کیا گھریلو تشدد نفسیاتی مرض ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تشدد ایک ایسا جرم ہے جو کسی جاندار یا انسانی جسم کے خلاف کیا جاتا ہے، گھریلو تشدد کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ وہ تشددہے جو کسی عورت پر جسمانی، زبانی، جذباتی یا نفسیاتی طور پر کیا جاتا ہو عورت پر تشدد کسی عورت کی طرف سے یا کسی مرد کی طرف سے گھر پر کام والی جگہ پر یا کسی پبلک مقام پر کیا گیا ہو۔

اس قسم کے تشدد میں فرد کا معاشی استحصال، نفسیاتی استحصال بھی شامل ہو جاتا ہے۔

گھریلو تشدد افراد کے درمیان میں واقع ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں زیادہ تر اس طرح کا تشدد خاوند اور بیوی کے درمیان یا خاندان کے درمیان ہوتا ہے۔ مرد حضرات تقریباً ہمیشہ ہی اس کے مرتکب ٹھرتے ہیں، گھریلو تشدد کے مرتکب افراد میں خواتین بھی ہو سکتی ہیں۔

گھریلو تشدد عام طور پر گھروں میں ہی ہوتا ہے، جس میں زیادہ تر گھر کی خواتین اس کا شکار ٹھرتی ہیں، تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کی عمر اور معزوری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا چاہے اس خاتون کی ملازمت بھی ہو یا نہ ہو وہ کسی نہ کسی وجہ سے گھریلو تشدد کا شکار ضرور بنتی ہے۔

گھریلو تشدد میں خواتین کو گھر پر ہی زیادہ ترجسمانی بدسلوکی، جذباتی بدسلوکی، معاشی بد سلوکی اور جنسی بدسلوکی جیسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اکثر خواتین اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا ذکر کرتی ہیں لیکن بہت سی اپنا گھر بچانے کے اصلاح کو شامل کر کے اس کا اظہار تک نہیں کرتی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنے شوہر یا ساتھی کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ اس طرح پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گھریلو تشدد کی وجہ سے ہر گھر میں خواتین کو مشکالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے گھریلو تشدد موذی مرض کی طرح انسان کی رگنوں میں شامل ہو چکا ہے۔

ایف بی آئی FBI کی رپورٹ کے مطابق ہر نو سیکنڈ میں ایک عورت کو اس کے گھر میں مارا پیٹا جاتا ہے، اس طرح عالمی سطح پرتشدد کے نتیجے میں 2013 میں ایک اندازے کے مطابق 1.28 ملین افراد ہلاک ہوئے جبکہ 1990 میں ایسے افراد کی تعداد 1.13 ملین تھی۔ 2013 میں ہونے والی اموات میں سے 842000 افراد خود کشی کی وجہ سے موت سے جاملے ایسے افراد نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا شکار ہی ہو سکتے ہیں؟

پاکستان میں 80 فیصد خواتین زندگی بھر میں کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق سال 2015 میں غیرت کے نام پر کیے گے قتل کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی جس میں خواتین کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2016 اور 2017 میں قتل، مجرمانہ حملوں، گھریلو تشدد اور اغواءسمیت عورتوں اورلڑکیوں کے خلاف تشدد کے تقریباً تین ہزار واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

رپورٹس بتاتی ہیں کہ ترقی پذیر اور کم تعلیم یافتہ ممالک، شہروں اور معاشروں میں گھریلو تشدد ایک عام بات ہے، خود خواتین بھی اس کو اپنی زندگی اور قسمت کا ایک حصہ سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں اور اس کے ساتھ اپنی ساری زندگی بسر کردیتی ہیں۔ خواتین پر تشدد ان پرجسمانی، دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ ان میں ایڈزکا شکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اس ضمن میں سب سے زیادہ خطرے کی زد میں وہ خواتین ہیں جو تنازعوں اور جنگ زدہ ماحول میں زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔

خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق عورت کو دوسری شادی کا کہنا بھی گھریلو تشدد میں شامل ہے اس سے پہلے 2016 میں پنجاب اسمبلی میں عورتوں کو ان کے حقوق دلوانے کے ایک بل بھی منظور کیا گیا تھا۔

25 نومبر کے دن کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پرمنایا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود تشدد کی روک تھام میں کوئی خاطر خواء کمی نظر نہ آئی۔ آج بھی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہو رہی ہے اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ان کی ملاقات موت سے ہوجاتی ہے جس کی تازہ مثال نجی ٹی وی کے پروگرام پروڈیوسر علی سلمان علوی کے بیوی صدف زہراہ نقوی مبینہ گھریلو تشدد کی وجہ سے جان کی بازی ہار گی۔ جس پر ٹویٹر پر Justice For Zahar کے نام سے ٹرینڈ بھی چلاگیا تاکہ ان کو انصاف مل سکے۔

گھریلو تشدد ایک نفسیاتی بیماری بن کر انسان کی رگو میں شامل ہورہا ہے اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے معاشرے میں اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور عورتوں اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ ان کے حقوق سے باخبر رکھا جائے۔ اور اس آگاہی کو اتنا پھیلایا جائے تاکہ دیہاتوں میں رہنے والی خواتین تک پیغام پہنچ سکے اور وہ بھی گھریلو تشدد کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید اظہار باقر

سید اظہار باقر ترمذی نے انگیزی ادب کی تعلیم پائی ہے۔ سماجی مسائل پر بلاگ لکھتے ہیں ۔ ان سے سماجی رابطے کی ویپ سائٹ ٹوٹر پر @Izhaar_Tirmizi نیز https://www.facebook.com/stirmize پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

syed-izhar-baqir has 7 posts and counting.See all posts by syed-izhar-baqir

Leave a Reply