نظام عدل اور دہرا معیار
۔ یہ اگست 1954 کا مہینہ تھا جب پاکستان کی ایک معتبر بندہ برقع پہن کر سندھ ہائیکورٹ پہنچا اور اس نے مرکزی حکومت کے خلاف کیس کر دیا۔ یہ بندہ مولوی تمیز الدین تھا جو قائد اعظم کے بعد پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سات برس گزر جانے کے بعد بھی اسمبلی دستور بنانے سے قاصر رہی تھی۔ آخر کار 24 اکتوبر 1954 کو درد دل رکھنے والے عظیم
Read more
