تائب ہونے والے دانش فروش، نااہل حکومت اور غیر فعال اپوزیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزرگ اور کہنہ مشق کالم نگاروں، تجزیہ کاروں، اینکروں، صحافیوں، اتحادی پارٹیوں، ہم خیال سیاستدانوں، معروف دانشوروں اور عمران خان و پی ٹی آئی کے فدائی حامیوں کو آج جب حکمران پارٹی کی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے مایوسی اور بددلی کی دلدل میں دھنستے ہوئے دیکھتا اور سنتا ہوں تو فیض احمد فیض کی ایک مشہور زمانہ غزل کا یہ مقطع بے طرح یاد آنے لگتا ہے

ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرز فغاں ٹھہری ہے

روٴف کلاسرا، کاشف عباسی، ایاز امیر، حمید بھٹی اور ہارون الرشید جیسے لوگ تو کافی پہلے ہی عمران خان کی بے جا حمایت پر معافی مانگ چکے ہیں مگر مقام حیرت ہے کہ اب تو غلام حسین، ارشاد بھٹی، حسن نثار اور کامران خان جیسے درباری اور جغادری صحافی اور تجزیہ کار بھی اس حکومت سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور قسمیں کھا کر موجودہ حکومت کو تاریخ پاکستان کا کرپٹ ترین سیٹ اپ قرار دے رہے ہیں۔

یہی نہیں خود پی ٹی آئی کے اندر سے عامر لیاقت حسین عمر ایوب جیسے وزیر کو کالی بھیڑ کہہ رہے ہیں۔ ادھر فواد چودھری مختلف انٹرویوز اور بیانات میں سر عام اپنی حکومت کی نا اہلی تسلیم کر رہے ہیں۔ شیخ رشید جیسا مقتدرہ کا مخبر وزیر مائنس تھری کا راگ الاپ رہا ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد حسین نے بھی ملتان میں بظاہر شاہ محمود کے زیر اثر کرپشن کا بازار گرم ہونے کا واویلا کیا ہے۔

عوام کے خواب چکنا چور ہو گئے جن کی کرچیاں ان کی آنکھوں میں چبھ رہی ہیں۔ ملک کے دیہی اور شہری علاقوں کے حرماں نصیب بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے راتیں آنکھوں میں کاٹ رہے ہیں۔ بیس کلو آٹے کا تھیلا ایک سال میں دو سو چار روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ غریب آدمی تو چینی منہ میٹھا کرنے کے لیے بھی نہیں خرید سکتا۔ آلو جو غریبوں کے لیے سب سے سستی سبزی ہوتی تھی آج 80 روپے کلو بک رہے ہیں۔ چکن، مٹن اور بیف کے بعد دالیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ پٹرول جو ڈیڑھ ماہ قبل اس حکومت کی ”غریب پروری“ کی وجہ سے پچھتر روپے لٹر فروخت ہو رہا تھا آج دوبارہ پچھلی حکومت کی وجہ سے سینچری پوری کر چکا ہے۔

رہی سہی کسر کورونا اور اس کی وجہ سے ہونے والی بے روزگاری اور فاقہ کشی نے نکال دی ہے۔ لوگ نان جویں کو ترس رہے ہیں۔ معیشت بد حالی کا شکار ہے۔ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ مذہبی اور مسلکی انتہا پسندی عروج پر ہے۔ خارجہ محاذ پر ہم نے کشمیر کے مسئلے پر جو بے تدبیری دکھائی ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سقوط کشمیر پر منتج ہوئی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ اور روپے کی قدر مزید گر گئی ہے۔

ہمیں تو پہلے دن سے پی ٹی آئی اور عمران خان سے رتی بھر امید نہیں تھی۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ ٹولہ کس کے سہارے سادہ لوح عوام کو سبز باغ دکھا رہا ہے۔ ہم نے بارہا لکھا کہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا اس متلون مزاج ٹولے کو اگر تبدیلی کی توقع پر اقتدار سونپ دیا گیا تو چند ماہ کے اندر اندر ملک کا حشر نشر ہو جائے گا۔ مگر اس وقت تبدیلی کے شائق سپانسرڈ دھرنے کے ہنگام کنٹینر پر کھڑے عمران خان کی بے ربط اور غیر حقیقی تقریریں سن اور نوجوانوں کا رقص دیکھ کر جھوم جھوم کر گاتے تھے کہ ”کپتان دے جلسے چ نچنے نوں دل کردا“ اور ہم پر طعن و تشنیع کے تیر برساتے تھے۔ آج ایسے لوگ بمشکل ہی ہم سے آنکھ ملا پاتے ہیں۔

مگر حیران کن امر ہمارے لیے یہ ہے کہ جب ملک کا ہر طبقہ اس حکومت کی نا اہلی پر بھرا بیٹھا ہے تو اپوزیشن پارٹیاں اور ان کی قیادتیں کہاں ہیں؟ یہ قائدین بجلی بن کر عوامی خس و خاشاک کے ڈھیر میں آگ کیوں نہیں لگاتے؟ یہ آپس میں متحد کیوں نہیں ہوتے؟ عوام اس حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں مگر سیاسی قیادت مصلحت کی بکل مارے بیٹھی ہے۔ اب پھر ایک غیر ضروری اور بیکار اے پی سی کا غلغلہ بلند کیا جا رہا ہے جس میں سوائے نشستن، گفتن اور برخاستن کے کچھ نہیں ہوگا۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں نہ اس سے زیادہ نا اہل حکومت آئی اور نہ موجودہ اپوزیشن سے زیادہ نکمی اور غیر فعال اپوزیشن آئی۔ ہم یہ ہر گز نہیں کہہ رہے کہ اپوزیشن کسی سازش یا اشتعال انگیز مہم جوئی کے ذریعے جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کا سبب بنے مگر ایوان کے اندر اور باہر اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے کم از کم عوامی مفاد میں حکومت پر دباوٴ تو بڑھائے۔

چند ووٹوں کا فرق ہے۔ آخر ان ہاوٴس تبدیلی کیوں نہیں آ سکتی؟ یہ کیا بھونڈی اور بھدی دلیل بلکہ عذر لنگ ہوا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے ہی بوجھ سے منہ کے بل گرے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ مقتدرہ کو حکومت سنبھالنے کے لیے کوئی موزوں متبادل نہیں مل رہا۔ نواز شریف کا لندن میں طویل قیام، مریم نواز کی پراسرار خاموشی اور شہباز شریف، ان کے ہمرکابوں کا مقتدرہ کی چوکھٹ کی طرف دیکھنا، ناکام دھرنے کے خالق مولانا فضل الرحمٰن کی گریز پائی اور اے این پی جیسی پارٹیوں کی لا تعلقی کیا اس بات کی غماز ہے کہ تبدیلی کے لیے ابھی اونچی بارگاہوں سے اشارہ نہیں ملا؟ باقی پارٹیوں کو تو چھوڑیں مگر کیا ن لیگ اور نواز خاندان نے اقتدار اور عزت سمیت متاع حیات کی قربانی اس لیے دی تھی کہ سول بالادستی کے قیام کی جگہ تبدیلی کے لیے مقتدرہ کی پیش دستی کا انتظار کیا جائے؟ وہ وقت کتنا دور ہے کہ جب ہمارے ملک کی سیاست مقتدرہ کی گرفت سے نکل کر آزادانہ طور پر فیصلہ سازی کا ہنر آزما سکے گی؟ اور بالفرض ایسا ممکن نہیں تو مصر کی قانونی ترمیم کی طرح کا کوئی انتظام یہاں بھی کیا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *