رانا اعجاز محمود سے آخری ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوموار کے دن کا دوسرا پہر تمام ہوتا تھا جب ہم بہاولپور کے سرکٹ ہاؤس سے ملحقہ اس گھر میں پہنچے جس کے ایک کمرے میں رانا صاحب اس پلنگ پر لیٹے تھے جس کے بائیں جانب آکسیجن کے تین بڑے بڑے سلنڈر دھرے تھے۔ الٹے ہاتھ کی انگشت شہادت اس چھوٹے سے میٹر کے جبڑے میں تھی جو جسم میں آکسیجن کی سطح بتایا کرتا ہے۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میٹر نے واویلا کیا کہ آکسیجن کی سطح چوراسی فی صد ہو گئی ہے، سو رانا صاحب کے اٹینڈنٹ نے ایک پتلی سی پائپ نتھنوں کے نیچے سے گزار دی۔

رانا صاحب نے سر تا پا ایک زردی اوڑھی ہوئی تھی۔ میں اس رنگ سے آشنا ہوں، اس نے مجھ سے میرے کتنے ہی پیارے چھینے ہیں مگر اس روز میں اسے پہچان نہ سکا کہ یہ موت کا رنگ ہے۔ یا شاید میں پہچاننا ہی نہ چاہتا تھا۔ خاصی دیر میں اور اللہ وسایا زاہد ان کے پاس بیٹھے۔ رانا اعجاز محمود زور لگا کر لفظوں کو اپنے اندر سے کھینچتے اور دہن سے باہر دھکیلتے تھے۔ لفظ اور جملے بھی رزق کی طرح متعین ہیں۔ اپنا کوٹہ ہم لے کر آتے ہیں۔ اتنے لفظ بولنے ہیں اور اتنے سننے ہیں، ایک کم نہ ایک زیادہ۔ پچھلے ہفتے عرض کیا تھا کہ رانا صاحب نے اپنے حصے میں آیا لفظوں کا رزق بے دریغ خرچ کیا۔ احتیاط کرتے تو یہ ذخیرہ سو برس چلتا مگر انہوں نے فقط چھپن برس میں تمام کر دیا۔ سو جتنی دیر ہم بیٹھے انہوں نے اپنا باقی بچا کوٹہ بمشکل پورا کیا۔ دو بجے ہم وہاں سے اٹھے۔ رانا صاحب کا خدمت گزار بھائی جاوید بتاتا ہے کہ آپ کے ہوتے جو ملک شیک ان کو پلایا تھا، وہی آخری خوراک ثابت ہوئی۔ سہ پہر کے وقت طبیعت بگڑی اور ہسپتال جانا پڑا۔ پھر بدھ دوپہر تک انہوں نے نہ کچھ کھایا، نہ کچھ بولا۔

رانا صاحب کے ساتھ یہ پہلی اور آخری ملاقات تھی جس میں وہ کم بولے اور میں زیادہ۔ میں نے کہا جلدی سے ٹھیک ہوجائیں، بہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بن رہا ہے، آپ اس خطے کے سب سے سینئر افسر ہیں، آپ کو بڑی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔ رانا اعجاز محمود، جن کے سر اور مونچھ کا ایک بال کبھی سفید نظر نہ آیا تھا، چھوٹے چھوٹے سپید بالوں والی مونچھوں تلے اضمحلال زدہ بے رنگ مسکراہٹ بکھیر کے بولے ”سجاد! تم نہیں سمجھ سکو گے، جس کیفیت میں اس وقت ہوں، اس میں یہ افسریاں، یہ عہدے بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں“ میں واقعی نہیں سمجھا تھا۔ یقین کی جس منزل پر رانا صاحب کھڑے تھے، میں کبھی وہاں نہیں پہنچ سکا۔ میں تو عہدے اور پوسٹنگ کی بھوک کا اسیر ہوں۔ لگتا ہی نہیں کبھی مرنا بھی ہے۔

کیا حد سے بڑھی تکلیف، آس پاس کی وقعت مٹا دیتی ہے؟ یا پھر جانے والے کو موت کی چاپ پیشگی سنائی دینے لگتی ہے؟ انیس سو نوے میں ملتان سے تبدیل ہو کر رانا صاحب لیہ گئے تو دو ہزار سولہ تک کہ جب ڈائریکٹر بنے، وہیں رہے۔ اب چار برس سے بہاولپور میں تھے۔ یہاں وہ کچھ ایسے خوش نہ تھے تاہم سرکار کی طویل ملازمت میں، اب ان کے ٹیک آف کا وقت قریب آیا تھا کہ وہ خود ہی آسمانوں کی طرف ٹیک آف کر گئے۔ کھربوں سیاروں، ستاروں میں سے خود کو الاٹ کردہ ستارے سے انہوں نے دیکھا ضرور ہوگا کہ جمعرات کی صبح زمین نام کے اس ذرۂ بے نشاں کے ایک گوشہ چوک اعظم میں جب بادلوں کا سایہ تھا اور تھل کی ریت کے لمس سے بوجھل ہوا کا کوئی جھونکا بھی کبھی آنکلتا تھا تو وہ لمبی جنازگاہ کیسے کھچا کھچ بھری تھی۔ امام نے اپنی تقریر میں رانا صاحب کے ساتھ ماضی میں ہو چکی کسی علمی نشست کا حوالہ دیا تھا اور اس حیرانی کا اظہار کہ ایک داڑھی منڈا راجپوت دین کا کس قدر علم رکھتا تھا۔ ہر شخص کے ساتھ رانا صاحب کے تعلق کا حوالہ بہرحال علم رہا۔

تھل دھرتی کی ریت میں رانا صاحب کے لئے آغوش تیاری کے آخری مراحل میں تھی۔ قریب ہی درخت تلے رانا صاحب انتظار میں لیٹے تھے۔ چہرے سے کپڑا ہٹا تھا۔ ان کا بیٹا ثاقب مسلسل دیکھتا تھا اور روتا تھا۔ تب میں نے غور کیا کہ رانا صاحب کی شیو بڑھی ہوئی ہے۔ ہسپتال کے اڑتالیس گھنٹے جو غشی کی سی کیفیت میں گزرے، اس دوران شیو نہ کروا سکے ہوں گے ورنہ روزانہ شیو معمول تھا۔ مرنے کے بعد انسان کیسا بے بس ہوتا ہے۔

اس آخری ملاقات میں وقت رخصت کچھ دعائیہ جملے کہے۔ اللہ وسایا نے کہا کہ فرمان رسول کے مطابق بیمار سے دعا کروانی چاہیے کہ وہ رب کے قریب ہوتا ہے۔ رانا صاحب نے لیٹے لیٹے دونوں ہاتھ اٹھائے۔ سانس ساتھ نہ دیتا تھا، سو رک رک کے پہلے درود ابراہیمی پڑھا پھر سورۃ فاتحہ، میرے اور اللہ وسایا زاہد کے لئے دعا کرنے کے بعد کہا ”اے میرے رب! اپنا معاملہ تو مدت ہوئی میں آپ کے سپرد کر چکا، جو میرے حق میں بہتر ہو وہی کیجئے۔“ پھر انہوں نے وبا سے نجات کی دعا کی۔ اس ایک ڈیڑھ منٹ کی دعا نے ان کو ایسا تھکا دیا کہ وہ ہاتھ چہرے تک نہ لے جاسکے اور کلمہ طیبہ پر دعا ختم کر کے ہانپنے لگے۔ مجھے رانا صاحب کے ساتھ گزرے چوبیس برس یاد آ گئے۔ گھنٹوں بلاتکان بولنے والا رانا اعجاز محمود۔ آنکھیں بھر آئیں۔ اٹھتے ہوئے میں نے انہیں کہا ”رانا صاحب جلدی جلدی ٹھیک ہو جاؤ، بسترے تے پئے تسیں بالکل چنگے نہیں لگدے“ آنکھیں میرے اختیار سے نکل گئیں اور اقبال عظیم والا معاملہ ہوا

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سر بزم آج یہ کیا ہوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا

بیمار کے پاس رونا کوئی اچھا عمل بہرحال نہیں، اس کے حوصلے کی دیوار میں شگاف ڈالنے والی بات ہے۔ رانا صاحب نے بمشکل تمام اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا، میں جھک گیا۔ ہاتھ انہوں نے میرے سر پر پھیرا۔ زندگی کا آخری لمس میرے بالوں میں اترا۔

ٹھیک اڑتالیس گھنٹے بعد میں اور صابر عطا تھہیم کتاب نگر پر شاکر حسین شاکر کے پاس بیٹھے تھے جب شاکر نے اچانک فیس بک پر آصف کھیتران کی پوسٹ دیکھی اور کہا ”اوووہ، رانا صاحب فوت ہو گئے“ اتنے برسوں کے تعلق میں پہلی مرتبہ شاکر کو روتے دیکھا۔ کچھ کھو دینے کا گہرا ملال اندر اترتا ہوا محسوس ہوا۔ تب مجھے یاد آیا، اس روز جو میری آنکھیں نافرمان ہوئیں تو دراصل وہ رانا صاحب کے ساتھ ان کی موت پر تعزیت تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply