صفیہ شیخ: منشیات کی عادی شدت پسند خاتون تک پولیس کیسے پہنچی؟

ڈومینِک کیسیانی - نامہ نگار، داخلہ امور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کی حامی ایک خاتون کو لندن کے تاریخی کلیسا سینٹ پالز کیتھیڈرل پر خود کش حملے کے منصوبے کے الزام میں کم از کم چودہ برس کے لیے جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

نو مسلم صفیہ شیخ کو پکڑنے کے لیے پولیس اور دیگر اداروں کو خاصا عرصہ بڑا آپرشین کرنا پڑا تھا، تاہم ان کی سماعت کے دوران عدالت بھی اس شش و پنج میں پڑ گئی تھی کہ آیا واقعی منشیات کی عادی ایک ایسی خاتون جو شدید نفسیاتی مسائل کا بھی شکار تھی، وہ کبھی خود کش حملے کے منصوبے کو عملی جامہ پہناتی یا نہیں۔

یہ گذشتہ برس 24 ستمبر دن بارہ بجے سے کچھ پہلے کی بات ہے جب صفیہ نے لندن کے اکسبرج کے ٹیوب سٹیشن پر کھڑے اپنے آنسو پونچھے تھے۔

اس دن انھیں آخر کار ایک ایسا شخص مل گیا تھا جو ان کی دل کی بات سمجھ سکتا تھا۔ اس خاتون کا نام عذرا تھا، جس نے صفیہ کو گلے لگایا تھا۔ صفیہ کے دل میں جو کچھ تھا اس نے عذرا کے سامنے کھول کے رکھ دیا۔ اور یوں جب صفیہ کو یقین ہو گیا کہ انھیں جس ہمدرد کی تلاش تھی وہ مل گیا، تو صفیہ نے اپنی اس نئی سہیلی کو گلابی رنگ کے دو بیگ تھما دیئے۔

طے یہ پایا کہ یہ خاتون ان دو بیگوں کو بموں سے بھر کے لائے گی جن سے سینٹ کیتھیڈرل پر دھماکے کیے جائیں گے۔ صفیہ کو خدا حافظ کہنے کے بعد جب عذرا نے واپسی کی راہ لی تو منصوبے کے مطابق انھوں نے جو خفیہ ریکارڈر اپنے لباس میں چھپا رکھا تھا اسے بند کر دیا۔

اس مقام تک پہنچنے کے لیے اور لندن کو ہولناک حملے سے پچانے کے لیے عذرا اور خفیہ اداروں کے دیگر افراد نے بڑے تحمل سے کام کرتے ہوئے صفیہ کے گرد دائرہ تنگ کیا تھا۔

Saffiya Sh

صفیہ جب سنہ 1883 میں پیدا ہوئی تو اس کا نام مشیل ریمسڈن رکھا گیا تھا اور پھر 2007 میں اس نے اپنے پڑوس میں رہنے والے ایک گھرانے کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا۔

مذہب تبدیل کرنے سے پہلے صفیہ کی پرورش جس گھر میں ہوئی تھی اس نے اسے مسلسل پریشانی اور ذہنی دباؤ میں رکھا۔ اس دوران اسے سرکاری نگرانی میں ایسے گھروں میں بھی رہنا پڑا جہاں ان بچوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں اپنے والدین کے ساتھ چھوڑنا بچوں کی ذہنی یا جسمانی صحت کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔

صفیہ نے خود ایک خفیہ اہلکار کو بتایا کہ ان کے گھر والوں کو منشیات اور شراب کی لت پڑی ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صفیہ بھی منشیات کی عادی ہو گئی تھی۔

آن لائن پر صفیہ نے ایک پیغام میں لکھا تھا کہ ’زندگی کیسے گزارتے ہیں، میرے سامنے اس کی واحد مثال میرے گھر والے ہی تھے، (تاہم) اندر سے میرا دل ہمیشہ خالی خالی رہتا تھا۔ مجھے لگتا ہے یہ میرے اندر کا خالی پن ہی تھا جس کو بھرنے کے لیے میں نے منشیات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔’

سماعت کے دوران عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد صفیہ اپنے گھر والوں سے دور ہوتی گئی۔ شروع شروع میں اسے ایک نیا خاندان مل گیا، یہ خاندان دراصل ایسی نو مسلم خواتین پر مشتمل ایک چھوٹی سے کمیونٹی تھی جو اسلام قبول کرنے والی نئی خواتین کی مدد کرتی تھی۔

لیکن منشیات نے جلد ہی صفیہ پر غلبہ پا لیا اور سنہ 2013 میں اسے چوری اور ڈاکے کی کوششوں میں ملوث ہونے کے جرم میں عدالت نے وارنِنگ دینے کے علاوہ سزا کے طور پر کمیونٹی سروس کا حکم بھی دیا۔ اس کے دو ہی برس بعد صفیہ سے ہیروئن برآمد ہونے پر گرفتار بھی کیا گیا۔

لندن کے کِنگز کالج سے منسلک محقق، راجن بسرا برطانیہ میں انتہا پسندی پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔ اپنی تحقیق کے دوران انھوں نے انٹرنیٹ پر صفیہ کی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ چیز واضح ہے کہ صفیہ کی ذہنی حالت ایسی تھی جس کی وجہ سے اسے زیادہ آسانی سے ورغلایا جا سکتا تھا۔ (مثلاً) اس نے یو ٹیوب پر اپنی پسند کی ویڈیوز کی جو فہرستیں بنائی ہوئی تھی ان میں ایک فہرست خاص طور ایسی ویڈیوز کی تھی جن میں منشیات سے نجات پانے کے طریقے بتائے گئے تھے۔

صفیہ شیخ

اسی طرح ’اس کے فیس بک پر موجود پیغامات وغیرہ سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے بہت کٹ چکی تھی۔ اور مذہب تبدیل کرنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح اس کے لیے بھی تبدیلی کے اس عمل سے گزرنا مشکل ہو رہا تھا، تو اسی لیے وہ ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی جن کی صورت حال اس جیسی تھی۔’

راجن بسرا کے بقول اگر ’آپ وہ پلے لِسٹ دیکھیں جو صفیہ نے یوٹیوب پر بنائی تھی تو آپ ان تبدیلیوں کو دیکھ سکتے ہیں جن سے وہ سنہ 2016 کے لگ بھگ گزر رہی تھی۔’

’اس تمام عرصے کے دوران وہ ایسی بہت سے ویڈیوز بھی دیکھ رہی تھیں جن میں انتہا پسندانہ خیالات کا پرچار کیا گیا تھا۔ اس قسم کا مواد عموماً وہی لوگ بنا کر یو ٹیوب پر چڑھاتے ہیں جو دولت اسلامیہ کے حامی یا کارکن ہوتے ہیں۔ آپ اس پلے لِسٹ کی بنیاد پر بتا سکتے ہیں کہ وہ کئی کئی گھنٹے یہ ویڈیوز دیکھا کرتی تھی۔’

عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد سے یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ صفیہ برطانوی جہادی مبلغ انجم چوہدری کی تنظیم المہاجرون کے کارکنوں کے ساتھ رابطے میں تھی۔ صفیہ کی زندگی پر جس شخص کے خاص طور پر گہرے اثرات مرتب ہوئے وہ ابو ولید ہے، جس کا اصل نام شاہد جنجوعہ ہے۔

ابو ولید ہی صفیہ کو انٹرنیٹ پر انتہا پسندانہ مواد بھیجا کرتا تھا اور پھر صفیہ نے ابو ولید کے بتائے ہوئے خیالات کا اظہار اپنی سہلیوں کے حلقے میں کرنا شروع کیا تو اسے لگا کہ وہ اس کمیونٹی سے بھی کٹ گئی ہے۔

پھر اگست 2016 اور ستمبر 2017 کے درمیانی عرصے میں صفیہ تین مرتبہ ان اہلکاروں کی نظر میں بھی آئی جو ’پروینٹ نامی‘ اس قومی پروگرام کے لیے کام کرتے تھے جس کا مقصد ایسے افراد کو روکنا ہے جو اتنہا پسند خیالات کی بنیاد پر پرتشدد کارروائیوں کی جانب راغب ہونے لگتے ہیں۔

تب صفیہ نے اس الزام سے انکار کیا تھا کہ وہ انتہا پسند سوچ رکھتی ہیں، لیکن ملک کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر مختلف نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ ایجنسی نے صفیہ کو آخرکار ایسے لوگوں کی فہرست میں شامل کر دیا جن پر ’نظر رکھنے کی ضرورت’ ہوتی ہے۔

اس فہرست میں ایجنسی نے ایسے تین ہزار افراد کو رکھا ہوا ہے جن کے بارے میں اداروں کو خدشہ ہے کہ وہ دہشتگرد ہیں یا ان میں اس قسم کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ صفیہ کے معاملے میں ایجنسی کے تمام خدشات درست نکلے۔

صفیہ کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اہلکاروں نے دیکھا کہ وہ ’گرین برڈز’ کے نام کے ایک آن لائن گروپ کی ایڈمنسٹریٹر بن گئی۔ یہ ایک خفیہ جہادی گروپ تھا جہاں لوگوں کو دولت اسلامیہ کے نام پر حملوں کی ترغیب دی جاتی تھی۔

اس آن لائن گروپ پر صفیہ نے خود کو ایک مرد ظاہر کیا اور اپنا نام ’الامریکی’ رکھا ہوا تھا، اس خیال سے کہ اس نام سے زیادہ سے زیادہ لوگ متاثر ہوں گے اور اس گروپ میں شامل ہوں گے۔

جب گذشتہ برس گرمیوں میں اس آن لائن گروپ کو فالو کرنے والی ایک خاتون کو ہالینڈ میں گرفتار کیا گیا تو صفیہ نے ایک پوسٹ میں دھمکی دی کہ اب ایمسٹرڈیم کے قریب ایک قصبے میں چرچ پر حملہ کیا جائے گا۔

اس دھمکی کے ساتھ جو تصویر پوسٹ کی گئی تھی، اسے سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا گیا، جس کے بعد یہ تصویر جب اخبارات میں شائع ہوئی تو اس شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

صفیہ شیخ

یہاں تک کہ ایک دن یہ افواہ پھیل گئی کہ چرچ میں واقعی بم پھٹنے والا ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کرنا پڑا اور متعلقہ اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی۔

ان دنوں صفیہ نے انٹرنیٹ پر ایک پوسٹ میں تمسخر اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’کُفار ہمیشہ میری پوسٹ کو شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں، انھیں یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ یوں وہ ہمیں مزید مشہور کر رہے ہیں۔’

جو دیگر افراد صفیہ کے رابطے میں تھے ان میں ہالینڈ کی ایک اور خاتون بھی تھی جس کا نام یُسریٰ لیموسیِٹ تھا۔

برطانیہ پہلے سے ہی یسریٰ پر ملک میں داخلے پر پابندی لگا چکا تھا، تاہم اس وقت تک وہ اپنے برطانوی شوہر کے پاس شام جا چکی تھی جو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں میں شامل ہو چکا تھا۔

معلوم نہیں کہ اس کے شوہر کا بعد میں کیا بنا، لیکن جہاں تک خود یسریٰ کا تعلق ہے تو وہ واپس یورپ آ گئی تھی اور صفیہ کی گرفتاری کے بعد اسے بھی ہالینڈ کی عدالت نے دولت اسلامیہ کی اعانت کے جرم میں جیل بھجوا دیا تھا۔

پچھلے سال 18 اگست کو صفیہ لُوٹن کے ہوائی اڈے پر پہنچی جہاں سے وہ ایک پرواز پکڑ کر یسریٰ سے ملنے ایمسٹرڈیم جا رہی تھی۔ لیکن انسدادِ دہشتگردی کے پولیس افسران نے اسے پرواز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی اور اس سے سوال و جواب کیے۔

صفیہ کو شدید غصہ آیا اور وہ واپس اپنے گھر لوٹ گئی اور اسی دن اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس نے نیو یارک شہر کی بلند و بلا عمارتوں کی ایک تصویر بنائی اور اسے انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’خنزیر۔۔۔ تمہیں جلد ہی اپنے جرائم کی قیمت چکانی پڑے گی۔’

اور پھر دو ہی دن بعد انٹرنیٹ پر صفیہ کی ملاقات آخر اس شخص سے ہو گئی جو صفیہ کے خیال میں اس کی مدد کر سکتا تھا۔

چنانچہ صفیہ نے اس شخص سے بات چیت شروع کر دی۔ اس شخص نے اپنا نام انگریزی حرف تہجی “ایچ’ رکھا ہوا تھا۔ بظاہر لگتا تھا کہ ایچ دولت اسلامیہ سے منسلک ایک ایسا شخص ہے جو برطانیہ میں رہتا ہے اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ لیکن اصل میں یہ جعلی اکاؤنٹ خود خفیہ اداروں نے بنایا تھا، تاکہ وہ اس کے ذریعے سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں جو انتہاپسند خیالات کے حامل ہیں اور ممکنہ طور پر دہشتگردی کر سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر اس قسم کے نقلی کردار ادا کرنے والے خفیہ اہلکار یا “آن لائن رول پلیئرز’ آجکل ممکنہ حملہ آوروں پر نظر رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اہلکار ان خفیہ گروہوں یا چیٹ گروپس میں چپکے سے شامل ہو جاتے ہیں اور ایسے افراد کی نشاندھی کرتے ہیں جو انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

’ایچ’ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صفیہ نے ایک دن لکھا کہ “میں چاہتی ہوں کہ میں جوانی میں ہی مر جاوں تا کہ جتنا جلدی ہو جنت میں چلی جاؤں۔’ اس پر خفیہ اہلکار نے پوچھا کہ وہ اصل میں کیا کرنا چاہتی ہے۔

کچھ دن کی سوچ بچار کے بعد صفیہ نے جواب دیا کہ ” میں اصل میں چاہتی یہ ہوں کہ ۔۔۔ بھائی، میں بہت سے لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتی ہوں۔۔ اس وقت تک مارنا چاہتی ہوں جب تک میں خود نہ مر جاؤں۔’

صفیہ شیخ

’میں کسی چرچ پر حملہ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ کسی ایسی جگہ یہ کام کرنا چاہتی ہوں جو کُفار کے لیے اہمیت رکھتی ہو۔ جیسے کوئی تاریخی مقام۔ یہ لوگ مرنے والے لوگوں کی بجائے اس عمارت کے تباہ ہونے پر ماتم کریں گے۔ میں اس جگہ کی بات کر رہی ہوں جہاں شاہی خاندان کی شادیاں ہوتی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس عمارت میں بم لگا سکوں، وہاں پر ڈیٹونیٹر لگا سکوں، اور پھر اس وقت تک گولیاں چلاتی رہوں جب تک مجھے نہ مار دیا جائے۔’

صفیہ جس عمارت کی بات کر رہی تھی وہ سینٹ پال کیتھڈرل ہے۔ ایچ نے پوچھا ’کیا تم نے سوچا لیا ہے کہ یہ کام کیسے کروں گی؟’

’نہیں بھائی، مجھے نہیں پتہ۔ میں صرف کوئی ایسا حملہ کرنا چاتی ہوں جو بہت زیادہ موثر ثابت ہو۔ میں اس قسم کی چیزوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتی۔‘

’لیکن تمیں کچھ تو پتہ ہونا چاہیے، تاکہ میں تمہاری مدد کر سکوں۔’

اگلے دنوں میں صفیہ نے ایچ کے ساتھ جس منصوبے پر اتفاق کیا، اس کے مطابق صفیہ ایک تایخی عمارت کو بم سے اڑائے گی، دوسرے بم سے خود کو اڑائے گی اور اگر ممکن ہوا تو قریب میں واقع ایک ہوٹل پر بھی بم دھماکہ کرے گی۔

اس نے لکھا ” میر مقصد صرف یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہلاک کروں۔۔۔ میں (بہت عرصے سے ) یہ کرنا چاہتی تھی، لیکن مجھے کسی کی مدد نہیں ملی۔’

اور پھر سات ستمبر کے روز، صفیہ نے اپنے آن لائن گروپ میں ایک پوسٹ لگائی جس میں بتایا گیا تھا کہ کسی ہدف کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے۔ اور اگلی ہی صبح صفیہ سینٹ پال کیتھڈرل کا جائزہ لینے وہاں پہنچ گئی۔ اس نے گلابی رنگ کا بیگ بھی اٹھایا ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ بم اس بیگ میں رکھ کر لائے گی۔

صفیہ شیخ

واپس گھر پہنچ کر اس نے ایچ سے رابطہ کیا۔’

صفیہ نے لکھا ’میں خیال تھا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن یہ کام تو آسان نکلا۔’

اس پر ایچ نے پوچھا ’یہ بتاؤ کہ تم بم بیگ میں رکھ کر لے جاؤ گی یا (خود کش جیکٹ) کی طرح اپنے جسم کے گرد باندھو گی؟ یا جیکٹ نہ بنائیں؟’

صفیہ نے جواب دیا ’میرا خیال ہے بیگ بہتر رہے گا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ میرا خیال ہے دونوں نہ کر لیں؟ اگر دونوں طریقے کروں تو دھماکہ زیادہ بڑا نہیں ہوگا؟ سوری، میں آپ سے بہت زیادہ مانگ رہی ہوں۔ ہا ہا ہا۔’

اس پر ایچ نے لکھا “مجھے تم سے اتفاق ہے، لیکن ساری بات خود تمہاری اپنی نیت کی ہے۔ مجھے بتاؤ کے تم کیا چاہتی ہوں، تاکہ میں اسی لحاظ سے چیزیں تیار کروں۔’

صفیہ کا جواب تھا ’اگر ایسا ہے تو دونوں طریقے اپناؤں گی۔ لیکن آپ کو مجھے سکھانا پڑے گا کہ یہ کرتے کیسے ہیں۔’

اس موقع پر ایچ نے صفیہ کو لکھا کہ اب اسے ایچ کی ’بیوی’ سے ملنا پڑے گا تا کہ وہ اس سے بیگ لے سکے اور اس کے جسم کا ناپ بھی لے کہ کس سائز کی خود کش جیکٹ بنانی ہے۔ایچ نے صفیہ کو بتایا کہ اس کی بیوی کا نام عذرا ہے۔

صفیہ غدرا سے ملنے کے لیے تیار ہو گئی اور اس نے بتا دیا کہ وہ کس دن کہاں پر ملے گی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ مجھے ایک خاندان مل گیا ہے۔’

اور پھر 22 ستمبر کو ان دونوں خواتین کی ملاقات ہو گئی۔ ملاقات میں صفیہ نے جو کچھ کہا، وہ عذرا نے خفیہ طور پر ریکارڈ کر لیا۔

صفیہ نے کہا ’میں نے زندگی میں بہت برے کام کیے ہیں، میں اب ہر اس کام کی تلافی چاہتی ہوں جو میں نے زندگی میں کیا ہے۔’ اس موقع پر صفیہ رونے لگی۔

’مجھے خوف ہے کہ میں جنت میں نہیں جا سکوں گی۔ میں اس جہاں سے تنگ آ چکی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ (برے کاموں کے بدلے میں) میں کوئی اچھا کام کر جاؤں۔’

صفیہ شیخ

دونوں خواتین بات چیت کے بعد جب ٹیوب سٹیشن کی طرف جا رہی تھیں تو انہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے خود کو مکمل طور پر ڈھانپ رکھا تھا۔ اور جب دونوں اکسبرج سٹیشن پر پہنچیں تو صفیہ نے دونوں خالی بیگ عذرا کے حوالے کر دئیے تاکہ ایچ ان میں بم بھر سکے۔

چند ہی دن بعد صفیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

فروری میں جب مقدمہ عدالت میں پہنچا تو صفیہ نے اقرار کیا کہ اس نے حملے کی تیاری کی تھی۔ لیکن صفیہ کے وکیل، بینجامن نیوٹن کا کہنا تھا کہ صفیہ کے معاملے میں جو کچھ بظاہر دکھائی دے رہا، وہ مکمل کہانی نہیں ہے۔

وکیل نے اپنے دلائل مہیں کہا کہ جب پہلے دن پولیس نے صفیہ سے تفتیش شروع کی تو انہیں اپنی کارروائی روکنا پڑ گئی تھی، کیونکہ اس وقت تک صفیہ پر ہیروئین کے اثرات موجود تھے اور اس کا نشہ پوری طرح نہیں اترا تھا۔

وکیل صفائی کے بقول ’صفیہ دہشتگردی کے جس منصوبے کی تیاری کر رہی تھی، وہ اگر ہو جاتا تو اس سے واقعی بہت بڑی تباہی پھیلتی، اور صفیہ کو اس بات کا احساس ہے۔

لیکن اس میں ’اگر ہو جاتا’ کے الفاظ بہت اہم ہیں۔ اس منصوبے میں تین افراد شامل ہیں، جن میں سے دوسرے دو افراد پولیس اہلکار تھے۔ نہ تو کوئی بم تھا اور نہ ہی کوئی بم بنایا جانا تھا۔ اس معاملے میں صرف دو پولیس افسران تھے جو صفیہ سے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے اور اس کی حوصلہ افزائی کر کے دیکھنا چاہتے تھے کہ صفیہ کہاں تک جائے گی۔’

مسٹر نیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ صفیہ اس دوران ’ہچکچاہٹ کا شکار’ بھی ہوئی تھی۔ اس نے ایچ کی نقلی ’بیوی’ کے ساتھ دوسری ملاقات منسوخ بھی کر دی تھی اور یہ بھی کہہ دیا کہ اب وہ حملہ ایسٹر کی بجائے کرسمس کے دنوں میں کرے گی۔

’یہ چیز بڑی واضح دکھائی دے رہی ہے کہ صفیہ جس تنطیم میں شامل ہوئی تھی، اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی یہ خواہش تھی کہ وہ کسی خاندان کا حصہ بن جائے، کیونکہ اس کی کبھی بھی کوئی اپنی فیملی نہیں تھی۔`

’اس کی شدید خواہش تھی کہ لوگ اسے پسند کریں اور قبول کر لیں۔’ مسٹر نیوٹن کے مقابلے میں وکیل استغاثہ نے اس معاملے کو بالکل مختلف نظر سے دیکھا اور اسی انداز میں عدالت میں پیش کیا۔

صفیہ شیخ

ایلیسن مورگن کا کہنا تھا کہ اگر خفیہ اہلکار اسے نقلی جہادی بن کر انٹرنیٹ پر نہ ملتے، تو صفیہ کسی اصلی جہادی کو تلاش کر لیتی۔

اور اس سارے معاملے کے آخری دنوں میں یہی ہوا اور صفیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ حملہ کرنا چاہتی تھی۔ جیسے ہی عدالت میں صفیہ کے وکیل صفائی نے اپنے دلائل مکمل کیے اور اسے واپس جیل لایا گیا تو صفیہ نے کسی شخص کو ٹیلیفون کیا۔

حسب معمول پولیس یہ کال بھی ریکارڈ کر رہی تھی۔ اور صفیہ بھی جانتی تھی کہ حکام اس کی کال ریکارڈ کر رہے ہوں گے۔ وہ فون پر کہہ رہی تھی کہ “میں بہت تھک چکی ہوں۔ میرے قدم قطعاً نہیں لڑکھڑائے تھے۔۔ ہیں ناں۔۔ میں یہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار تھی۔۔ میرے ذہن میں کوئی شک نہیں تھا۔’

اگر قانون کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پولیس نے آن لائن پر نقلی کردار ادا کر کے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ برطانیہ کی عدالتوں میں ’اینٹریمپنٹ’ یا کسی ممکنہ ملـزم کو جال میں پھانسنے کی حکمت عملی کو آپ خلاف قانون نہیں ثابت کر سکتے کیونکہ اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔

اس کے علاوہ عدالت میں خفیہ اہلکاروں اور صفیہ کے درمیان آن لائن گفتگو کا جو ریکارڈ پیش کیا گیا اس میں آپ کو پولیس افسران سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں، نہ کہ صفیہ کو یہ بتاتے ہوئے کہ اسے فلاں جگہ کو ہدف بنانا چاہیے۔

کنگز کالج سے منسلک راجن بسرا کہتے ہیں کہ صفیہ کے مقدمے سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ممکنہ دہشتگرد کی زندگی میں وقت سے پہلے داخل ہو کر اسے کسی کارروائی سے دور رکھنا کتنا مشکل کام ہے۔

ان کے بقول ’انتہاپسندی کی طرف جانے والا راستہ کبھی سیدھی لکیر کی شکل میں نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ انتہا پسندی کے لیے، صفیہ کی حمایت میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا۔ اسی لیے انسداد دہشتگردی کے حوالے سے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کب اور کس وقت اس قسم کے لوگوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔ صفیہ کے معاملے میں خفیہ اہلکار اس سے زیادہ کیا کر سکتے تھے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp