تبدیلی کے جھٹکے


یہ 30 اکتوبر 2011 کا دن تھا جب مینار پاکستان لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تا حد نگاہ نسانی سر نظر آ رہے نظر آ رہے تھے۔ ایک انسانی ہجوم جو کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار تھا۔ یہاں تبدیلی کی بنیاد رکھی گئی اور اسی تبدیلی کو لاتے لاتے عمران احمد خان نیازی ہیرو سے زیرو بن گئے۔ اس جلسے کے بعد تو جیسے عمران خان کی لائری نکل آئی۔ یکے بعد دیگرے کراچی اور پھر کوئٹہ ہاؤس فل رہا۔ سارے ملک میں ایک کے بعد ایک جلسہ کامیابی کے منازل طے کرتا گیا اور لوگوں کو لگنے لگا کہ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف بھاری اکثریت سے حکومت سازی کرے گی۔

جو لوگ سوچ رہے تھے نتیجہ بالکل اس کے برعکس رہا اور پاکستان مسلم لیگ نواز پہلے پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے اور پاکستان تحریک انصاف تیسرے نمبر کی پارٹی بن کے ابھری۔ ہارنے کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور 14 اگست 2014 کو شہر اقتدار کی طرف مارچ شروع کر دیا اور اس کا ساتھ دینے طاہر القاردی بھی پہنچ گئے۔ پورے 126 دنوں کے دھرنے کے بعد پشاور آرمی پبلک سکول حملے کے بعد ختم کر دیا۔

ان پورے 126 دنوں نے ملکی سیاست کو ایک مختلف اور ڈراؤنا رخ دیا۔ ان 126 دنوں میں ایسا کوئی الزام اور غیر جمہوری حرکت نہیں تھی جو عمران خان نے نہیں کیا۔ عمران خان بہت پرامید تھے کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ دیں گے یہ امید ٹھیک ہی تھی کیونکہ مقدر حلقے عمران خان کو اس بات کا یقین دلا چکے تھے حکومت گرے گی بس آپ نے مضبوط رہنا ہے پر قسمت کی دیوی شاید عمران خان سے روٹھی ہوئی تھی اور یہ دھرنا بہت سے مغلظات اور کچھ اچھائیوں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا لیکن اس نے پاکستان میں گالی اور کردار کشی کی ایک نئی سیاست کو جنم دیا۔

عام انتخابات 2013 میں نواز شرہف نے الیکٹیبلز کے ساتھ تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی اور نا نا کرتے عمران خان بھی 2018 میں تبدیلی انھیں الیکٹیبلز کے سہارے لے آیا اور یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ یہی لوگ تبدیلی یا نظام کے بدلاؤ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کے اپنے مفادات اور نظریے ہیں جو آج عمران خان کی تبدیلی میں رکاوٹ ہیں جنہیں چاہنے کے باوجود بھی عمران خان ہٹا نہیں سکتا۔ 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان باوجود ایلیکٹیبلز کے ملنے کے سادہ اکثریت بھی حاصل نا کر سکے اور حکومت بنانے کے لیے انھیں لوگوں کے در پہ ماتھا ٹیکا جنہیں اپنی تقریروں میں دھڑکے اور بے شرمی سے ڈاکو اور چور اور نہ جانے کیا کچھ کہا کرتے تھے۔ یہی وہ پہلا مرحلہ تھا جب تبدیلی کے تابوت میں عمران خان کی طرف سے ہی پہلا کیل ٹھونکا گیا۔ مخلوط حکومت نہ بنانے کے دعوے دار تبدیلی حکومت اپنا تھوکا چاٹنے لگی اور رفتہ رفتہ تبدیلی کا جن ظاہر ہونے لگا۔

2018 میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت جو بقول عمران خان اور اس کے سپورٹروں کے چور تھے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.8 پہ چھوڑ کے گئی تھی کرونا آنے سے پہلے 2.1 اور اب یعنی جون 2020 میں ایشین ڈیلوپمنٹ بینک کے مطابق 0.4۔ فیصد ریکارڈ کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ یعنی ساٹھ کی دہائی کے بعد منفی پہ چلا گیا۔ اگر انفلیشن ریٹ کی طرف دیکھیں تو انفلیشن ریٹ جو پاکستان مسلم لیگ 2018 میں 4.7 فیصد پہ چھوڑ کے گئی تھی وہ 11 فیصد پہ پہنچ گئی ہے۔ حال یہ ہے کہ بے روزگاری جو 2018 میں 5.79 فیصد تھی وہ 2020۔ 21 میں 9.56 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ روپیہ ڈالر کے مقابلے ذلیل ہو چکا ہے۔ جب تک نواز شریف وزیر اعظم رہے 98 پہ رہا اور 2018 نواز لیگ کی حکومت کے اختتام میں 118 تھا جو اب 2020 میں تقریباً 165 کے آس پاس پہنچ چکا ہے۔

اور بھی بہت سے پیمانے ہیں جن میں تبدیلی سرکار نے بڑے بڑے ہاتھ مارے ہیں۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ ان دو سالوں میں تقریباً اس حکومت نے 270 ارب کی کرپشن کی ہے یہیں سے انصافی حکومت کی شفافیت نظر آتی ہے۔ مختصراً حال یہ کہ یہ تبدیلی حکومت جس اچھل کود سے آئی تھی یا لائی گئی تھی اس سے پاکستان کو حاصل کچھ نہیں ہوا بلکہ پاکستان ترقی میں کئی سال پیچھے پہنچ گیا۔ عمران خان اپنا بویا آج خود کاٹ رہا ہے۔ اس نے جو ببول کے بیچ بوئے تھا آج اس کا پھل پک کر تیار ہو چکا ہے۔ آج اس کے ساتھ ٹھیک وہی ہو رہا ہے جس کی بنیاد اس نے خود ڈالی تھی۔ اتنا کھلا اور آسان گراؤنڈ پاکستان کہ تاریخ میں شاید ہی کسی کو ملا ہو جو عمران خان کو ملا تھا جہاں مخالف پلیئر کو اتنا ڈرایا گیا تھا کہ انھوں نے کھیل سے بھاگنے میں عافیت سمجھی جو نہیں مانے انھیں جیل کا راستہ دکھا دیا گیا۔ وہ چاہتا تو پاکستان کی ترقی کو پر لگا سکتا تھا مگر اس نے ٹھیک وہی غلطیاں دہرائی جو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دہرا چکی تھیں بلکہ اس سے بھی سنگین غلطیاں چاہے وہ معیشت کے بارے میں ہوں یا معاشرت کے بارے میں۔

آج عمران خان ایسی جگہ آن کھڑا ہوا ہے جس کے آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی ہے۔ حکومت اس کے منہ میں وہ نوالہ بن چکی جسے نہ وہ اگل سکتا ہے نہ ہی نگل سکتا ہے۔ ملک اس دوراہے پہ آ کھڑا ہوا ہے کہ کوئی بھی پارٹی حکومت بنانے کو تیار نہیں۔ ساری اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے کے موڈ میں نہیں اور نہ ہی کسی احتجاج کے موڈ میں ہے۔ اپوزیشن کم از کم یہ بات سمجھ چکی ہے کہ اس حکومت کے ہاتھ سے کچھ ہونے والا نہیں اور یہ اپنی موت آپ مرے گی۔ اپوزیشن عمران حکومت کو کوئی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتی کہ جس کو لے کر وہ اگلے الیکشن میں شور مچائے۔

Facebook Comments HS