کراچی کالا ناگ سے کراچی الیکٹرک

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اوائل جوانی میں کراچی روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے تو نئے نئے دوست بتاتے تھے کہ ایک زمانے میں کراچی کو کالا ناگ چلاتا تھا۔ سارے دھندے وہ کرتا تھا جو ہر بے روزگار نوجوان کرنا چاہتا ہے یعنی منشیات فروشی، بھتہ خوری، سرکاری زمینوں پر قبضے اور ظاہر ہے ان سارے دھندوں سے کمایا ہوا پیسہ یتیموں اور بیواؤں کی مدد پر خرچ کرتا تھا۔

ہم سمجھے اس طرح کا سلطانہ ڈاکو ٹائپ کردار ہر علاقے میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی نفیسات کا حصہ ہوتا ہے۔ پھر ایک بزرگ نے قسم کھا کر بتایا کہ انھوں نے ایک دفعہ کالے ناگ کو نیپیئر روڈ کے ایک کوٹھے پر دیکھا تھا۔ بزرگوں کی اتنی عزت ہے کہ ہم یہ بھی نہ پوچھ پائے کہ آپ وہاں کیا کر رہے تھے۔

کالا ناگ گیا، الطاف بھائی آ گئے۔ ایک دو تین کہہ کر پورا شہر بند کرا دیتے تھے۔ لندن سے بیٹھ کو فون گھماتے تو سویا ہوا کراچی جاگ جاتا یا کبھی لندن کی صبح ان کو کراچی کی یاد آ جاتی تو اپنے کام کاج چھوڑ کر لوگ گھروں کو بھاگ جاتے۔

اسلام آباد اور پنڈی والے بڑے بھائی بھی کبھی الطاف حسین کو غدار کہتے تھے پھر ان کے پاؤں چھو کرگلے لگا لیتے تھے۔ میئر مصطفی کمال صرف سر پر ہاتھ پھیروانے کے لیے بھاگے بھاگے لندن جاتے تھے۔ اب کہتے ہیں کہ مجھے تو بچپن سے ہی پتا تھا یہ بڑا بدمعاش آدمی ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ الطاف حسین ’ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر‘ خلا میں پھینکتے رہتے ہیں۔

بیچ میں عزیر بلوچ آیا، جو سب کے دل کا جانی تھا اب پتا چلا کہ وہ تو سب کا جاسوس بھی تھا۔ طالبان آئے، تھوڑی بربادی کی، تھوڑی دہاڑی لگائی اور چلے گئے۔ ہم کہتے رہے طالبان، کون سے طالبان؟

پولیس کی اپنی رپورٹ کہتی ہے کہ ہمارا ایک بہادر افسر تھا راؤ انوار۔ وہ اپنے ڈیوٹی ٹائم کے بعد کراچی میں نئی بستیاں بسانے والوں کو زمینوں کے قبضے دلواتا تھا اور اپنے اس پارٹ ٹائم دھندے میں دو چار سو آدمی تو مار گیا۔

اب کراچی والوں میں تو کیا سپریم کورٹ میں بھی اتنی ہمت نہیں کہ پوچھیں کہ وہ ایک بندہ پیش ہوا تھا ہماری عدالت میں، اس کا پتا کرو کہ وہ کہاں ہے۔ جواب شاید یہی ملے گا کہ سر وہ آج کل شاید دبئی میں ہوں گے۔ پتا نہیں کب آتے ہیں کب جاتے ہیں۔

کراچی اتنا بے یار و مددگار ہے کہ اس کی کوئی نہیں سنتا مگر ہماری آہ سب کو لگتی ہے۔ لیکن کراچی کے نصیب میں کراچی الیکٹرک کے نام سے جو نیا کالا ناگ مسلط کیا گیا ہے وہ بددعا پروف ہے۔

کالا ناگ بھی اپنے آپ کو بدمعاش نہیں کہتا تھا۔ الطاف حسین بھی اپنے آپ کو ڈان نہیں کہتے تھے۔ عزیر بلوچ بھی سوشل ورکر تھے۔ راؤ انوار بھی کراچی کی کنسٹرکشن انڈسٹری میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔

لیکن جس دن سے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن بکی اور کراچی الیکٹرک بنی تو اس دن سے کراچی میں ایک ایسا غنڈہ راج آیا ہے جس کا توڑ کسی سیاست دان کے پاس نہیں، کسی رینجرز کے کمانڈر کے پاس نہیں کیونکہ یہ کارپوریٹ غنڈہ راج ہے جس میں بھتہ وصول کرنے والا آپ پر احسان بھی جتاتا ہے۔

شہر کے آدھے دھندے بند ہیں۔ ملک میں بجلی زوروں سے بن رہی ہے لیکن کے الیکٹرک کہتی ہے کہ کراچی والو اصل میں تم بجلی چور ہو۔

جس کمپنی نے پچھلے سال دس ارب سے زیادہ منافع کمایا ہے، جس کا بانی اور سابقہ مالک عارف نقوی امریکہ کی جیل میں ہو، جو کمپنی ہمارے حصے کی بجلی چراتی ہے وہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتی ہے کراچی والو تم بجلی چور ہو۔

خدا عارف نقوی کی عمر اور سزا دراز کرے کیونکہ جب ان کے ابراج گروپ کا فراڈ پکڑا گیا تو پتا چلا کہ ان کے پاس تو اپنی کمپنی چلانے تک کے پیسے نہیں تھے۔ ان کے کردار کی جھلک کے الیکٹرک میں نظر آتی ہے کہ ہم اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر کے الیکٹرک کے سیٹھوں کا خرچہ چلا رہے ہیں اور پھر بھی چور کون ہیں؟ جی ہم کراچی والے۔

میں یہ پوری داستان اگر کے الیکٹرک کو لکھ کر بھیجوں تو مجھے پتا ہے کہ جواب کیسا آئے گا۔ اپنا ڈی ایم (ٹویٹر پر ڈائریکٹ میسیج) چیک کریں اور اس پیغام میں نیم دلانہ سی معذرت ہو گی۔

کے الیکٹرک سے کہیں کہ بجلی نہیں آ رہی، جواب آئے گا ڈی ایم چیک کریں۔ پوچھیں بجلی کب آئے گی، جواب ملے گا ڈی ایم چیک کریں۔

اگر انھیں کہیں کہ بل پورا دیا تھا، بجلی کہاں گئی، کہتے ہیں ڈی ایم چیک کرو۔ آپ کے عارف نقوی کی جیل میں تو بجلی آ رہی ہو گی، جواب آتا ہے ڈی ایم چیک کرو۔

اس مہینے کی بارشوں میں کچھ لوگ کے الیکٹرک کی تاروں سے کرنٹ لگ کر مارے گئے۔ محلے والوں نے کے الیکٹرک کو پیغام بھیجا کہ ہم مر رہے ہیں۔ جواب آیا ڈی ایم چیک کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •