نئی نویلی دلہن تین لاکھ میں بیچ دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دلہن کی رخصتی کا موقع تھا، دلہن اپنے والدین، بہن بھائیوں، سکھیوں کو گلے مل کر رو رہی تھی، ہر آنکھ اشکبار تھی، دلہن کو اپنوں سے دور ہونے کا غم تو تھا لیکن دل کے ارمان پورے ہونے کی خوشی بھی تھی، یہ وہ ارمان تھے جو ہر لڑکی کے دل میں ہوتے ہیں کہ ایک دن ایک شہزادہ آئے گا اور اسے بیاہ کر لے جائے گا۔ وہ بابل کا گھر چھوڑ کر دل میں خوبصورت خواب سجائے پیا گھر جا رہی تھی۔ والدین نے دعاؤں کے ساتھ بیٹی کو رخصت کیا۔

دولہا عثمان کو دیکھ کر ہر کسی کا خیال تھا کہ یہ اپنی بیوی کو خوش رکھے گا اور اسے زندگی کی تمام خوشیاں دے گا اور شاید اسی بناء پر دلہن کے والدین نے اس سے رشتہ جوڑا تھا۔ دلہن رخصت ہوئی اور پیا گھر آ گئی۔ سہاگ رات میں دولہا دلہن نے ایک ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے کے عہد و پیماں کیے ۔ عثمان نے اپنی شریک حیات کو یقین دلایا کہ وہ زندگی کی ہر خوشی اس کے قدموں میں رکھ دے گا۔ شادی کا ایک دن گزر گیا دونوں بہت خوش تھے، اگلے روز عثمان نے اپنی بیوی سے کہا کہ بہترین لباس پہن کر خوب سج دھج کر تیار ہو جاؤ۔

بیوی نے خوشی سے پوچھا کہ کہیں جانا ہے؟ عثمان بولا ”ہاں تمھیں سیر کرانے لاہور لے جا رہا ہوں“ یہ سن کر اس کی بیوی خوش ہو گئی اور جلدی سے نئی نویلی دلہن کی طرح تیار ہو گئی۔ عثمان اپنی دلہن کو لے کر لاہور آ گیا، سیر کے دوران وہ کچھ کھاتے پیتے بھی رہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک اس کی بیوی کو چکر آنے لگے اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ شاید اسے کوئی نشہ آور چیز کھلائی گئی تھی۔

جب اسے ہوش آیا تو اس کے خوابوں کی حسین دنیا اجڑ چکی تھی، وہ ہوس کے پجاریوں میں گھری ہوئی تھی، اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ زندگی کی ہر خوشی دینے کا وعدہ کرنے والا اس کے خوابوں کا شہزادہ خود اس کی زندگی تباہ کر کے جا چکا تھا۔ عثمان اپنی نئی نویلی دلہن کو تین لاکھ میں درندوں کے ہاتھوں بیچ کر رفو چکر ہوچکا تھا۔ درندوں نے نئی نویلی دلہن کے ساتھ جو ظلم اور تشدد کیا وہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔ تین ہفتے جنسی درندوں میں گزارنے کے بعد کسی طرح موقع پاکر بدقسمت دلہن وہاں سے بھاگ نکلی اور والدین کے گھر پہنچ گئی۔

ایسی فلمی کہانیاں یا افسانے دیکھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں لیکن اسی طرح کا ایک سچا واقعہ گجرانوالہ میں پیش آیا ہے۔ یہ شادی پچھلے مہینے جون میں ہوئی جس کے خوفناک انجام کا انکشاف اس وقت ہوا جب دلہن تین ہفتوں تک لٹنے کے بعد کسی نہ کسی طرح بھاگ کر واپس اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی۔ گجرانوالہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل چیک اپ کرنے کے بعد مقدمہ درج کر لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ ایک اطلاع کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم عثمان سمیت تین افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ جس کے بعد اس شادی اور اس سے جڑے ہر پنے کی کہانی سب سے سامنے آ جائے گی۔

نئی نویلی دلہن کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں اس شادی اور اس کے خوفناک انجام کے بارے میں سن کر اور پڑھ کر ہر کسی کی روح کانپ گئی ہوگی کہ دنیا میں کس قدر سنگدل انسان بستے ہیں جو کورونا جیسے عذاب کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر بھی گناہ سے توبہ کرنے کی بجائے گھناونے فعل کر رہے ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ ایک دن جب اللہ کی پکڑ میں آئیں گے تو شاید ان کے لئے توبہ کے دروازے بھی بند ہوچکے ہوں گے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *