ایدھی۔ اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت کم ایسے ہوتا ہے کہ لکھنے کا شغف رکھنے والے لکھنا چاہیں اور رک جائیں، بلا وجہ نہیں بلکہ جو عنوان انہیں حاصل ہوا اس کے تقاضے بڑے ہیں۔ کہاں سے اور کیسے وہ الفاظ لائے جائیں جو حق ادا کر سکیں۔ ایک سطر لکھیں پھر اسے مٹائیں کیونکہ ایک مثالی آدمی کے سماجی کردار اور اس کی خدمت کا اعتراف کرنا آسان نہیں ہے۔ اکثر موضوع کردار کی شکل میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کو روایتی الفاظ کے ذریعے بیان کرنا شاید ان کے شایان شان نہیں۔

الفاظ کی حرمت کا اندازہ یقیناً ایسے موقعوں پہ ہی ہوتا ہے۔ گویا الفاظ کا استعمال سماجی تاریخ میں اتنا بے دریغ طریقے سے ہوتا رہا اور الفاظ کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا اس کی داستان الگ ہے۔ الفاظ بھی شاید مقید ہیں، بے بس ہیں، الفاظ کو آزاد کرانے کے لیے بھی شاید ہمیں ”ایدھی“ چاہیے، جو الفاظ اور ان کے پیچھے کیفیات کے باہمی تعلق کو بحال کر سکے۔

آج جو ہم میں نہیں وہ جب دنیا میں اپنے فکری کردار کی متحرک تصویر لیے موجود رہا تو اس نے خاموش دعوت دی، ”لکھ سکتے ہو تو مجھ پہ لکھو۔ میں جیسا ہوں ویسا لکھو اپنی باتوں سے مجھے تسلی مت دو تمہاری تعریف میں حقیقت سہی مگر مانو کہ جو تمہیں کرنا ہے اس میں تم اتنے سنجیدہ نہیں اور اس کے لیے تم نجانے کس دلیل پہ قائم ہو تمہاری منطق تمہیں کیسے مطمئن کیے ہوئے ہے۔ یہ لاشوں کے انبار جو میں نے اٹھائے ہیں یہ شہروں کی گلیوں میں، چوراہوں اور بیچ بازار کے جو تم خون کی ہولی دیکھتے رہے ہو کیا یہ میرے کندھوں کا امتحان تھا؟

میری ہمت کا تماشا دیکھنے والے جو ایوانوں میں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے بیٹھے ہیں کبھی ان سے سوال کرنا کہ ہر بم دھماکے، آتش زدگی اور دہشت گردی کے واقعات میں لوگوں کو زندہ یا مردہ اٹھانا صرف ایدھی کا فرض تھا؟ ایدھی تو ان ارباب اختیار کے منہ پہ ایک“ طمانچہ ”تھا مگر وہ نہ جان سکے اب میرے بعد قصیدہ گوئی سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ انہیں احساس دلاؤ اور مطالبہ کرو کہ وہ آرام دہ نشستیں چھوڑ کر ان مظلوموں کی اذیتوں کا شمار کریں۔

یہ خلیج جو صاحب اختیار اور صاحب انتظار کے درمیان حائل ہے اس کو دور کرنے کے لیے لکھتے رہنا، صدا بلند کرتے رہنا۔ میں اپنی آنکھیں یہیں کسی چہرے پہ سجا ئے جا رہا ہوں، اس امید سے کہ میں دیکھ سکوں کہ تم اپنے مسیحا خود بنو گے یا پھر کسی ایدھی کے منتظر رہو گے۔ اپنے حق کے لیے سوال کرو گے یا سر تسلیم خم کرو گے۔ میں اپنی سوچ کو عمل کے لباس میں ملبوس کر کے جا رہا ہوں اس سے استفادہ کر لینا۔“

آج ایدھی کو مرتے وقت کوئی اور دشواری نہیں ہو سکتی تھی اس کا سینہ چوڑا ہوا جا رہا تھا مگر وہ اور زیادہ پر سکوں مرتا اگر اسے یقین ہوتا کہ لاچاروں کی زندگی سنور چکی ہے۔ ایدھی کا مقصد معترف نہیں بلکہ متحرک کردار پیدا کرنا تھا، اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ کار فلاح کے لیے اپنی ہی ذات کی نفی کر دیتا۔ کیا وہ جنت کی تلاش میں اتنا آگے تک آ گیا تھا کہ زندگی کی تمام رنگینیاں اس نے ان افراد کے لیے رد کر دیں جو بے یار تھے، جن کے اپنوں کو بھی ان کی خبر گیری نصیب نہ تھی۔

ایسا نہیں تھا، ہرگز نہیں، بلکہ اس نے تو سماجی خدمت کے جذبے کو اجاگر کرنے کی غرض سے ایک علامتی مہم کا آغاز کیا تھا تا کہ اصحاب اختیار کو کہیں یہ رغبت ملتی کہ وہ اس کے کام کو اپنا فریضہ سمجھ لیتے۔ کچھ نہیں تو کوئی دنیاوی لالچ ہی پال لیتے، اسی بہانے ان کا فریضہ تو ادا ہو جاتا۔ مگر ایسا نہ ہوا اور ایدھی کی تعریفی و توصیفی مہم خود اس کا ہی مذاق اڑاتی رہی۔ لوگ ایدھی کی مدد بلاشبہ کرتے رہے مگر جنہیں وہ حکمرانی کا اختیار سونپتے رہے انہوں نے بھی اس کار فلاح کو ایدھی کی ہی ذمہ داری سمجھا۔

لوگ اسے خیرات دیتے رہے اور دوسری طرف لاشوں کے انبار لگتے رہے، اسے پل بھر کے لیے بھی سکوں نہیں ملا کبھی قدرتی آفات آ گھیرتیں تو کبھی یہیں زمیں سے کوئی شر پھوٹتا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیتا۔ ایک طرف لوگ صاف پانی کے لیے بلکتے رہتے تو کہیں ذرا پرے لوگ بارشی پانی میں غرق ہوتے رہے۔ پانی کی قلت سے بھی لوگ مرے اور اس کے بہتات نے بھی لاکھوں گھروں کو ڈبویا۔ جنہیں ایدھی کی سروسز کے ذریعے ریلیف ملتا رہا۔

ایدھی جیسے درویش کا ہدف مقام و منصب نہیں بلکہ وہ درد کے ماروں کا سہارا تھا، جسے اوروں کا درد ہو وہ لالچی طبیعت سے باز رہتا ہے۔ اسے یہ صدمہ لے کر دنیا سے جانا پڑا کہ مسئلوں کی تعداد میں کمی نہ ہوئی بلکہ یہ بڑھتے گئے۔ اس نے اکیلے جس سفر کا آغاز کیا اس میں لوگوں کی بڑی اکثریت نے مالی معاونت کی، اس کی تعظیم کی اور اب اس کے بعد اسے خراج تحسین بھی پیش کر رہے ہیں۔ اسے کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا، اس کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے معتبر ترین نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

مگر شاید ایک کسک رہ گئی کہ وہ جو عظم لے کے چلا تھا، اگر آج وہ قومی تحریک بن چکا ہوتا اور اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے اگر ایدھی کے عمل کا ترجمہ کر لیتے تو اس کی گزری زندگی کا حقیقی انعام اسے نصیب ہو جاتا۔ ”قتل نہ کرو جھولے میں ڈالو۔“ جیسی مہم کو سراہتے سراہتے لوگ معصوم زندگیوں کو قتل سے آزاد کر دیتے۔ اسے جھولوں کے خالی رہنے کی فکر شاید اتنی نہ ہوتی جتنی آج ان کے کم پڑ جانے کی فکر اس موت کے قرب میں بھی اسے ستا رہی ہو گی۔

ان کی ولدیت اور اس سے منسلک جذباتی انسیت کو کوئی ایدھی ممکن نہیں بنا سکتا۔ نوجواں بچیوں کو انسان کی ملکیت سے چھٹکارا ایدھی کے مراکز نہیں دلا سکے۔ اس نے انہیں چھت مہیا کر کے قبول کیا تھا نہ کہ نفرت کی گٹھڑی بنا کر گھر کے کونے میں پھینک دیا۔ یہ سب اس نے انسانیت سوز رواج کو پنپنے سے روکنے کے لیے کیا تھا مگر لوگ ایدھی کے کیے پہ نغمے گاتے رہے واہ! واہ! کرتے رہے مگر سمجھنے کی زحمت نہ کی کہ اس کاوش کے پیچھے کیا راز ہے؟ یہ معترف لوگ ان عورتوں کو مرد کی نام نہاد غیرت اور ملکیت سے آزادی نہیں دلا سکے۔

آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہا تو دم رخصت اس کے اثاثے میں اک فلاحی ادارہ تھا جو اس ملک کے ان تمام افراد کے حوالے ہے جو مسکینوں کے لیے درد رکھتے ہیں۔ اس ادارے کا خاموش پیغام شاید یہی ہے کہ اپنی توانائیوں کو سماجی بندشوں کو ختم کرنے پہ لگانا اپنے قلم کی طاقت پہ یقین رکھنا، اس سے سچ کی کرنیں پھوٹیں گی۔ تمہارے کیے گئے اعتماد پہ تمہارا شکریہ مگر ایدھی درخواست گزار ہے کہ وہ بھی ایک کردار تھا جو تمہیں انسانی خدمت کی تلقین اپنے عمل سے کرتا رہا۔ ریاست نئی ایدھی کو تلاش کرنے کی بجائے خود ایدھی کے مشن کو اپنائے۔ ایدھی کا اصل اعزاز ہی یہی ہے کہ قوم اسے پہچان لے، اس فریضے کو سب نے اختیار کرنا ہے اور قائدین کو یاد کرانا ہے کہ یہ ملک اور اس کے شہری تمہاری ذمہ داری ہیں ہر بار نہ ہی کوئی ایدھی آئے گا نہ ہی جناح۔

از جانب فراز
ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *