نجی ٹی وی کا سیاسی اداکار اور عثمان بزدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے نجی ٹی وی چینل شروع ہوئے ہیں، اود بلاؤ اینکر بن گئے ہیں اور قوم کو عذاب میں ڈالے رکھتے ہیں، ایسی ایسی بریکنگ نیوز دیتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے، نجی ٹی وی چینلز آنے سے جتنی لاٹری اینکرز کی نکلی ہے اتنی شاید میڈیا مالکان کی بھی نہیں نکلی، مجھے یاد ہے کہ جب ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل شروع ہوا تو ہمارے گروپ ایڈیٹر اور صحافیوں کے ہر دلعزیز صحافی عباس اطہر المعروف شاہ جی سے کہا گیا کہ وہ بھی پروگرام کیا کریں مگر شاہ جی ان اینکرز کو ”سیاسی اداکار“ قرار دے کر پروگرام کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے مگر دباؤ بڑھا تو ”کالم کار“ کے نام سے پروگرام شروع کیا جس میں ہارون الرشید، مجیب الرحمان شامی، ایاز خان اور کوئی ایک مہمان شامل ہوتا، شاہ جی سیاسی اداکار بننے کی کوشش کرتے اور پروگرام کے بعد کمرے میں آکر خود کو کوستے، کس اداکاری میں ڈال دیا ہے۔

نجی ٹی وی چینلز شروع ہونے پر سب سے پہلے خبر دینے اور ریٹنگ کی دورڑ نے برقی صحافت کا بہت جلد ہی جنازہ نکال دیا ہے، مہمانوں کو بلا کر توہین کرنا معمول بن گیا ہے، حال ہی میں ایک اینکر نے پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما سے جو گفتگو کی اس پر ہم صحافی نادم ہیں کیونکہ جس بندے نے ایم بی اے کیا ہوا اور وہ ایڈمنسٹریشن کی ملازمت کے لئے درخواست دے اور مالک اسے رپورٹر بنادیں اور کچھ برس بعد اسے اینکر بنا کر ہیرو بنائیں گے اور پھر ایسے لوگ اسی طرح اوقات سے باہر ہوتے ہیں

پاکستان کے بہت بڑے صحافی (یہ ان کا اپنا دعوی ہے ) جو پروگرام میں نوحہ خوانی ایسی کرتے اور ایسی ”مجلس“ پڑھتے ہیں کہ سننے والے یقین کرلیتے ہیں کہ بس اب قیامت آنے ہی والی ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت میں موصوف سب سے معروف نیوز چینل پر رات کو پروگرام کرتے اور زرداری حکومت ختم کرکے اٹھتے، صبح جب قوم بیدار ہوتی تو زرداری حکومت مضبوط سے کھڑی پاتے۔

دو روز قبل اس سیاسی اداکار نے اپنے پروگرام میں ایسی ہی ایک ”مجلس“ پڑھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عین وقت پر صحافت کے اس عظیم سپوت کو انٹرویو دینے سے انکار کر دیا ہے، کیا کیا الفاظ کہے، سن کر کم ازکم مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی معلوم تھا کہ یہ ان کا انداز صحافت ہے، اس کے بعد ایوان وزیراعلی سے معلومات لیں تو راز کھلا کہ موصوف کسی مشن پر تھے، پہلے سوالنامہ بھیجا جس کے مطابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے تیاری کرلی، محکموں سے ڈیٹا منگوا کر مکمل اور ٹھوس معلومات جمع کیں، اس سیاسی اداکار نے انٹرویو سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل تمام سوالات تبدیل کردیئے، ان میں متنازع باتیں ڈالی گئیں، وہ سوالات انہوں نے سوشل میڈیا پر ڈالے بھی دیے ہیں۔

ان سوالات کا مقصد واحد یہ تھا کہ عثمان بزدار کے منہ سے کوئی ایسی بات نکلوائی جائے جس سے عمران خان ناراض ہوں اور پھر ٹی وی سکرین پر پھٹے مار کر اپنا مقصد حاصل کیا جائے، لوگ عثمان بزدار کو جتنا معصوم اور سیدھا سادہ سمجھتے ہیں وہ اتنا ہے نہیں، جہاں دیدہ انسان ہے، فوراً پلان سمجھ گئے اور عقل مندی کامظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی اداکار کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے انٹرویو دینے سے ہی انکار کر دیا۔

انکار کا سننا تھا کہ سیاسی اداکار آپے سے باہر ہوگئے اور پروگرام میں نوحہ خوانی شروع کردی، سیاسی اداکار کو یہ عقل نہ آئی کہ وزیراعلی پنجاب کا عین وقت پر انٹرویو سے انکار کر دینا خود ان کے لئے باعث شرمندگی ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس کو چھپا جاتے تاکہ ان کی عزت محفوظ رہتی مگر ان کو یہ بات سمجھ نہ آئی، موصوف یہاں تک نہ رہے اگلے روز وی لاگ میں وزیراعلی پنجاب کے لئے عمران خان کو ان کی گھٹیا چوائس تک قرار دیدیا، یہ زبان ہے ملک کے معروف سیاسی اداکار کی ہے، انہوں نے اخلاقیات اور صحافتی اقدار کا جنازہ ہی نکال دیا۔

جنوری میں مجھے خیال آیا کیوں نہ عثمان بزدار کا اپنے اخبار کے سنڈے میگزین کے لئے انٹرویو کر لیا جائے، پیغام بھیجا چند روز بعد وقت مل گیا، ان کے پی آر او عمران اسلم نے کہا کہ اگر آپ برا نہ مانے ں تو سوالنامہ بھیج دیں، جوابات پوری تحقیق کرکے اور ٹھوس دیے جائیں گے تاکہ عوام کو کوئی غلط معلومات نہ چلی جائیں، میں نے اپنے میگزین ایڈیٹر محی الدین سے بات کی تو انہوں نے اس بات کو سراہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ قاری تک تمام باتیں ٹھوس اور مکمل پہنچنی چاہیے ں چنانچہ ان کو سوالنامہ بھیج دیا گیا، انٹرویو کے لئے گئے تو پی آر او عمران اسلم نے کہا کہ آپ کے تمام سوالوں کے جوابات لکھ دیے ہیں جو کہ وزیراعلیٰ صاحب نے خود لکھوائے ہیں تمام معلومات متعلقہ محکموں سے حاصل کرکے پرفٹ فگرز دیے ہیں۔

انٹرویو کے لئے پہنچے تو عثمان بزدار نے پرتپاک خیرمقدم کیا، عثمان بزدار سے یونیورسٹی سے تعلق تھا جب ہم 91۔ 93 میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے، اس بے تکلفی کافائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم نے سوالات کافی سخت کیے ہیں امید ہے آپ نے برا محسوس نہیں کیا ہوگا مگر اب آپ کو سامنے دیکھ کر جو سوالات ذہن میں ابھر رہے ہیں ان پر کچھ بات کر لیں، عثمان بزدار نے کہا کیوں نہیں بالکل کریں، بات شروع ہوئی اور پھر ہوتی ہی چلی گئی، پندرہ، بیس منٹ بعد ان کے عملے نے فوٹو سیشن بنوانے کے لئے کہا تو عثمان بزدار نے انہیں روک دیا اور کہا ”اتنی اچھی باتیں ہو رہی ہیں، ان کو پوچھنے دیں،“ پھر سوا گھنٹہ بعد خود ہی اجازت لے کر اٹھے اور بھرپور انٹرویو کیا۔ جب ہم جیسے معمولی صحافیوں کے سوالوں کے جواب پر عثمان بزدار نے اعتراض نہیں کیا اور مکمل اور مدلل جوابات دیے تو سیاسی اداکار کو کیوں انکار کیا، ظاہر ہے سازش بے نقاب ہوگئی تھی

محی الدین پہلی ہی ملاقات میں عثمان بزدار کے فین بن گئے، واپسی پر ان کی رائے تھی کہ تمام معلومات وزیراعلی کی ٹپس پر تھیں، سامنے کوئی پرچی نہیں رکھی، نہ نوٹس رکھے تھے اور نہ کسی انٹرویو کے دوران کسی سے مدد لی، محی الدین کا کہنا تھا کہ یار ہم تو شہباز شریف کو ہی ذہین سمجھتے تھے، عثمان بزدار تو واقعی کام کا بندہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جب آپ نے کسی کو مہمان بنایا ہے تو یہ کہاں کی شرافت ہے کہ مہمان بنا کر اسے بے عزت یا شرمندہ کریں، سیاسی اداکار کے چینل کے ہی ایک اور اینکر نے بھی عثمان بزدار کا انٹرویو کیا تھا اس کو کیوں نہ انکار کیا، سیاسی اداکار نے یہ بھی دعوی کیا کہ عثمان بزدار نے ان کے پروگرام میں آنے کے لئے خواہش کا اظہار کیا تھا جو کہ سراسر جھوٹ ہے، عثمان بزدار شو باز ہوتا تو لوگ دوسال میں پرانے شوباز کو بھول جاتے۔ میرا مقصد عثمان بزدار کا دفاع کرنا نہیں، سیاسی اداکار کی چالبازی کو آئینہ دکھانا تھا کہ جناب ہزاروں تحقیقاتی خبریں دینے والے سیاسی اداکار کو ایک عثمان بزدارنے چت کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *