مفتی صاحب ایک ٹویٹ ان مذہبی جنونیوں کے لیے بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کی ہندو برادری نے حکومت کی الاٹ کردہ زمین پر مندر کی بیرونی دیوار بنانی شروع کی تو ٹویٹر پر مفتیان کرام نے ٹویٹس کی بارش کر دیں۔ ایک مفتی صاحب اپنی ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلمان اپنی عبادت گاہیں برقرار رکھ سکتے ہیں اور نئی عبادت گاہوں کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں لیکن حکومت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے خرچ پر ان کی عبادت گاہ تعمیر کرے، خاص طور پر ایسی جگہ جہاں ان کی آبادی بہت کم ہو۔

ہمیں یہ ٹویٹ ہضم ہو جاتی اگر کبھی مفتی صاحب نے ایک ہی گلی میں تیسری مسجد کے بننے پر بھی ایسی ہی ٹویٹ کی ہوتی۔ تب تو بس ماشاءاللہ، سبحان اللہ کی گردان ہی سنائی دیتی ہے۔ تب کوئی مولوی آبادی کا شمار کرتا دکھائی نہیں دیتا لیکن جہاں اقلیتوں کی بات آئے وہاں انہیں سارے اصول یاد آ جاتے ہیں۔

مفتی صاحب کی اصول پرستی کا حال تو ہمیں معلوم ہو گیا۔ وہ کبھی اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت اس رنج و الم کے ساتھ نہیں کرتے جس کا اظہار انہوں نے اپنی اس ٹویٹ میں کیا ہے، ان کا یہ رنج و الم عبادت گاہوں کی تعمیر پر ہی نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں؟

اسی مندر کی مثال لے لیں۔ مندر کی تعمیر پر علمائے کرام نے اعتراض اٹھایا تو سی ڈی اے نے فوراً اس کی تعمیر رکوا دی۔ اگلے ہی روز ہمارے کچھ بھائی پلاٹ پر اذان دینے پہنچ گئے۔ ایک نے جوش میں آ کر تعمیر شدہ دیوار کے حصے کو گرانا شروع کر دیا۔ انہیں اینٹ سے اینٹ بجاتے دیکھ کر ایک بھائی نے اپنا موبائل بھی نکال لیا۔ انہیں شاید فرشتوں کی ریکارڈ کیپنگ پر شک تھا یا یقین تھا کہ بائیں کندھے والا فرشتہ ہی کام سے لگا ہوگا۔ ایک بھائی نے ان سے بھی چار ہاتھ آگے نکلتے ہوئے پلاٹ پر موجود سریا اکٹھا کرنا شروع کر دیا، نہ ہوگا سریا اور نہ بنے گا مندر۔ اب اللہ جانے وہ اس سرے سے کسی مسجد کی تعمیر کریں گے یا اسے بیچ کر کچھ پیسے بنائیں گے۔ مفتی صاحب یہ آرٹیکل پڑھیں تو ہمیں ضرور بتائیں کہ یہ اعمال جائز ہیں یا نا جائز۔

مفتی صاحب اگر کہیں کہ انہیں اس بارے کوئی علم نہیں تو ہم یہ بات نہیں ماننے والے۔ جنہوں نے مفتی صاحب کو مندر کی تعمیر کی اطلاع دی ہوگی، انہوں نے انہیں ان کارناموں کا بھی ضرور بتایا ہوگا۔ مفتی صاحب کا جائز نا جائز شاید حکومت کے خرچ تک ہی محدود تھا۔

ہم نے خود مفتی صاحب کا ٹویٹر اکاؤنٹ تین بار چیک کیا کہ کہیں کوئی مذمت، کوئی ملامت، کوئی تنبیہ، پر نہ۔ ۔ ۔ مفتی صاحب ہمیں کبھی مایوس نہیں کرتے۔ ہاں انہوں نے کشمیری بہن بھائیوں کے لیے کوئی تنبیہ ضرور جاری کی ہوئی ہے۔ فی الحال وہ ہمارا درد سر نہیں تو اس کی تفصیل میں نہیں جاتے۔ جنہیں جاننے کا شوق ہے وہ مفتی صاحب کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا دورہ کر آئیں۔

ہمارا مدعا تو یہ ہے کہ مفتی صاحب ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلمانوں کا اپنی عبادت گاہیں برقرار رکھنے اور نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق مانتے ہیں لیکن اپنے مسلمان بھائیوں کو ان لوگوں کی عبادت گاہوں کا احترام کرنا نہیں سکھاتے۔

اگر ایسا ہوتا تو اس کا نمونہ آپ کو ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ضرور نظر آتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان افراد کا انفرادی معاملہ ہے۔ مفتی صاحب ہر فرد کے اعمال کے ذمہ دار نہیں۔ ہم اس توجیہہ کو نہیں مانتے۔ مفتی صاحب معلم ہیں۔ اگر وہ حکومت کو اس کے فرائض یاد دلا سکتے ہیں تو عوام کو کیوں نہیں؟ خاص طور پر جب دونوں فرائض ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔

اگر مفتی صاحب مندر کی تعمیر کے حوالے سے ٹویٹ کر سکتے ہیں تو مندر کی زمین پر اذان دینے والوں کے لیے کیوں ٹویٹ نہیں کر سکتے؟ اگر ایسا کوئی عمل کسی کافر ملک میں کسی مسجد کے پلاٹ پر ہوا ہوتا تو اس وقت مفتی صاحب رو رہے ہوتے۔ اب ظلم ہمارے اپنے ملک میں ہوا ہے، ظلم کرنے والے بھی ہمارے اپنے بھائی ہیں، ان کو سمجھانا مفتی صاحب کا کام نہیں تو کس کا کام ہے؟

ہمارا مذہب تو اس جنونیت کی تعلیم نہیں دیتا۔ اگر دیتا ہے تو مفتی صاحب ہمیں بتا دیں، ہم اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ نہیں دیتا تو وہ ان جنونیوں کی اصلاح کر دیں۔ ہم تو بس اتنی سی گزارش کر رہے ہیں۔ اب مفتی صاحب سے یہ درخواست نہ کریں تو کس سے کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *