چند کنجوس لوگوں کے قصے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم کنجوس کسے کہتے ہیں؟ کوئی ایسا شخص جو اپنی اشیا (مال و دولت، چیزیں ) خرچ نہ کرتا ہو۔ مگر کنجوسوں کی بڑی اقسام ہیں، بعض کنجوس ایسے ہیں جو اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں لیکن کسی اور پر خرچ نہیں کرتے۔ کچھ ایسے ہیں جو اپنی ذات پر بھی ایک پائی خرچ نہیں کرتے۔ کنجوسی کی بڑی شکلیں اور بڑے درجات ہیں۔ اس بارے میں کچھ حیرت انگیز مشاہدات قارئین کی پیش خدمت ہیں۔

2015 کے وسط کی بات ہے۔ جامعہ کراچی میں سیمسٹر امتحانات جاری تھے۔ شعبہ نفسیات کی ایک لکچرار صاحبہ اپنے دفتر میں بیٹھی دوپہر کا انتظار کر رہی تھیں۔ دو بجے ان کو امتحان لینا تھا۔ پوری جامعہ خالی تھی۔ ایسے میں ایک سینئر اسسٹنٹ پروفیسر وہاں آئیں ان کے لیکچرار صاحبہ سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ انہوں تجویز دی کہ ”ابھی تو دو بجنے میں کافی دیر ہے، تم میرے ساتھ میرے گھر چلو میں تو یونیورسٹی کے اندر کالونی میں ہی رہتی ہوں۔ وہاں گپ شپ ہو جائے گی۔ دو بجے مجھے بھی پیپر لینے آنا ہے میں تم کو اپنے ساتھ گاڑی پر ہی لے آؤں گی۔“

لیکچرار صاحبہ کو یہ رائے صائب لگی۔ وہ کافی دیر سے یوں بھی پریشان تھیں کہ دفتری عملہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کھانا بھی نہ منگا سکتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ اسسٹنٹ پروفیسر صاحبہ اپنے گھر لے جا رہی تھیں تو کھانا تو پوچھتی ہیں۔ لکچرار صاحبہ بخوشی ان کے ساتھ چلیں۔ جب کافی سیڑھیاں چڑھ کر محترمہ کے ساتھ ان کے گھر پہنچیں تو وہاں باتوں کا سلسلہ روکھا سوکھا ہی چلنے لگا۔

لیکچرار صاحبہ کو جب کھانے پینے کا کوئی سر ہی نہ ملا تو اپنے ہی بیگ سے بوتل نکال کر پانی پیا۔ میزبان نے یہ دیکھ کر بھی پانی تک نہ پوچھا۔ مہمان کی حیرت بھوک کی وجہ سے غصے میں ڈھلنے لگی۔ بیچاری نے اپنے بیگ کھولا کہ کچھ کھانے کا اس میں ملے تو کھجور کا ایک چھوٹا پیکٹ رکھا نظر آیا۔ وہ نکال کر کھجور کھانے شروع کیے تو میزبان صاحبہ بھی تیزی سے قریب آئیں اور مہمان کے کھجور ساتھ مل کر کھانے شروع کر دیے اور بتایا کہ انہیں کھجور بہت پسند ہیں۔

اس پوری محفل میں صرف وہی کھجور کھائے گئے۔ لیکچرار صاحبہ نے کھجور کھانے کے بعد اپنے غصے کو پانی کے ساتھ پی لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعے میں اپنے گھر لے جانے والی خاتون نے اتنی کنجوسی کا مظاہرہ کیوں کیا؟ کیا ایک انسان کو کچھ کھلا دینا اتنا مشکل کام ہے؟ مگر یہ تو ایک معصومانہ کنجوسی کا واقعہ ہے، ایک اور واقعہ سنئے۔

میرے بڑے برادر کے ایک دوست کی شادی 27 دسمبر 2007 کو ہونا طے تھی۔ موصوف کا نکاح اس سے ایک سال قبل ہی ہو چکا تھا۔ اب ان کی بارات کے دن محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا سانحہ پیش آ گیا۔ اگلے دن ان کا ولیمہ ہونا تھا۔ انھوں نے ولیمے کے لیے ہال والے کو 5 ہزار پیشگی دے دیے تھے۔ خیر اس دن اور اس کے بعد کے ہنگامے میں نہ ان کی بارات ہو سکی اور نہ ہی ولیمہ۔ وہ بغیر تقریب کے ہی دلہن کو گھر لے آئے۔ اب تھوڑا سا پس منظر ان صاحب کا سن لیجیے۔

موصوف ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے پر قسمت کے بڑے دھنی تھے۔ ایک زمانے سے بینک میں نوکری کر رہے تھے اور 2007 مین بھی ان کی تنخواہ دو ڈھائی لاکھ رہی ہو گی۔ خیر جب 27 دسمبر کا طوفان تھما اور حالات نارمل ہوئے تو سب نے ان سے ولیمے کی تقریب کرنے کا اصرار کیا۔ لیکن وہ اس موضوع سے کنی کترا جاتے۔ ظاہر ہے وہ ایک ایک پائی بچائے تھے۔ اپنی تنخواہ کے حساب سے بہت ہی کم معیار کی زندگی گزار رہا تھے۔ سوچتے تھے کہ ہنگامے نے لاکھوں روپے بچا لئے تو اب کیا خرچ کرنا۔ مگر جب رشتہ داروں کا دباؤ بہت بڑھا تو محترم نے ایک ہوٹل میں ایک چھوٹی سی ولیمے کی تقریب کر دی۔ ہوٹل کا یہ حصہ سالگرہ وغیرہ کی ہی تقریبات کے لئے موزوں تھا۔ مہمان حیرت کا تاثر لے کر اس تقریب میں آتے اور سوچتے کہ آخر لاکھوں روپے ماہوار کمانے والے کو ایسی کنجوسی کی کیا ضرورت؟

خیر یہ تو ایک کنجوسی کا معصومانہ واقعہ ہے۔ میرے پاس سنانے کے لئے اس سے دلچسپ کہانیاں بھی ہیں۔ ایک گھرانا تھا جو کچی آبادی میں رہتا تھا۔ ایک بوڑھی ماں، دو بیٹیاں (جن میں سے ایک کی شادی نہ ہو سکی تھی اور ایک طلاق یافتہ تھیں ) ایک بیٹا اور بہو۔ یہ تمام ہی افراد سوائے بوڑھی ماں اور بہو کے، برسر روزگار تھے، مگر کوئی ایک روپیہ خرچ نا کرنا چاہتا تھا۔ حقیقتاً یہ لوگ بے حد کسمپرسی میں جیتے۔ بیمار ہوتے تو سرکاری اسپتال جاتے۔

کبھی کچھ اچھا کھانا تو دور کی بات کبھی پیٹ بھر کر بھی نہ کھاتے۔ کپڑے معمولی ہوتے اور فرنیچر ٹوٹا پھوٹا۔ وقت گزرتا گیا اور اس گھرانے کے تین افراد انتقال کر گئے (بوڑھی والدہ اور دونوں بیٹیاں ) اب جب مرحومین کا سامان کھولا گیا تو تکیے کا غلاف بھر بھر کر کرنسی نوٹ نکلے۔ کئی نوٹ تو اس لیے برباد ہو گئے کہ کرنسی تبدیل ہو گئی تھی۔ یعنی مرحومین نے اپنی سانس روک روک کر ساری زندگی صرف جمع کیا تھا۔ جو جمع کیا تھا وہ ان کے کسی کام نہ آیا۔ مگر ان بیچاروں نے ایسا کیوں کیا؟

اب چلتے ہیں ایک اور واقعے کی طرف، میرے ساتھ جامعہ کراچی کے شعبۂ نفسیات میں ایک صاحب نوکری کرتے تھے۔ وہ صاحب دفتری عملے میں تھے اور چھوٹے گریڈ سے ترقی کرتے کرتے 16 گریڈ تک آ گئے تھے۔ وہ اپنے گھر سے کبھی کھانا نہ لاتے۔ تذلیل سہ کر بھی دوسروں کے سر پر عین کھانے کے وقت سوار ہو جاتے اور دوسروں کا کھاتے۔ کبھی کپڑے نہ خریدتے بلکہ لوگوں سے مانگتے اور ان کی اترن پہنتے۔ انھوں نے کبھی شادی نہ کی اور اپنی بیوہ بہن کے گھر میں رہتے۔

وہ اس بہن کو بھی ایک پائی نہ دیتے۔ ان کے گھر میں بجلی کا بل ادا نہ کرنے پر مستقل کئی سالوں سے بجلی کٹی ہوئی تھی۔ وہ اپنی تنخواہ کی ایک ایک پائی صرف جمع کرتے رہتے۔ اس کے علاوہ وہ سود پر لوگوں کو قرضے دیتے۔ 2014 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اپنا علاج کروا لیں تو وہ بولے کہ اس میں پیسے خرچ ہو جائیں گے۔ 6 ماہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ صاحب اپنے لڑکپن سے نوکریاں کر رہے تھے اور تاعمر انھوں نے ایک ایک پائی بچائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انتقال کے بعد 2 یا ڈھائی کروڑ روپے ان کے پاس تھے۔ ان پیسوں کے حصول کے لئے ان کے خاندان والے اب بڑی تگ و دو کر رہے ہیں۔ سوال یہ کہ مذکورہ صاحب نے ایسی زندگی کیوں گزاری؟ ایک ایک پائی کیوں بچائی؟

یقیناً ان واقعات میں بتدریج کنجوسی کا ارتقا آپ نے دیکھا ہوگا۔ بعض پیشوں سے منسلک عمومی طور پر کنجوس ہوتے ہیں جیسے دکاندار، تاجر، بینکر، اسکول، کالج اور جامعات کے اساتذہ۔ عمومی طور پر جامعات کے اساتذہ کو میں نے ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے سے شدید پرہیز کرتے ہوئے پایا۔ یہ لوگ بڑی تعداد میں لنڈے کے کپڑے پہنتے ہیں اور پائی پائی بچاتے ساری عمر گزار دیتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو گلگت میں اسسٹنٹ پروفیسر ہے، وہ پچھلے 12 سال سے وہی پرانے کپڑے پہن رہا ہے۔ تب وہ طالب علم تھا۔ 2012 سے وہ اسسٹنٹ پروفیسر ہے اور 6 ہندسوں میں تنخواہ لے رہا ہے۔ وہ ابھی بھی جب کراچی آتا ہے تو زینب مارکیٹ سے ہی دو دو گھنٹے بارگیننگ کر کے کپڑے خریدتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply