اوئے پاکستانیو سے چل اوئے تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wisi-baba\"

بظاہر تو کپتان شیخ صاحب کو لے کر دوڑتے ہوئے لندن تک گئے ہیں۔ اپنے مگرے آتے رپوٹروں کو انہوں نے بھاگ کر جاتے جاتے یہ بتایا ہے کہ مزید ثبوت لینے جا رہا ہوں۔ انصاف کا تندور دہکا تو کامیابی سے لیا ہے۔ اب اس کو گرم رکھنے کے لئے بالن یعنی لکڑیاں درکار ہے۔

کپتان نے دوڑ لندن کی جانب لگائی ہے۔ حامد خان خان نے بھی عدالت سے نکل کر ادھر ادھر دیکھا ہے اور دوڑ لگا دی ہے۔ حامد خان صاحب پانامہ لیکس پر کپتان کے وکیل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وکیلوں کے لیڈر بھی ہیں۔ ان کے ساتھ جو کچھ میڈیا نے عدالت نے کر دیا ہے۔ انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ نہ کھڑے کرتے تو ان کی اپنی وکیل برادری میں ان کی لیڈری کو گولہ لگ چلا تھا۔

میڈیا نے میراثی پن کرتے ہوئے ساری کوریج نوازشریف کیس پر فوکس کر رکھی ہے۔ قوم بھی اسی دور کی بتی کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ کپتان کی اپنی آف شور کمپنی کا کیس بھی اسی عدالت میں چل رہا ہے۔ سینیر وکلا کی رائے ہے کہ نوازشریف بچتے اور کپتان صاحب پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ ایک کو بچانے دوسرے کو پھنسانے کا تاثر دینے سے شاید گریز ہی کرے۔ ادھر نواز شریف کے کیمپ کو مصیبت پڑی ہوئی ہے کہ کپتان کو کیسے بچایا جائے، کہیں سزا پا کر وہ ہیرو نہ بن جائے۔

عدالتی کمیشن کی بجائے اب یہ معاملہ شاید الیکشن کمیشن کے پاس جائے۔ الیکشن کمیشن میں کپتان کے خلاف پہلے ہی پارٹی فنڈ اور حسابات کا کیس التوا میں پڑا ہوا ہے۔ جب سپریم کورٹ سے احکامات آئے تو ان کیسز پر فیصلہ کرنا پڑے گا۔ کپتان نے ایسا کبھی سوچا ہو گا یہ تو ممکن نہیں ہے۔ سمجھ اسے البتہ آ گئی ہے کہ ایک بڑا پلا ہوا بیل ہے جو اسے ٹکر مارنے کو اب دوڑتا ہوا آ رہا، شاید۔

ہمارے بے وثوق ذریعے کا ماننا ہے کہ کپتان لندن مختلف وجہ سے گیا ہے۔ اپنے آف شور والے کیس کے لئے اب وہ بھی کسی خط کا بندوبست کرنے کی کوشش میں ہے۔ شیخ صاحب ساتھ اس لئے گئے ہیں کہ کپتان سے پوچھتے رہیں۔ یار تمھاری کوئی عرب شہزادی یا حسینہ واقف نہیں بنی ساٹھ سال کے ہو گئے ہو۔ شیخ صاحب بھی مذاق کرتے ہیں، عرب کرکٹ کھیلتے تب واقفیت بھی بناتے۔

کپتان کی اوئے پاکستانیوں سے شروع ہوئی سیاست کا عدالت میں چل اوئے ہونے لگا ہے۔ فکر نہ کریں کپتان کے ووٹ بنک کو کچھ نہیں ہونے والا۔ اس کے ماننے والے سمندری شیر ہیں، جب ان کا لیڈر کوئی بات کہہ دے تو وہی کافی ہوتی ہے، پھر چکنے چمکیلے سمندری شیر عقل کو نہ ہاتھ لگاتے ہیں نہ عقل کے ہاتھے آتے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ سیاست سیاستدان کا فیصلہ الیکشن میں ہی ہوتا۔ ووٹ ہی اس کو مارتا اور زندگی دیتا ہے۔ مقدمے بازیاں اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 354 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “اوئے پاکستانیو سے چل اوئے تک

  • 19/11/2016 at 1:50 pm
    Permalink

    Nawaz shreef ki tarah imran khan ko bhi apni off shore companey ko bachany kailaiy aik KHAT ki zaroort hogi.
    Imran ny bayan diya tha ke mein ny tax bachany kalaiy 1980 mein off shore companey banai.
    Imran khan sheikh rasheed ke zariay karishma kapoor sy mily.karina muje phone karaigi awr pochgi ke KHAT???

Comments are closed.

––>