شہر قائد میں شہری لٹیروں کے رحم و کرم پر
کاش ہر لٹیرے کے دل میں اللہ وہ رحم پیدا کرے جب ڈلیوری بوائی کو دو لٹیرے لوٹ رہے تھے تو نا جانے کون سا خوف ان کے روح و نفس پے طاری ہوا کے اس ڈلیوری بوائے کو روتا دیکھ کر نا صرف پیسے اور موبائل واپس کیا بلکہ ایک جھپی دے کر اسے خوش کر گئے۔ میرا یہ پرانی بات کا ذکر چھیڑنے کا مقصد ہر گز اس بات کو دہرانا نہیں ہے بلکہ میں تو صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہم اس لوٹ مار کے آدی ہو گئے ہیں بے شک خدا تو دیکھ تا ہے اور ان کا انجام بھی وہ ہی ہوتا ہے مگر بات ایک عام آدمی کی کروں تو وہ مشکلوں سے اپنی خواہشوں کا گلہ گھونٹ کر ایک موبائل فون لیتا ہے اور نا جانے کتنے دنوں کی جمع پونجی سے خریدا ہوگا یقیناً حق حلال ہی سے مگر جب لٹیرے لوٹ لیتے ہیں تو دل کو تسلی دینے کے لیے یہ دو لفظ ہی ہوتے ہیں کہ جان تو بچی۔
ہمارے ساتھ ساتھ ہمارا نظام بھی اس چیز جا عادی ہو گیا ہے، حال ہی میں میرے رشتے دار سے واردات پیش آئی اس سے قیمتی موبائل فون کے ساتھ اوریجنل موٹر سائیکل کے کاغذ اور شناختی کارڈ بھی تھا جب وہ رپورٹ درج کرانے اسی علاقے کے تھانے پہنچا تو تھانے میں موجود آن ڈیوٹی عملے نے کہا بارش کی وجہ سے سسٹم خراب ہے۔ حیرت کی بات تو کوئی نہیں ہے سسٹم تو واقعی خراب ہے پورے معاشرے کا۔ چلو آج بارش کا بہانہ ہے عموماً ان کا یہ ہی ہوتا یے انتہائی سست روی سے کام کرنا۔
جہاں پر صرف رپورٹ درج کرانے میں اتنے پاپڑ بیلنے پڑیں وہاں سسٹم ٹھیک ہونے کی امید بھی نہیں جاگتی۔ خیر اسی سسٹم میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں ہم بھی یہ ہی کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ یار کیا کریں پورا سسٹم کرپٹ ہے میرے کچھ کرنے کیا فرق پڑجانا ہے۔ اگر ہم اور ہمارے ساتھ ہر وہ واحد بندا اپنی ذمہ داری سے ان سسٹم کو خراب کرنے والوں کو پکڑے تو پھر دیکھ تے ہیں کون لوٹ مار کر سکتا ہے یہاں۔ پولیس تو ہر کونے کونے سے واقف ہے یہ تو کوئی راکیٹ سائنس ہے نہیں جو ان کو جرائم پیشہ لوگوں کا پتا نا چلے بات تو یہ ہے کہ ان لٹیروں کے علاقے بٹے ہوئے ہیں۔
ورنہ اتنی آسانی سے کوئی یہاں پہ روز وارداتیں کرے۔ ارے میاں یہ تو اس علاقے کے تھانے کے ہیڈ کی ذمہ داری ہے کہ اس علاقے سے چوری ڈکیتی یا واردات ہوئی تو یہ اس کی نا اہلی ہے۔ ان حالات میں ایک عام آدمی سے آپ نے روزگار تو چھینا ہوا ہے اور ایسے واقعات ہوں تو پھر وہ اللہ کے پاس جانے کو چاہے گا۔ اگر جن کا روزگار چل رہا ہے وہ ہڈ حلالئی ہی کر لیں اپنا کام ڈھنگ سے کریں سست روی کو بھگائیں ان واقعات پر بر وقت ایکشن لیں تو کچھ بہتری آسکتی ہے۔ ورنہ اس مظلوم کی آہ تو ان دونوں کی طرف جائے گا۔ مگر یہاں پر اعلیٰ اختیاروں کے لیے شہاب جعفری کا یہ بڑا مشہور شعر زباں پر آپہنچتہ ہے کہ
”تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تری رہبری کا سوال ہے ”
آخر میں وہ ہی روایتی گزارش ان بڑے بڑے دعوے کرنے والے حکمرانوں سے ہی ہوگی کہ خدا کے لئے کچھ کریں ورنا ہر دوسرا جوان ان حادثات کا شکار ہو کر بالآخر تھک ہار کر ملوث ہو جائیں گے پھر خدارا بہت دیر ہو جائے گی۔


