سلیکشن کا بندوبست پورے نہ ہونے پر گلگت بلتستان میں الیکشن ملتوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان انتخابات حسب توقع ملتوی ہو گئے۔ بنیادی وجہ تو الیکشن کمیشن کی نا اہلی ہے یعنی ووٹر لسٹوں کا تیار نہ ہونا ’تاہم سیاسی وجوہات بھی الیکشن کے التوا کے پیچھے کارفرما ہیں۔ ہم اپنے اظہاریوں میں تواتر سے لکھتے آئے ہیں کہ یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ ابھی سلیکشن کے بندوبست پورے نہیں تھے۔ آج اگر پولنگ کرائی جائے تو تحریک انصاف کو 6 سیٹیں بھی نہ ملیں۔ یہ بغیر کسی آئین اور اصول قانون کے چلنے والے خطے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اور بھی مذاق ہے کہ جو پارٹی آج اسمبلی کی ایک چوتھائی سیٹیں بھی لینے کی پوزیشن میں نہیں اس کو دو چار ماہ بعد حکومت بنا کے دی جائے گی۔ چونکہ سلیکشن کے بندوبست پورے نہیں تھے اس لئے الیکشن ملتوی ہونا قرین از قیاس تھا۔ سلیکٹرز کی فوری پریشانی کیا ہے آئیے ذرا ہر حلقے میں جا کر جائزہ لیتے ہیں۔

تحریک انصاف کے لئے سب سے بڑا روگ اس وقت ”سی ایم ان ویٹنگ“ جعفر شاہ کا حلقہ بنا ہوا ہے۔ شاہ صاحب امید لگائے بیٹھے تھے کہ اسلامی تحریک کے مضبوط امیدوار کیپٹن شفیع کو رام کرا لیا جائے گا۔ یوں وہ بغیر کسی رکاوٹ اور کسی اور کی منت سماجت کے وزیر اعلی ہاؤس کے مکین بن جائیں گے، مگر کیپٹن شفیع نے اپنے تندوتیز بیانات اور سیاسی کمپین کے ذریعے جعفر شاہ کو رگڑا دیا ہوا ہے، اوپر سے ایم ڈبلیو ایم نے شوشہ چھوڑا ہوا ہے کہ کیپٹن شفیع اپنی ”سیاسی بہادری“ اور بولڈ شخصیت کی بنا پر ہمارے بھی امیدوار ہیں، ان کے حق میں مجلس امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

یوں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئے بغیر یا ان دونوں کی طرف سے کوئی ڈھیل ملے بغیر جعفر شاہ کا انتخابی اکھاڑے میں اترنا رسک سے خالی نہیں ہو گا۔ ان کے مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر اقبال اور پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گلگت شہر کے دو حلقوں یعنی حلقہ ایک اور دو میں بھی پی ٹی آئی دوسروں کی نسبت نحیف پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے مضبوط صدور امجد ایڈوکیٹ اور حافظ حفیظ الرحمان کی ٹکر کے امیدوار اس کے پاس نہیں۔

بلتستان کے سیاسی میدان پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ یہاں کے 9 میں سے صرف 2 حلقوں میں تحریک انصاف کے پاس تگڑے امیدوار ہیں، تاہم جی بی اے 11 کھرمنگ میں مضبوط پوزیشن کے باوجود صورت حال واضح نہیں۔ پارٹی کے صوبائی نائب صدر امجد زیدی اور مقامی قیادت سے پوچھے بغیر سیدھے مرکزی سیکرٹریٹ کے ذریعے پارٹی میں انٹری مارنے والے اہم انتخابی کھلاڑی آغا محمد علی شاہ کے درمیان ٹکٹ کے لئے گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ دونوں روایتی حریفوں میں سے جو ٹکٹ سے محروم رہا اس نے پی ٹی آئی کے خلاف ہی خم ٹھونک کے میدان میں اترنا ہے۔

دوسرا حلقہ جہاں تحریک انصاف کو الیکٹیبل میسر ہے وہ شوگر ہے۔ حلقہ نمبر 3 میں پی ٹی آئی کے پاس وزیر سلیم کی صورت میں ووٹ بنک کا حامل امیدوار ضرور ہے مگر پارٹی کنفیوزڈ ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کی خواہش کے باوجود فدا محمد ناشاد نہ ہاں کر رہے ہیں نہ نا کر رہے۔ گانچھے میں ابراہیم ثنائی اسی طرح پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ اگلی حکومت ہونے کی دعویدار جماعت کے پاس ضلع گانچھے کے تینوں حلقوں میں اب تک الیکٹیبلز موجود نہیں جبکہ مد مقابل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مضبوط امیدوار رکھتی ہیں۔

سکردو شہر کے حلقے میں اس وقت پی ٹی آئی کے 4 امیدوار ٹکٹ کے آسرے میں ہیں۔ گورنر راجہ جلال کا پہلا اور آخری مقصد اپنے بھائی راجہ جعفر علی خان کو ٹکٹ دلانا ہے۔ مگر اگر راجہ جلال کے بھائی ہونے کے سبب ہی راجہ جعفر علی پی ٹی آئی پارلیمانی بورڈ کی نظر انتخاب ٹھہرتے ہیں تو کارکن بڑے بدظن ہوں گے۔ ضلعی پارٹی صدر راجہ زکریا کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں پی ٹی آئی سکردو میں بڑی پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح ریجنل صدر وزیر ولایت اور نظریاتی کارکن تقی اخونزادہ ایک دوسرے کو تو قبول کر سکتے ہیں مگر اول الذکر دونوں امیدواروں کے خلاف یہ دونوں آخری حد تک مزاحمت کریں گے۔

سکردو حلقہ نمبر دو اور روندو کے حلقے پی ٹی آئی نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے بچا کے رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آخر کار سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونی ہے، یہ پی ٹی آئی کی مجبوری ہے۔ لہذا بلتستان کی حد تک تحریک انصاف کی تیاری بالکل بھی نہیں ہے۔ شوگر کے سوا باقی 8 حلقوں میں امیدوار ہی فائنل نہیں، گانچھے سمیت کئی حلقوں میں الیکٹیبلز نہیں، فدا محمد ناشاد کی لابی کے ساتھ اندروں خانہ بات چیت چل رہی ہے مگر بات فائنل نہیں، سو انتخابات کا التوا میں جانا حیران کن نہیں۔

استور کے ایک حلقے میں خالد خورشید کی صورت میں پی ٹی آئی کے پاس مناسب امیدوار موجود ہے مگر دوسرے حلقے میں صورتحال واضح نہیں۔ غذر کے حقہ 19 میں ظفر شادم خیل کی صورت میں امیدوار ڈھونڈ تو لیا گیا ہے مگر نواز خان ناجی اور پیپلز پارٹی کے سابق گورنر پیر کرم علی شاہ کے حلقے میں شادم خیل کی اپوزیشن خود پی ٹی آئی کے پرانے نظریاتی کارکن بنے ہوئے ہیں۔ نگر کے دو میں سے ایک حلقے میں پرنس قاسم مضبوط ہیں تاہم مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ الائنس نہ بننے کی صورت میں حاجی رضوان ان کو ٹف ٹائم دینے کے لئے موجود ہیں۔

دیامر سے ڈرامائی خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر شاہ ناصر نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ گویا پورے گلگت بلتستان میں منتظر حکومت ہونے کی دعویدار پی ٹی آئی کے پاس ڈھنگ کے امیدوار کم ہی ہیں۔ سو بروقت الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹ الیکشن کمیشن کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی عدم تیاری بھی ہے۔ سلیکٹرز مطمئن ہوں گے اور بندوبست پورے ہوں گے تو الیکشن کے نام پر سلیکشن ہو گی۔ سلیکشن کو یہاں الیکشن کہا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *