اور آخرکار جینے سے نجات مل گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے محلے میں میاں بیوی پر مشتمل ایک چھوٹا سا کنبہ رہتا تھا۔ بہت شریف لوگ تھے۔ اس آدمی کا اصل نام اقبال تھا لیکن لوگ اس کو صوفی کے نام سے جانتے تھے۔ عورت کا نام سکینہ تھا لیکن سکینہ باجی سے جانی جاتی تھی۔ اس کے بچے نہیں تھے کیونکہ اس کے چار بچے پیدا ہوتے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ صوفی صاحب کا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس میں ایک کمرہ اور ایک غسل خانہ تھا۔ جانور نہیں پالتے تھے اس کے گھر میں صرف ایک سفید مرغ تھا۔

صوفی اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ صوفی ایک نجی سکول میں چوکیدار تھا۔ وہ کافی جوان تھا لیکن دل کے عارضے کی وجہ سے فوت ہوا۔ صوفی کی وفات کے چند دن بعد وہ مرغ محلے میں ایک امیر کے بیٹے نے خرید لیا۔ صوفی کے فوت ہونے کے بعد سکینہ کی زندگی اور بھی بدتر ہو گئی تھی۔ وہ کھانے کے ایک نوالے کے لئے ترستی تھی۔ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ پھر وہ کام کے بدلے میں کھانا پاتی تھی۔ اس لئے اگر کبھی کسی کے گھر میں کام نہیں ہوتا تو اس کو خالی پیٹ سونا پڑتا تھا۔

ایک دفعہ جب موسم سرما اپنے جوبن پر تھا، بارشیں شروع ہو گئے تھے۔ گھر کی خستہ حالی کی وجہ سے اس کا کمرہ پانی سے بھرا پڑا تھا۔ وہ ایک سائڈ میں لیٹی تھی۔ وہ گھر سے کام کے لئے نہیں نکل سکتی تھی۔ یہ سلسلہ ایک ہفتے تک چلتا رہا۔ سکینہ بھوک میں دن رات گزارتی تھی۔ گھر میں سوکھی روٹی بھی ختم ہو گئی تھی۔ آخر کار جب بارشوں کا سلسلہ ختم ہوا اور کام کے لئے نکلی تو اس میں سانس آ گئی۔

سکینہ اکثر کام کے لئے ایک امیر کے گھر جاتی تھی۔ ایک دن ایسا ہوا کہ امیر نے مفت میں مشورہ دیا۔ کہا کہ سکینہ باجی تم اپنا گھر میرے نام کردو اور تم یہاں رہو۔ بوڑھی عورت تھی اتنی سمجھدار تو نہیں تھی۔ گھر دینے پر راضی ہو گئی۔ امیر شخص کا نام آصف بھٹی تھا۔ آصف بھٹی نے وہ گھر مسمار کیا۔ اور ایک عالی شان گھر بنایا وہاں پر۔ یہ گھر اس لئے بنایا تھا کہ وہ دوستوں کے ساتھ نائٹ پارٹیز کرتا تھا۔

کچھ عرصہ اچھی طرح گزرا۔ سکینہ کو کام کے بدلے کھانا ملتا تھا۔ آخر کار ایسا ہوا کہ امیر کی بیوی آئزہ آصف سے وہ بوڑھی عورت برداشت نہیں ہوتی تھی۔ آئزہ آصف نے گھر میں کام کرنے سے منع کیا۔ تو سکینہ دوسرے لوگوں کے گھر کام کے لئے جاتی تھی۔ شام کو واپس آتی تھی۔ سکینہ کا گھر تو تھا نہیں اس لئے وہ اس امیر کے گھر جاتی تھی۔

ایک دن ایسا ہوا کہ سکینہ عصر کے وقت گھر آ رہی تھی تو آصف بھٹی نے گھر آنے سے روک لیا۔ تو بوڑھی عورت نے کہا اب میں کہاں جاؤں گی۔ آصف بھٹی نے کہا جدھر بھی جانا چاہتی جا سکتی ہو۔ اس بیچاری نے ابھی زندگی شروع کی تھی کہ پھر اس کی دوستی مشکلات سے ہو گئی۔

وہ گھر سے نکلی تو بہت پریشان تھی۔ کسی پڑوس نے جگہ نہیں دی۔ اس کو راستے میں سونا پڑا۔ رات کو بہت ٹھنڈ ہوا کرتی تھی۔ اس کے پاس اتنا سامان نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح خود کو بچا سکے۔ اب وہ اکثر بیمار رہتی تھی۔ محلے دار اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔

ایک رات اس کو بہت سخت بخار چڑھ گیا۔ صبح سرکاری ہسپتال چلی گئی۔ وہاں ایک نرس نے کچھ ادویات دیں، جس سے تھوڑا گزارا ہو گیا۔ ادویات کی وجہ سے دن اچھا گزارا۔ رات کو بخار کے ساتھ ساتھ ڈرائی کف بھی ہو گئی۔ اس بوڑھی عورت پر کورونا وائرس نے حملہ کیا تھا اس لئے کھانسی بھی شدید سخت تھی۔ اس سخت حالت میں 3 دن گزارے۔ جمعرات کی رات کو مر گئی تھی۔ لوگوں نے کفن کے ساتھ ساتھ لکڑی کے بنے ہوئے صندوق کا انتظام بھی کیا۔ سکینہ کو دفنایا گیا تو سارے لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔

سکینہ کے بارے میں سارے لوگوں کو افسوس تھا۔ ایک عورت نے دو تین آنسو بھی گرائے۔ آصف بھٹی کی بیوی بھی خفا تھی۔ آصف بھٹی نے ایک دیگ چاول پکائے لیکن سکینہ بھوک اور بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
معاذ خان مروت کی دیگر تحریریں

Leave a Reply