شخصیت پرستی بالمقابل اصول پرستی
انسانی سماج میں جب شخصیات اقدارو اصولوں پر سبقت لے جاتی ہیں تو پھر انسانی سماج شخصیت کے طلسم کی انگلی پکڑ کر پاؤں پاؤں چلنا سیکھتا ہے اور جونہی وہ کرشماتی شخصیت اس کا ہاتھ چھوڑتی ہے تو وہ منہ کے بل گر جاتا ہے اور رینگنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی نظر ”خوگر پیکر محسوس“ ہے اور مادی پیکر میں موجود خدا کو نادیدہ خدا پر تر جیح دیتی ہے۔ ہم نادیدہ خدا کی بندگی کا دم بھرتے ہیں اورگوشت پوست کے خداکی بندگی عملاً بجا لاتے ہیں۔
جس خدا کے احکام پر عمل پیرا ہوا جاتا ہے وہی ہمارا اصل خدا ہوتا ہے، باقی سب غالب کی منظوم زبان میں دل کے بہلانے کے خیال ہیں۔ انسان نے چونکہ فناکے گھاٹ اتر جانا ہوتا ہے، اس لیے جب کرشماتی شخصیت دار فانی سے کوچ کرتی ہے تو دیوتا کے پجاری اپنے آپ کو زندہ ہوتے ہوئے بھی عالم برزخ میں پاتے ہیں۔ پجاریوں نے تو دیوتا کی زندگی میں صرف اندھی عقیدت کی مالا جپی ہوتی ہے۔ اس لیے جب سر چشمہ دانش کی رخصتی کے بعد انہیں اپنے ذہن پر زور دے کر اپنے لیے راہ عمل کا انتخاب کر نا پڑتا ہے تو انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہیں کوئی کانٹوں پر گھسیٹ رہا ہے۔ شہنشاہ کے کوچ کرنے کے بعد اس کے درباری دربدر ہو جاتے ہیں۔ ہاں البتہ زیرک پجاری کسی نئے دیوتا کا بت تراشنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ اپنے ذاتی چاند کے اندر اپنے برینڈ نیو شمسی دیوتا کے نور کو منعکس کر سکیں۔
شخصیت پرست معاشرے ایڈہاک بنیادوں پر چلتے ہیں۔ وہ اس وقت تک پٹری پر رہتے ہیں جب تک طلسماتی شخصیت موجود رہتی ہے۔ شہد کی مکھیاں ہمیشہ شہد کی تلاش میں رہتی ہیں۔ شہد کی عدم دستیابی انہیں تتر بتر کر دیتی ہے۔ شخصیت کو مرکز بنا کر چلنے والے سارے نظام ریت کی دیوارثابت ہوتے ہیں۔ ایسے نظام کے تمام کل پرزے روبوٹ کی مانند اپنے فرائص سر انجام دیتے ہیں۔ حکم کے بندے سوچنے سمجھنے اورسوال اٹھانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ جب نظام کو چلانے والی کرشماتی شخصیت صفحہ ہستی سے معدوم ہوتی ہے تو حالت انتشار میں اقتدار کی طلب رکھنے والے متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنی اپنی خود مختاری کا ببانگ دہل اعلان کر دیتے ہیں۔
جن انسانی معاشروں میں اقدارواصولوں کا راج ہوتا ہے، وہ شخصیت پرست معاشروں کے مقابلے میں زیادہ پائیدار اور متوازن ہوتے ہیں۔ محنت، دیانت، ایثار اور انفس و آفاق پر غور و فکر جیسی کائناتی اقدار زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ ان اقدار اور اصولوں کوجب افراد معاشرہ اپناتے ہیں تو انہیں عروج بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ کرشماتی شخصیت کی زلف کی اسیربھی نہیں رہتی ہیں۔ ہر فردملت کے مقدر کا ستارا بنتا ہے جبکہ شخصیت پرست معاشروں میں خود پرستی کے مریض ہی ملک و قوم کا مکھٹرابن جاتے ہیں اور ان کی قدم بوسی ان کے مریدوں کا دھرم بن جاتی ہے۔ یہ دھرم اپنے ماننے والوں کو اندھا، بہرا اور گونگا بنا دیتا ہے۔ یہ دھرم اپنے ماننے والوں کو حرف اقرار کی ادائیگی کی تعلیم تو دیتا ہے لیکن حرف انکار کو ”گناہ کبیرہ“ کا درجہ دیتا ہے۔


