وزارت تنہائی، ڈیپریشن اور موجودہ صورت حال


2018 میں بی بی سی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک نئی وزارت متعارف کروائی گئی جس کا بنیادی مقصد تنہا لوگوں کے لیے کسی اچھے رفیق کا بندوبست یا پھر تنہا لوگوں کی زندگی کو انٹرٹین کیسے کیا جائے۔ برطانیہ میں بوڑھے افراد زیادہ تر تنہا رہتے ہیں اور سالوں اپنے پیاروں سے نہیں مل پاتے جس کی وجہ سے ڈیپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں اسی طرح نوجوان نسل بھی اس کا شکار ہو رہی ہے اور برطانیہ کو ایسی وزارت ہی متعارف کروانی پڑی۔

کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں معاشی، معاشرتی اور جانی نقصان کیا وہاں اس وبا نے لوگوں کو ذہنی اذیت بھی پہنچائی۔ روزانہ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی خبروں، اخباروں میں زیب قرطاس ہوئی لاشوں کی تعداد، اور سوشل میڈیا کا انسان کی سوچ کا گھیراؤ ان سب نے مل کر خوف کا عالم پیدا کیا اور انسان اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی کو لے کر پریشان ہوگیا اور آخر ڈیپریشن نے اس پر حملہ کر دیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے 22 فیصد ڈیپریشن کی مرض بڑھی ہے لیکن ہر ڈیپریشن کی صورت خود کشی نہیں ہوتی۔ اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں جو بظاہر انسان کے رویے سے نظر آ رہی ہوتی ہیں کہ اس کی ذات میں چڑچڑاپن اور غصے کی کیفیات اگر پہلے سے زیادہ ہیں یا معاشرے کا عمومی رویہ سخت ہوگیا ہے تو اس بات کو سمجھیں کہ کورونا نے لوگوں کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔

فلم تھری ایڈیٹس میں ایک انجینئر جو مسلسل پروجیکٹ پر محنت کرتا رہا لیکن پروجیکٹ ناکام ہوگیا اور اس نے خودکشی کرلی۔ عامر خان جو رنچھوڑ داس چانچڑ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور آخری رسومات کے وقت پرنسپل کے ساتھ شدید غصے میں موت کا ذمہ دار پرنسپل اور ایسے سسٹم کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دماغ کا پریشر ماپنے والا کسی انجینئر نے آلہ ایجاد ہی نہیں کیا اگر کرتا تو ہو سکتا ہے کہ خودکشی یا ڈیپریشن سے پہلے کوئی حل نکالا جاسکتا۔ کسی کو خوش کیا جاسکتا لیکن بدقسمتی اکیسویں صدی میں بھی ایسا کوئی آلہ ایجاد نا ہوسکا اور کورونا نے بھی ہاتھوں ہاتھ لیا۔ عامر خان پرنسپل اور سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں لیکن ہم اس حوالے سے کہاں کھڑے ہیں یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Facebook Comments HS