نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا ”مشترکہ“ جج کون تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدلیہ سے بنا کے رکھنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو راضی اور ہو سکے تو اپنی جیب میں رکھنے کے رویہ کے حوالے سے نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو، دونوں کا مائنڈ سیٹ ایک اور سیاسی کردار یکساں رہا ہے، بدقسمتی سے 90 ء کے بعد کی دو دہائیوں میں اس ملک میں ’نون‘ لیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ یکساں ”روشن“ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور میں پنجاب میں ایف آئی اے کا ایک افسر احمد ریاض شیخ جو بعد میں کسی نہ کسی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ تک پہنچا اور پی پی پی کی شرمیلا فاروقی کا سسر ہے، اور لاہور ہائی کورٹ کا ایک جج جسٹس ملک قیوم ایسی شخصیات تھیں جنہیں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو، دونوں نے ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کی۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں طویل جلاوطنی کاٹ کر 1986 میں وطن واپسی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو جسٹس ملک قیوم کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لئے لاہور میں مزنگ روڈ پر صفاں والا چوک کے ساتھ واقع جسٹس اکرم یعنی جسٹس ملک قیوم کے گھر خصوصی طور پر گئی تھیں، باوجود اس حقیقت کے کہ ملک قیوم کے والد جسٹس ملک اکرم بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے ججوں میں شامل تھے۔

شہید بے نظیر بھٹو نے تو اپنے دوسرے دور حکومت میں اپنے وفادار جیالے جہانگیر بدر کو ڈائریکٹ چیف جسٹس آف پاکستان لگانے کا ارادہ بھی کر لیا تھا جن کے پاس صرف ایل ایل بی کی ڈگری تھی اور پریکٹیشنر لائر کا رسمی لائسنس مگر انہوں نے بطور وکیل کبھی پریکٹس نہیں کی تھی۔ مرحوم ارشاد حقانی نے ایک بار اپنے کالم میں لکھا تھا ”یہ اطلاع ناقابل یقین تھی لیکن چند روز قبل جہانگیر بدر سے اتفاقاً دوران پرواز ملاقات ہو گئی تو میرے پوچھنے پر انہوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’ہاں، ایسا سوچا گیا تھا“ محترمہ نے تو انٹیلی جنس بیورو کے اس سب انسپکٹر کے بھائی کو بھی سینیٹ کے ٹکٹ سے نوازا تھا جو جسٹس ملک قیوم کی سیف الرحمن وغیرہ سے شہرہ آفاق ٹیپس لے کر لندن فرار ہو گیا تھا جہاں یہ ٹیپ سکینڈل برطانوی اخبار ”سنڈے ٹائمز“ میں بریک کیا گیا تھا۔

لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ جسٹس ملک قیوم بھی ”دونوں طرف“ بنا کے رکھتے تھے، جب وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے دست راست سیف الرحمن جو ان دنوں ’احتساب الرحمن‘ کے نام سے مشہور تھے، کے شدید دباؤ پر جسٹس ملک قیوم کے دو رکنی بنچ نے بے نظیر کو کرپشن کا مجرم قرار دے کر سزا سنائی تو ساتھ ہی اپنی بہن یاسمین کی وساطت سے، فیصلہ سنانے سے پہلے بے نظیر بھٹو کو اس کی اطلاع کردی کہ وہ فوری طور پر ملک سے نکل جائیں۔ جسٹس ملک قیوم کی بہن یاسمین پیپلزپارٹی کے رہنما میاں مصباح الرحمن کی اہلیہ ہیں، چنانچہ محترمہ گرفتاری اور جیل سے بچنے کی غرض سے اپنے بچوں کو لے کر پہلی دستیاب فلائٹ سے ملک سے باہر چلی گئی تھیں۔

اسی دوران جسٹس ملک قیوم چیف جسٹس راشد عزیز کو ساتھ لے کر بے نظیر بھٹو کے ساتھ معاملہ (ڈیل) کرنے کی غرض سے خفیہ طور پر ایک رات کے لئے دوبئی گئے تو بتایا جاتا ہے کہ جب محترمہ ان کے ہوٹل پہنچیں تو جسٹس ملک قیوم نے جسٹس راشد عزیز سے کہا ”او (بی بی) آ گئی اے، چلو۔ ۔“ کیونکہ جج صاحبان کے ساتھ محترمہ کی ملاقات ان کے ہوٹل روم کی بجائے ہوٹل کے کسی دوسرے کمرے یا مقام پر ہونا تھی، جسٹس ملک قیوم نے چیف جسٹس سے وہاں چلنے کو کہا تو ”شرمیلے“ چیف جسٹس راشد عزیز خان نے ملک قیوم سے کہا ”نئیں، بس تسی ای مل آؤ، میں ایتھے ای رہناں“ لہذا وزیراعظم نواز شریف کا جسٹس ملک قیوم پر بے نظیر کے ساتھ بھی ملے ہونے کا شک بے بنیاد نہیں تھا۔

جس روز جسٹس ملک قیوم اور جسٹس راشد عزیز کے حوالے سے سے ٹیپ سکینڈل پاکستان میں بریک ہوا، میں ایک ساتھی کورٹ رپورٹر سعید چوہدری کے ہمراہ اسی صبح نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں جسٹس راشد عزیز کے گھر پہنچا جو اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے اور اتوار کی چھٹی پر معمول کے مطابق لاہور آئے ہوئے تھے۔ ہم نے چھوٹتے ہی ان سے ٹیپ سکینڈل کے حوالے سے پوچھا جس میں ان کا نام بھی تھا تو انہوں نے ہنستے ہوئے الٹا ہم سے پوچھا ”ملک قیوم کیہ کہندا اے؟“ تو ہم نے انہیں بتایا کہ ابھی تو ہم سیدھا انہی کے پاس پہنچے ہیں۔

لیکن حامد میر نے اپنے کالم میں اس حوالے سے درست حقائق بیان نہیں کئے، یہ لکھتے ہوئے ”سپریم کورٹ نے ان ٹیپس میں ہونے والی گفتگو پر کوئی فیصلہ نہیں دیا کیونکہ جسٹس ملک قیوم نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا“ حقائق یہ نہیں ہیں، سپریم کورٹ کے بنچ نے وہ ٹیپس سنی ضرور تھیں لیکن انہیں ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا تھا اور اس آبزرویشن کے ساتھ کیس ’ری ٹرائل‘ کے لئے ”ریمانڈ“ کر دیا تھا کہ سزا سنانے والے بنچ کا مشکوک کنڈکٹ ہے اس کے نئے سرے سے ٹرائل کا کافی جواز ہے۔ جسٹس راشد عزیز خان اور جسٹس ملک قیوم بدستور مزید کئی ماہ بالترتیب سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں فرائض انجام دیتے رہے تھے۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *