نظام عدل اور دہرا معیار

۔ یہ اگست 1954 کا مہینہ تھا جب پاکستان کی ایک معتبر بندہ برقع پہن کر سندھ ہائیکورٹ پہنچا اور اس نے مرکزی حکومت کے خلاف کیس کر دیا۔ یہ بندہ مولوی تمیز الدین تھا جو قائد اعظم کے بعد پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سات برس گزر جانے کے بعد بھی اسمبلی دستور بنانے سے قاصر رہی تھی۔ آخر کار 24 اکتوبر 1954 کو درد دل رکھنے والے عظیم

Read more

اسلام اور معاشرتی تقسیم

۔ اگرچہ یہ ملک اسلام کے نام پہ بنا لیکن باوجود ستر سال ہونے کے کے یہاں اسلام صرف نام کا ہی رہا۔ عنان حکومت ہمیشہ سے ہی مقتدر قوتوں کے پاس رہی جو وقتاً فوقتاً اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کرتے رہتے تھے۔ ان پچھتر سالوں میں اس اسلامی ملک میں اسلام ہی تختہ مشق رہا سوائے اسلام کے سب کچھ ہوتا رہا۔ حکومتیں واضح طور پہ سیکولر اور دین بیزار اقتدار میں آئیں لیکن انھوں نے گاہے بگاہے

Read more

عمران خان اور ریاست مدینہ

۔ کیمروں کا رخ ایک میز کی طرف تھا اور کسی کا انتظار ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ شخصیت نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ وہ خوش تھا بہت ہی خوش۔ خوش کیوں نہ ہوتا اس کا بہت بڑا خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔ وہ کرسی میں براجمان ہوا اور پورے اعتماد کے ساتھ کیمروں کے سامنے قوم سے مخاطب ہوا ”میرے پاکستانیوں میں پاکستان کو ریاست مدینہ

Read more

تبدیلی کے جھٹکے

یہ 30 اکتوبر 2011 کا دن تھا جب مینار پاکستان لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تا حد نگاہ نسانی سر نظر آ رہے نظر آ رہے تھے۔ ایک انسانی ہجوم جو کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار تھا۔ یہاں تبدیلی کی بنیاد رکھی گئی اور اسی تبدیلی کو لاتے لاتے عمران احمد خان نیازی ہیرو سے زیرو بن گئے۔ اس جلسے کے بعد تو جیسے عمران خان کی لائری نکل آئی۔ یکے بعد دیگرے کراچی اور پھر کوئٹہ

Read more

وبا اور اسلام کا طرز عمل۔ ۔ ۔

حضرت عمر ؓ کو خبر ملی کہ طاعون کی وبا نے پورے شام کو گھیر لیا ہے اور لوگ دھڑا دھڑ جانوں سے جا رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ بے چین ہوئے اور ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ اچانک رکے کچھ سوچا اور قاصد کو بلایا اسے ایک خط دیا اور کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے اس خط کو شام لے جاؤ اور امیر لشکر کے سپرد کرنا۔ قاصد نے سرپٹ گھوڑا دوڑایا اور بغیر آرام کیے دنوں کا سفر

Read more