بچوں میں فطری مشاہدے کو مَت ختم کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سائنسدانوں کی سوانح عمریاں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان سائنسدانوں نے جتنی بھی انسانیت کے فائدے کے لئے حیران کن ایجادات کی ہیں وہ اپنے فطری مشاہدے کی بنیاد پر کی ہیں۔ ہر انسان دنیا میں اپنا ایک علیحدہ مشاہدہ کرنے والے طبیعت اور ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ دنیا میں پیدا ہونے اور آنکھ کھولنے کے بعد اپنے حواس خمسہ اور دماغ کو فطرت کے اصولوں کو جاننے کے لیے استعمال کرنا شروع کرتا ہے۔ ہر انسان کا مشاہدہ تجربہ اور اس کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔

چیچک کی ویکسین کا موجد ایڈورڈ جیز ( 1749 ء تا 1823 ء) کا مشاہدہ اتنا فطری تھا کہ وہ ہر پرندے کی چیخ سن سکتا تھا اور سڑک کنارے ہر پودے کو اس نے مختلف نام دے رکھا تھا۔ وہ فطری حسن سے اس قدر پیار کرتا تھا کہ اس کے نزدیک بیماریاں اور آفتیں اس کی پیاری دیوی کے خلاف سازشیں تھی اور اس طرح اس نے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ بچپن کی شاعرانہ طبیعت کو اس نے چھوڑا اور ڈاکٹر ڈینٹل لڈلو جو کہ سود بری نزد برسٹل کا سرجن تھا کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔

یہی وہ وقت تھا جب اس نے یہ مقامی عقیدہ جانا کہ اگر ایک دفعہ آدمی کو گائے کی مانند چیچک ہو جائے بالخصوص ایسا گائے کے تھنوں کے زخموں کی وجہ سے اس وقت ہو جب دودھ دوہا جا رہا ہو تو اس کو چیچک کا عارضہ دوبارہ نہیں ہو سکے گا۔ اس بات کو جانتے ہوئے بھی اس میں کوئی حقیقت نہیں اس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اس نے اکثر ڈاکٹروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا لیکن سب کی یہی رائے تھی کہ یہ بات ایک قدیم زبانی روایت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

بالآخر 20 سالہ تحقیق کے بعد اس کے نظریے نے بلا کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو ثابت کیا اور ٹیکہ لگانے کا پہلا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 14 مئی 1796 ء کو اس نے 18 سالہ بچے کو ٹیکہ لگایا جس کا نام جیمس فپس تھا جس نے طبی تاریخ کی تنسیخ میں شہرت حاصل کی اور اس کو اس نے سارہ نیلم نامی گائے دوہنے والی لڑکی کے ہاتھوں سے حاصل کیا۔ اس طرح دنیا میں ایک موذی مرض چیچک کے خاتمے کی ابتدا ہوئی جو کہ ایک شاعرانہ اور فطری مشاہدہ کرنے والے انسان کے دماغ کی ایجاد تھی۔

کسی بھی تخلیق کے لیے دلچسپی، لگن اور سوچ کا آزاد ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اکثر ماں باپ یا پرائمری سکول کے اساتذہ بچے کا رجحان معلوم کر لیتے ہیں۔ اور پھر اس بچے کو اس کے رجحان اور دلچسپی کے مطابق تعلیم و تربیت اور مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ معاشرے کے لیے ایک مفید شہری ثابت ہوتا ہے۔ جب کہ ترقی پذیر ملکوں میں معیاری تعلیم کا انتہائی فقدان ہوتا ہے۔ طالب علم کبھی بھی اپنے پسند کے مضامین نہیں پڑھ سکتا۔ کالج اور یونیورسٹی میں ایسے مضامین کے گروپس بنائے جاتے ہیں جو بالکل بھی طالبعلم کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یہاں پر طالب علم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہوتا ہے علم سے اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ جب طالب علم عدم دلچسپی سے ایسے مضامین کو پڑھتا ہے تو وہ اس میں کوئی تحقیقی، تنقیدی یا تخلیقی کام بھی نہیں کر سکتا۔

سادہ لفظوں میں آپ یوں سمجھیں کہ استاد اور والدین اپنی مرضی کے مضامین بچے کے معصوم ذہن پر تھوپ دیتے ہیں۔ بچے کے ذہنی معیار یا اس کی دلچسپی کو جانے بغیر اسے یہ مضامین مجبوراً پڑھنے پڑتے ہیں۔ ایسے مضامین پڑھنے کے لئے یا تو والدین کی خواہش ہوتی ہے یا پھر ادارے کے پاس ان مضامین کے علاوہ دوسرے کوئی مضامین پڑھانے کے لئے ہوتے ہی نہیں۔ تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیز نے جو مضامین کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لیے ڈیزائن کیے ہیں وہ جدید وقت کے لحاظ سے بہت انتہائی فرسودہ اور پرانے ہو چکے ہیں۔

آج کا جدید طالب علم جو کہ انٹرنیٹ کے وجہ سے گلوبلائزیشن کا شکار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں جدید علم جیسا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، موبائل ایپلیکیشن اینڈ سافٹ وئیر ڈیویلپمنٹ، روبوٹ انجینئرنگ، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، آرٹ کلچر فلم میکنگ وغیرہ وغیرہ جیسے مضامین جو کہ پوری دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں، پڑھوں مگر جب وہ کالج یونیورسٹی میں داخل ہوتا ہے تو اسے وہی پرانے مضامین جو کہ 70 سال سے جن کا مواد بھی تقریباً تبدیل نہیں ہوا پڑھائے جا رہے ہیں۔

اس بچارے کو ڈگری حاصل کرنے کے لئے انہیں میں سے کسی ایک مضمون کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جس میں نہ ہی اس کی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کوئی تحقیقی کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ ہر بچہ دنیا میں اپنی فطرت سلیم لے کر آتا ہے۔ اسے اپنی عقل اور شعور کے مطابق اس دنیا کا مشاہدہ اور تجربہ کرنے دیں اور جو کچھ وہ پڑھنا اور لکھنا چاہتا ہے اسے ایسا کرنے کی مکمل آزادی دیں۔ پھر آپ دیکھیں گے ہمارے معاشرے میں بھی حقیقی علم اور شعور والے انسان پیدا ہوں گے جو معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

دراصل ہمارے معاشرے میں ہوتا یہ ہے کہ ہم بحیثیت والدین یا اساتذہ اپنا تجربہ، سوچ اور خواہشات بچوں کے ذہنوں میں انڈیل دیتے ہیں اور ان کو ایسا دیکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہم خود ہیں۔ جس کی وجہ سے بچوں کی سوچ اور تخلیق پنپ نہیں پاتی اور وہ مجبوراً وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کو ان کے والدین، اساتذہ یا معاشرہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ یہی کچھ ہم اخلاقیات اور عقیدے کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ اخلاقیات اور عقیدہ بھی وہی اچھا ہوتا ہے جو ہمیں بذات خود اچھا لگتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بھی بغیر سوچے سمجھے اور علم و شعور کو استعمال کیے بغیر اسی کو اختیار کریں جو کہ ہم اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بنیادی طور پر فکری آزادی ہی تخلیق کا موجب بنتی ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں میں فکری آزادی پر پابندی ہوتی ہے جس کی وجہ سے تحقیق بھی دب جاتی ہے اور انسان کولہو کا بیل بن جاتا ہے۔

بچوں کو شعور سنبھالتے ہی سوال کرنے کی اجازت دیں۔ بچہ جیسے جیسے شعور کی منازل طے کرتا ہے وہ مختلف قسم کے سوالات اٹھاتا ہے۔ آپ کوشش کریں کہ بچے کو تحقیق کر کے سوالات کے جوابات دیں اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو بچے کو کسی اچھے علم رکھنے والے انسان سے جوڑیں جو اس کو صحیح جوابات دے سکے۔ آج کل کے ترقی یافتہ بچے اکثر والدین سے ایسے ایسے عجیب و غریب سوالات کر دیتے ہیں کہ والدین خود چکرا جاتے ہیں۔ اکثر والدین تو شرم و حیا اور معاشرتی حالات کی وجہ سے بچوں کو صحیح جواب دینے کی بجائے غلط اور توہمات پر مشتمل جوابات دے دیتے ہیں جو بچے کے ذہن میں ہمیشہ رہتے ہیں اور اس کی زندگی اور شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں اور بعض دفعہ اس کا عقیدہ بھی۔

بچہ اگر کوئی آپ سے سوال کرے تو بحیثیت والدین آپ بالکل مت جھجکیں اور گھبرائیں۔ بچے کو سوال کرنے سے سختی سے کبھی منع مت کریں۔ اگر آپ کو جواب نہیں آتا یا آپ بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں تو اس کی مکمل تیاری کر کے اور مناسب علم حاصل کر کے بچے کو اچھی طرح سے سمجھائیں۔ کیونکہ جو علم آپ اپنے بچے کو دیں گے وہ زیادہ بہتر اور مناسب ہوگا بجائے اس کے کہ بچہ اسی سوال کا جواب کسی اور کم علم اور کم عقل شخص سے حاصل کرے جو اس کی شخصیت کو ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد کر دے گا۔

ہم بچے کا اعتماد، تخلیقی اور تحقیقی سوچ اس وقت مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیتے ہیں جب بچہ معصومانہ انداز میں آپ سے کچھ سوال کرتا ہے اور آپ غصے سے ڈانٹ دیتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کی آپ کی یہ سوال پوچھنے کی ہمت کیسے ہوئی یا آپ کی ابھی عمر نہیں ہے ایسے سوالات پوچھنے کی۔

آپ کا انکار بچے کے اعتماد کو مکمل طور پر توڑ دیتا ہے۔ لیکن اس کے اندر تجسس پھر بھی قائم رہتا ہے اور وہ اس سوال کا جواب اب کہیں نہ کہیں سے حاصل کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔
لہذا اگر آپ معاشرے میں تبدیلی چاہتے ہیں تو بچوں کے اندر آزادانہ اور فکری سوچ پیدا کریں۔ یہی آزادانہ اور فکری سوچ ایک اچھے معاشرے کو بنانے میں مددگار ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply