد کرتے پائے جاتے ہیں۔ اور ضیاء باقیات کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ جو بطور جمہوری وزیر اعظم ہرگز ان کو زیب نہیں دیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply