ہمارا معاشرہ: پہلی تصویر کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصویریں لفظوں سے زیادہ بیان کی طاقت رکھتی ہیں۔ ریسرچ کے مطابق انسانی دماغ الفاظ سے 60، 000 گنا تیز پروسیسنگ تصاویر پر کر سکتا ہے، اسی لیے ایک تصویر الفاظ سے زیادہ اثر انگیز ہوتی ہے۔ ایک تصویر میں آپ الفاظ سے کہیں زیادہ گفتگو کر سکتے ہیں، زیادہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ در حقیقت، ایک تصویر میں کیا ہے اس کی وضاحت کرنے میں ہزار الفاظ لگ سکتے ہیں۔ الفاظ کی نسبت تصاویر میں چہرے کے تاثرات جیسے پیچیدہ تصورات کو بیان کرنے کی صلاحیت کہیں زیادہ اور موثر ہے۔ آئیں اپنے آس پاس کی چند تصاویر دیکھیں اور جانیں کہ یہ تصویریں ہمارے معاشرے کے بارے میں کیا منظر کشی کر رہی ہیں۔

پہلی تصویر سڑک کا ایک منظر پیش کر رہی ہے جہاں ایک موٹر سائیکل سوار مڑ کر پیچھے ایک گاڑی والے کو شرر بار آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس کے غصے کی وجہ وہ ہارن بنا ہے جو گاڑی والے نے اس کو اس وقت دیا تھا جب اس نے گاڑی والے کو لیفٹ سائڈ سے اوور ٹیک کیا اور اس عمل میں اس کے آگے والے دروازے کو چھیلتا ہوا آگے نکل گیا۔ گاڑی والے کا دھیان اپنے ممکنہ نقصان کے تخمینے کی جانب ہے، موٹر سائیکل والے کے خیال میں غلطی گاڑی والے کی ہے اور تصویر میں نظر آنے والے لوگوں کے خیال میں غلطی گاڑی والے کی ہے۔ کافی سین بنا ہوا ہے اور سٹرک پر گاڑیوں کی ایک لمبی قطار لگ چکی ہے۔ صورتحال گمبھیر ہوتی چلی جا رہی ہے دونوں میں سے کوئی بھی شخص ٹس سے مس ہونے کے موڈ میں نہیں ہے۔

دوسری تصویر میں شعلہ فشاں وکلاء پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف سرتا پا احتجاج ہیں اور مال روڈ پر اپنے اس احتجاج کو ریکارڈ کرواتے ہوئے ان دو مظلوم پولیس والوں کے کپڑے پھاڑتے انھیں سڑک پر گھسیٹ رہے ہیں جو اس احتجاج کی حفاظت کے لیے اور ان کے جلوس کی منظم روانگی اور خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے حکام بالا کی ہدایات کی روشنی میں اپنے فر ض کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے اور ان کے سر منڈاتے ہی اولے پڑ گئے۔ وکلا ء اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کرنے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بھرپور موڈ میں ہیں۔

تیسری تصویر شہر کے اختتام پر قائم ایک چنگی کی ہے۔ یہاں چند گن مین یہاں چند لوگوں کو بڑی مناسب قسم کی ’کٹ‘ لگا رہے ہیں۔ مار کھانے والے چنگی پر موجود اہلکار ہیں جن کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے گزرتے ہوئے ایم۔ پی۔ اے سے محصول مانگنے کی غلطی کی تھی جس کا جواب یہ گن مین اتر کر دے رہے ہیں۔ قریب گزرتی گاڑیوں میں موجود لوگ نیچے اتر کر معاملہ رفع دفع کروانے کی بجائے ویڈیو بنانے میں مشغول ہیں۔ گو کہ چنگی پر موجود عملہ تعداد میں زیادہ ہے مگر ان کا حوصلہ کم ہے۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ جلد از جلد ان لوگوں کا غصہ ختم ہو اور یہ لوگ یہاں سے جائیں تاکہ وہ پھر دوبارہ سے اپنا کام شروع کریں۔ امید واثق تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے پرامن طریقے سے یہاں سے جانے کے بعد جس اہلکار نے انھیں روکا تھا اس کی کم بختی آنے والی ہے۔

چوتھی تصویر میں ایک پاکستانی سیاستدان ایک طاقتور ملک کے سفارت خانے میں موجود ہے۔ اس کے ماتھے پر موجود پسینہ رفتہ رفتہ اس کے ہاتھ میں موجود ٹشو میں جذب ہوتا اس بات کا گواہ بنتا جا رہا ہے کہ صاحب خاصی ٹینشن میں ہیں۔ پریشانی میں مزید اضافہ طویل انتظار نے کیا تھا۔ اس کے سامنے موجود سفیر نے ملاقات سے پہلے اسے کم وبیش ایک گھنٹہ انتظار کروایا تھا۔ مقا می سیاستدان دست بستہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کو شش میں مشغول ہے۔ اس کے اس بچہ جمورا انداز کا اس کے مخالف بیٹھے شخص پر کوئی خاص اثر نہیں ہے جو جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے۔

اگلی تصویر میں ایک وزیر صاحب موجود ہیں۔ ان کے ارد گرد جن لوگوں کا ایک گروپ بیٹھا ہے ان کا تعلق ٹیکسٹائل سیکٹر سے ہے۔ وزیر موصوف کچھ خا ص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ آج وہی بات کریں گے جو وہ ہر بار کرتے ہیں۔ اور واقعی میں یہ لوگ آج بھی بجلی اور گیس کی بندش اور اس سے ان کے کاروبار پر ہونے والے نقصان کے بارے میں گفتگو کرنے آئے ہیں۔ یہ گروپ بڑی پریشانی میں بیٹھا ہوا ہے۔ ان کے تفکر کی بنیادی وجہ وہ شدید مالی نقصان ہے جو ان کی معیشت کے علاوہ ان کی کاروباری ساکھ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ یہ لوگ وزیر موصوف سے ملاقات کا وقت بڑی مشکل سے حاصل کر پائے ہیں۔ ان کے دھڑکتے دل میں یہ خدشات گامزن ہیں کہ آج بھی کہیں بات گول مول انداز سے ختم نہ ہو جائے۔

تصویر معنی کے لیے سوچ اور نقطۂ نظر کی محتاج ہوتی ہے۔ تصویر بذات خود بس ایک بے جان تصویر ہوتی ہے مگر اس میں زندگی اور رنگ ہمارا نقطہ ء نظر اور سوچ بھرتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسا کہ ایک خالی گلاس میں جس رنگ کا شربت ڈالیں گے وہی رنگ نظر آئے گا، یا جیسے جس رنگ کی عینک لگا کر منظر کو دیکھیں گے اسی رنگ کا منظر نظر آئے گا۔ انہی تصویروں کو دیکھنے کا ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی ہے۔ آج ہم نے ان تصویروں کو پہلے نقطۂ نظر سے دیکھا دوسری تصویر کہانی میں ہم انہی تصویروں کو دوسرے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ہمارا معاشرہ: پہلی تصویر کہانی

  • 16/07/2020 at 1:48 pm
    Permalink

    تصاویر بھی تو مضمون کے ساتھ ہونی چاہیئے تھیں۔۔۔ خیر، اگلی قسط میں ضرور شامل کریں۔

Leave a Reply