دھانی اور چوڑیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"farrah-ahmad\"چھن چھن کی آواز سنتے ہی ماں چلائی ارے دھانی تو نے پھر چوڑیوں کو ہاتھ لگایا۔
مگر ماں تو جانتی ہے مجھے چوڑیاں کتنی پسند ہیں۔ ان کے رنگ ان کے ڈیزائن ان کی چھنک، دیکھ نہ ماں کتنی خوبصورت ہیں۔
دھانی میں کہتی ہوں رکھ یہ چوڑیاں تیرے بابا نے دیکھ لیا تو بہت غصہ ہوں گے۔ تو جانتی ہے ہمارے گوٹھ کا رواج، کنواری لڑکیاں چوڑیاں نہیں چڑھاتیں یہ سہاگنوں کی شان ہے۔ تیری بھی جب شادی ہو گی تو کر لینا شوق پورا۔
ماں میری شادی کر دو نا۔ ارے دھانی بے حیا لڑکی آہستہ بول، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں کسی نے سن لیا تو طرح طرح کی باتیں بنائے گا کہ چھوہری ہاتھ سے نکل رہی ہے۔
پر اماں سچ بتا تیرا دل کیسے کرتا ہے اتنی خوبصورت چوڑیوں کو تو بازار بیچ آتی ہے۔ اماں اپنا سارا چھابا مجھے دے دے۔ اماں سنا ہے شہر حیدر آباد میں بہت رنگ برنگی اور ہر ڈیزائن کی چوڑیاں ملتی ہیں مجھے گوٹھ سے نکال کے شہر لے جا، میں چوڑیوں کی فیکٹری میں کام کروں گی۔ ہر طرف چوڑیاں ہی چوڑیاں۔ اے چھوہری تو چریا ہوئی ہے کیا۔ رکھ اب یہ چوڑیاں اور سو جا۔ دھانی چوڑیوں کی رنگوں بھری دنیا میں کھو گئی۔
صبح اٹھی تو ادا اماں سے جھگڑ رہا تھا۔ اماں پوچھ اپنی لاڈلی سے پانی بھرنے گئی تو وہاں کیا تماشہ کر رہی تھی اپنی ساتھ کی چھوہری کے ساتھ چوڑیوں سے کھیل رہی تھی۔ یہ ناک کٹوائے گی سمجھا اسے گوٹھ کا رواج، کنواری چھوہری کے لئے چوڑیاں نہ بنی ہیں۔ ماں نے فکر مند انداز سے دھانی کو دیکھا مگر دھانی کی چاہت چوڑیوں کے لئے کم نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔
ایک دن اماں کو بہت روتے ریکھا۔ پانی کا گھڑا صحن میں دھر کے دھانی اماں کی طرف بھاگی اماں کیا ہوا؟ غصب ہو گیا دھانی تیرا بھائی وڈیرے کی بہن بھگا کے لے گیا ہے۔ اب پنچائت تجھے بدلے میں ونی کر رہی ہے۔ ہائے میری معصوم سی بچی تجھے سزا کاٹنی پڑے گی۔ بڈھے کے پلے باندھ رہے ہیں میری پھول سی بچی کو \”میری دھانی\”شادی؟ میری شادی؟ اماں میں چوڑیاں پہن سکوں گی۔ چوڑیاں۔
گھر میں عورتیں جمع ہوئیں سناٹا ہی سناٹا۔ خوش تھی تو بس دھانی آج وہ سہاگ کی چوڑیاں پہن رہی تھی اب وہ چوڑیوں کے خواب نہیں دیکھے گی ہر دم ان کی چھنک کو محسوس کرے گی۔ پھر ایک دم وہ خوشی میں سرشار تھی بابا گھبرائے ہوئے گھر داخل ہوئے دھانی کی ماں غضب ہوگیا تیرا چھوہرا پکڑا گیا۔ حویلی میں گولی چل گئی ہے وڈیرے کو گولی لگ گئی ہے وہ مر گیا۔ تیرے چھوہرے کو پولیس لے گئی ہے۔ غضب ہو گیا غضب اور عورتیں دھانی کی طرف بڑھی سہاگ ہی نہ رہا تو چوڑیاں کیسی؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •