سوری! لڑکی کی عمر زیادہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دن مزنگ روڈ پر واقع اپنے دفتر میٹنگ کے لئے آئے ایک کلائنٹ کو رخصت کرنے کے بعد میں خود بھی گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ میرے کلرک نے کمرے میں آ کہا  ”صاحب جی ایک خاتون کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہی ہیں، وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں“ ۔ میں نے گھڑی کی طرف نگاہ ڈالی تو شام کے سات بج چکے تھے۔ سردیوں کا موسم تھا اور سات بجے تقریباً عشاء کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ کچھ سوچ کر میں خاتون کو اندر بھیجنے کا کہہ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔

جیسے ہی وہ خاتون اندر داخل ہوئیں میں نے حسب معمول پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ انھیں سامنے کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہہ کر پوچھا  ”جی محترمہ فرمائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“ اس خاتون کی عمر چالیس سال کے اریب قریب ہو گی۔ چہرے مہرے سے کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رہی تھی۔ اسے میرے ایک دوست نے میری طرف ریفر کیا تھا جو اس کا رشتہ دار تھا۔ خاتون نے کہا کہ اس کا خاوند اس کی بجائے دیگر لڑکیوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو میرے بولنے سے پہلے وہ بولی  ”میری شادی کو سات ماہ ہو گئے ہیں لیکن آج تک ہم میں میاں بیوی والا کوئی تعلق قائم نہیں ہوا۔ گزشتہ دو ماہ سے میں اپنے والدین کے گھر میں ہوں اور میرے شوہر نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ میں نے بہت کمپرومائز کیا لیکن اب میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھے خلع چاہیے“ ۔ کچھ دیگر باتیں پوچھنے کے بعد میں نے اس کا کیس لینے کی حامی بھری۔

ضروری کاغذات پر دستخط کروانے کے بعد میں نے اس کے شوہر کا نمبر لیا اور اس سے پوچھا کہ کیا میں اس کے شوہر سے ایک بار مل سکتا ہوں؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ خاتون کو رخصت کرنے کے بعد میں نے کلرک کو اس کے شوہر کا نمبر دیتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ اس شخص کو فون کرے اور کل شام چار بجے دفتر بلائے۔ اگلے دن میں کورٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی دفتر پہنچا تو ایک پچیس چھبیس سال کا بانکا سا لڑکا بغیر اجازت میرے کمرے میں آ دھمکا۔

اتنے میں کلرک بھی پیچھے آ کھڑا ہوا کہ سر آپ نے اسے آج بلانے کا کہا تھا۔ میں سمجھ گیا اور اسے بیٹھنے کا کہا۔ لڑکا شریف گھرانے کا لگ رہا تھا۔ اپنا تعارف کروانے کے بعد میں نے لڑکے کو کہا کہ تمہاری بیوی تم سے طلاق لینا چاہتی ہے اور میں اس کا وکیل ہوں۔ لڑکا کچھ پریشان ہو گیا۔ اس نے تفصیل سے جو بتایا اس کا لب لباب یہ تھا کہ اس کی بیوی اس سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھی۔ شادی میں لڑکے کی رضامندی نہیں تھی بلکہ دولت کے لالچ میں لڑکے کے والدین نے زبردستی اس کی شادی اس سے پندرہ سال بڑی عورت کے ساتھ کر دی تھی۔

اسے اپنی بیوی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ خیر مختصر یہ کہ میں نے لڑکے سے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ اب وہ دونوں میاں بیوی صلح صفائی سے رہیں کیونکہ اگر وہ میری کلائنٹ کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ دوسری شادی کے لئے رشتوں کے آپشنز عموماً کم ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی پروفیشنل وکیل کی یہ خواہش نہیں ہوتی کہ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہو۔ ہاں البتہ جب تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ ہوں تو بعض دفعہ طلاق ناگزیر ہو جاتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ اس نہج تک نہیں گیا تھا۔ اگلے دن ان دونوں کو بلایا، تفصیل سے سمجھا کر پروفیسر ارشد جاوید صاحب کی طرف ریفر کر دیا۔ پروفیسر ارشد جاوید بلاشبہ ایک مسیحا ہیں جنہوں نے ہزاروں جوڑوں کی بے رنگ زندگیوں میں رنگ بکھیرے ہیں۔ یہ کوئی ایک کیس نہیں اس سے ملتے جلتے کئی کیس آتے رہتے ہیں۔

اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان میں تیس سے پینتالیس سالہ کنواری عورتوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے جو کہ بہت تشویش ناک امر ہے۔

اگر ہم اپنے گرد و پیش نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سی ایسی خواتین نظر آتی ہیں کہ جن کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں خاتون کی اب شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ اکثر یہ کہہ کر لڑکی ریجیکٹ کر دی جاتی ہے  ”سوری! لڑکی کی عمر زیادہ ہے“

اگر ہم اس کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو اس کے مختلف پہلو ہیں۔ اول تو یہ ہے کہ جیسے ہی ہم کسی ایسی خاتون کے بارے سنتے ہیں تو ہمیں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ ان کا معیار بہت اونچا ہے۔ یہ لوگ کسی غریب گھرانے میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ والدین خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ مفلس گھرانوں میں بہت کم لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی صورتحال لڑکے والوں کی طرف بھی ہوتی ہے۔ جہیز جیسی لعنت کا جادو آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے معاشرے کے اندر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

چنانچہ جہیز اور سونے کے زیورات کے انتظار میں لڑکی بیچاری کے بالوں میں مکمل چاندی اتر آتی ہے اور بقول ہمارے سماج کے اس لڑکی کی شادی کی عمر گزر جاتی ہے۔ بعدازاں بالفرض اگر شادی ہو بھی جائے تو عمر میں فرق کی وجہ سے بعض گھروں میں گھریلو جھگڑوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جہیز کے موضوع پر پہلے بھی بہت لکھا جا چکا اور ابھی مزید لکھنا باقی ہے جب تک کہ ہمارا معاشرہ اس لعنت سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو جاتا۔ جہیز کا موضوع ایک الگ اور مکمل تحریر کا متقاضی ہے جسے کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اکثر خاندانوں میں دیکھا گیا ہے کہ کوئی بھی لڑکا لڑکی والوں کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اب لڑکی والے اچھی آپشن کی تلاش میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں اور بالآخر لڑکی کی شادی کے لئے آئیڈیل عمر گزر جاتی ہے۔ بعض لوگ اس کا حل یہ پیش کرتے ہیں کہ مرد حضرات کو دوسری شادی کے طور پر ان سے شادی کر لینا چاہیے۔ دوسری شادی کے نام سے ہی اکثر مرد حضرات کے چہروں پر رونق آ جاتی ہے اور ان کے منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے۔

درحقیقت آج کے دور میں بہت کم مرد دوسری شادی کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ دوسری شادی کی باتیں محض دل پشوری کے لئے کرتے ہیں۔ آج کے دور میں دو بیویوں کے درمیان انصاف کرنا خاصا مشکل ہے۔ شوہر حضرات تو دور کی بات، اس دور میں کئی والدین اپنی اولاد کے مابین انصاف نہیں کر پاتے جس کا نتیجہ ایک دوسرے سے دست و گریبان کی صورت میں نکلتا ہے۔ بسا اوقات ہمارا اسی قسم کے مقدمات سے واسطہ پڑتا ہے جو کہ ایک معمول بن چکا ہے۔

سنجیدہ مرد حضرات کی اکثریت حقیقت میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتے۔ معاشی حالات اور دیگر معاملات آڑے آ جاتے ہیں۔ دوسری شادی کے نام پر دولت ہتھیانے کے چکر میں کچھ فراڈیے اور دھوکے باز لوگ ضرور مل جائیں گے البتہ دوسری شادی کے لئے سنجیدہ مرد حضرات آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

اکثر والدین یا خود ان خواتین کی اکثریت کی غیر حقیقی ڈیمانڈز  نے ان کو مناسب وقت پر رشتہ ملنے سے روکے رکھا اور لڑکی کی عمر زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہی صورت حال لڑکے والوں کی طرف بھی نظر آتی ہے۔ بچوں کی شادی میں تاخیر بعض اوقات خاندان بھر کے لئے شدید ندامت کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ طوالت کے پیش نظر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ اس تحریر میں ناممکن ہے۔ لہٰذا مختصراً یہ کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ رشتے کے معاملات میں لڑکے اور لڑکی والے دونوں خاندانوں کو بہت سی چیزوں پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ بصورت دیگر  ”سوری! لڑکی کی عمر زیادہ ہے“ جیسے خاردار الفاظ ہی سننے کو ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *