پب جی، ای سپورٹس اور ڈیجیٹل پاکستان کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو اقوام وقت کے تقاضوں پر عمل کریں اور ان کے مطابق اپنا رہن سہن قائم کریں یقیناً وہ ترقی کی راہ میں گامزن ہوں گی ۔ جدیدیت کی طرف مائل ممالک ایک دوسرے کو ٹیکنالوجی میں مات دینے کی فکر میں ہیں لیکن ان سب میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ یہ سوال ہر بار ذہن میں آتا ہے جب پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جدیدیت کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ کبھی یوٹیوب بند کردی جاتی ہے کبھی نیٹ فلکس کے حوالے سے پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں۔ ہم کب پتھر کے دور سے نکلیں گے؟

تمام ممالک کھیلوں کے حوالے سے اپنی اپنی تگ و دو کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی کرکٹ کے حوالے سے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مگر فزیکل گیمز کے ساتھ دنیا ای سپورٹس پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت ای سپورٹس کا بڑا سرمایہ کار ہے جو دنیا کے ساتھ آئی ٹی اور ای گیمز میں شراکت کر رہا ہے اور ای پلیئرز کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔ لیکن ہم ایسا کوئی قدم اٹھا نہیں رہے کیونکہ جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے پاکستانی خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دیتے ہیں۔

2017 میں شاید پب جی (PUBG) گیم لانچ ہوئی۔ دنیا نے اسے وائرل گیم کا درجہ دے دیا۔ اس کے مقابلے جاپان اور دوسرے ممالک میں ہونے لگے۔ یوٹیوبرز نے آن لائن سٹریمنگ کے ذریعے اسے اور مقبول بنا دیا۔ بھارت کے یوٹیوبرز نے لاکھوں روپے کمائے اور مزید کمائیں گے بھی کیونکہ وہاں اسے بین کروانے والا کوئی احمق پیدا نہیں ہوا مگر پاکستان میں ایسے لاتعداد احمق لوگ ہیں جنہیں بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ پاکستانی یوٹیوبرز بھی اب کمانے لگ گئے ہیں اس گیم سے تو کیوں نا تھوڑی طوفانی کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ میں ایک صاحب نے کیس فائل کر دیا کہ بچے اس گیم سے نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔

لہذا اس گیم کو پاکستان میں بین کیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ جو اپنے تیز رفتار انصاف فراہم کرنے میں مشہور ہے، فوری PTA کو حکم دیا کہ اس کا فیصلہ تین ہفتوں میں کیا جائے۔ PTA نے نو دن کے لیے گیم کو بین کر دیا اور ساتھ ایک سسٹم دیا ای میل کے ذریعے کہ اپنی رائے دیں کہ یہ گیم مستقل بند کی جائے یا نہیں۔ یہ کام تو پہلے بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ حرکت کر کے دنیا کو پیغام دے دیا کہ مزید ای گیمز میں پاکستان میں سرمایہ کاری نا کریں اور وہ کریں بھی نہیں کیونکہ ایسے احمقانہ اقدامات معمول ہیں۔

پاکستانی یوٹیوبرز اب دن رات مطالبے کر رہے ہیں کہ انہوں نے جو لاکھوں روپے سسٹم بنوانے اور گیمنگ سٹوڈیو بنانے میں لگائے ہیں وہ ڈوب گئے ہیں جبکہ وہی یوٹیوبرز ڈالرز پاکستان میں لا رہے تھے۔ پاکستان میں ایک عرصہ یوٹیوب بند رہی جس سے ان کا پہلے بھی نقصان ہوا اور اب ستم ظریفی کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی ڈیجیٹل پاکستان کا نعرہ لگایا اور باہر سے ایکسپرٹ بھی بلائے جیسے تانیہ ایدروس، مگر ابھی جو حالات ہیں مجھے نہیں لگتا کہ کہ ڈیجیٹل پاکستان ایک خواب ہی ہے۔

ابھی تک پاکستان میں یوٹیوب سپیس نہیں بنا جو کہ دوسرے ممالک میں یوٹیوبرز کو ان کی پروڈکشن میں مدد کرتے ہیں۔ نا ہی ادھر ایمازون پرائم، پے پال یا نیٹ فلکس کے دفاتر بننے کا چانس ہے۔ کچھ ماہ پہلے پی ٹی اے نے فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب کو خط لکھا کہ پاکستان میں ان کے سرور قائم کریں تاکہ ہم اپنی مرضی کا کنٹینٹ فلٹر لگائیں۔ انہوں نے جواب میں پاکستان میں یہ ویب سائٹس بند کرنے کی دھمکی دی تو ان کے جوش کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔

ساری دنیا میں فیسبک بزنس کے مواقع فراہم کر رہی ہے مگر پاکستان میں انہوں نے یہ سہولت اس لیے نہیں دی کہ ان کا کیا پتا کب بین کردیں اور سرمایہ کاروں کی رقم ڈوب جائے۔ پاکستان کی ای گیمنگ کا مشہور نام ارسلان ایش نے جو کے ٹیکن 7 گیک کے چیمپیئن ہیں اور جاپان سے مقابلہ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا، وقار زکاء کے شو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب میں جاپان گیا تو لوگوں نے کہا، This Player from nowhere

تو اس سے اندازہ لگا لیں کہ باہر پاکستان کو اس حوالے سے کوئی جانتا نہیں ہے۔ اسی شو میں پاکستانی یوٹیوبر لیجنڈ احمد نے کہا کہ میں نے دس لاکھ روپے اپنے گیمنگ سیٹ اپ پہ لگائے ہیں جو یوٹیوب سے کمائے تھے۔ وہ اب ڈوب گئے ہیں کیونکہ اب اس گیم کو دوبارہ بحال بھی کر دیا جائے تو ماؤنٹین ڈیو اور ریڈ بل جیسی کمپنیز سرمایہ کاری نہیں کریں گی۔

اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم خود ہی ترقی کی راہ کا پتھر ہیں۔ ہمیں وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ فرسودہ خیالات اور مایوسی سے نکلنا ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو حقیقت بنانا ہے تو حکومت اس پر سرمایہ کاری کرے تاکہ پاکستان میں ای گیمز کو فروغ ملے اور ای۔ پلیئرز کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسان اسلم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *