کوچنگ اکیڈمی: تعلیمی ترقی کا شارٹ کٹ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں پہلے کی بات ہے مجھے اپنی ایک دوست سے ملنے جانا تھا۔ جلدی پہنچنے کے لیے میں نے بہتر یہی سمجھا کہ شارٹ کٹ اختیار کیا جائے۔ ابھی میں نے کچھ فاصلہ طے ہی کیا تھا کہ ایک رہائشی عمارت کے سامنے مجھے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا جم غفیر نظر آیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے شہر بھر کی ٹریفک نے ادھر ڈیرے ڈال دیے ہوں۔ میرے لیے یہ منظر خاصا حیران کن تھا کیونکہ اس راستے سے میں پہلے بھی کئی بار گزر چکی تھی مگر اس قدر رش میں نے پہلی بار دیکھا تھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس رہائشی علاقے میں ایک کوچنگ سینٹر نے اپنی نئی برانچ کھولی ہے اور اب یہاں پر ایسا ہی رش ہوا کرئے گا۔ خیر میں تو راستہ بدل کر دوست کے گھر پہنچ گئی مگر علاقہ مکینوں کے لیے ایک نیا عذاب ضرور کھڑا ہو گیا تھا۔ رہائشی علاقوں میں کوچنگ سینٹروں کا قیام نئی بات نہیں۔ تاہم ان سے پیدا ہونے والے مشکلات کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے علاقوں میں یہ قائم کیے جاتے ہیں۔

لاہور شہر کے لیے کالجوں کے شہر کی اصطلاح اب پرانی ہو چکی، اب یہ کوچنگ سینٹرز کا شہر ہے۔ یہاں پر آپ کو اتنے درخت نہیں نظر آئیں گی جتی اکیڈمیاں ہیں جو خوب پھل پھول رہی ہیں۔ صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق صرف لاہور شہر میں لگ بھگ 10 ہزار اکیڈمیاں ہیں جو نرسری، پرائمری، ایلیمنٹری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری، او لیول اور اے لیول سطح کے طلبا و طالبات کے لیے قائم کی گئی ہیں۔ کچھ اکیڈمیاں ایسی بھی ہیں جو ان تمام درجوں کی تعلیم ایک چھت تلے فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں یعنی ان کی حیثیت ’سپر سٹور‘ کی ہے، جو چاہیں مل جائے گا۔

ہر درجے کی تعلیم کی فیس مختلف ہے لیکن سب سے زیادہ رقم او لیول اور اے لیول کے بچوں سے اینٹھی جاتی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان اکیڈمیوں میں پڑھانے والے 90 فیصد اساتذہ وہاں آنے والے بچوں کے سکولوں کے استاد ہوتے ہیں۔ ایسی اکیڈمیاں میں بھی جو ایک ہفتے میں میٹرک، ایف اے یا بی اے کرانے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن ایک اکیڈمی نے تو حد کردی اور ایک رات میں بی اے کرانے کا اشتہار لگا دیا۔

میں نے سرسری نظر ڈالنے کے بعد یہ تصویر غور سے دیکھی، ’کہیں بیاہ تو نہیں لکھنا تھا۔‘ میں نے سوچا، مگر بار بار دیکھنے کے باوجود لکھا ہوا تقدیر کی طرح اٹل رہا تو مجھے یقین آیا کہ ایک رات میں بی اے کرانے کی بات ہو رہی ہے۔ شاید بتانا مقصود ہو کہ حصول علم کی حرارت ہو تو شب بھر میں بھی بی اے ہو سکتا ہے۔

فی زمانہ اکیڈمی کھولنا منافع بخش بزنس ہے۔ نہ کوئی ٹیکس نہ لمبی چوڑی انوسٹمینٹ، مالکان اور اساتذہ مل کر پرسنٹیج طے کرتے ہیں اور کاروبار شروع۔ اکیڈمیوں کا کاروبار بڑھانے میں نہ صرف اساتذہ بلکہ والدین کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بچہ جیسے ہی ہائرسکینڈری کلاسز میں پہنچتا ہے، والدین چاہتے ہیں کہ اسے سکول کی بجائے اکیڈمی کے سپرد کر دیا جائے۔ اس رحجان کے پیچھے پنجاب کے سابق ’خادم اعلیٰ‘ کا ہاتھ ہے جنہوں نے مختلف قسم کے ’انٹری ٹیسٹ‘ متعارف کرائے ہیں۔

انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے اکیڈمی بہتریں آپشن سمجھی جاتی ہے۔ اکیڈمیاں بچوں کو دن رات گیس پیپر رٹواتی ہیں اور پھر انہی گیس پپرز میں سے سوالات آ جاتے ہیں۔ بڑی اکیڈمیوں کے مالکان اور بورڈ اور یونیورسٹی حکام کے درمیان گٹھ جوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض اکیڈمیوں کی انتظامیہ خبر ’لیک‘ کر دیتی ہے کہ ان کے پاس پرچہ موجود ہے۔ اس طرح انہیں کروڑوں روپے کی اضافی آمدن بھی ہو جاتی ہے۔

پچھلے سال میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ لیک ہونے کا سکینڈل سامنے آیا تھا جس کے بعد پولیس نے چھ ڈاکٹروں سمیت نو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ طلبا اور ان کے والدین کے شور شرابے پر عدالت عالیہ حرکت میں آئی اور ٹیسٹ کینسل کر دیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پنجاب کی دو پرائیویٹ اکیڈمیوں نے پرچہ دینے کی مد میں فی امیدوار 12 لاکھ روپے تک وصول کیے۔

کچھ اکیڈمیاں اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اپنے ہاں زیرتعلیم بچوں کے نمبر بھی لگواتی ہیں اور پھر جب انہی تعلیمی دکانوں کے بچے پوزیشن لیتے ہیں تو ان کی مانگ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ اپنی فیسیں بھی بڑھا دیتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اپنے بچے کے شاندار مستقبل کی خاطر منہ مانگی فیس دینے پر تیار ہوتے ہیں۔

جس حساب سے یہ کاروبار پھیل رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ مستقبل قریب میں ہائر سیکنڈری لیول پر صرف اکیڈمیز ہی کام کیا کریں گی، سکولز اور کالج صرف برائے نام ہی رہ جائیں گے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے دنیا میں منڈیوں کا راج ہے۔ ہم نے منڈی کو بہت سی ایسی جگہوں پر داخلے کی اجازت دے دی ہے جہاں پہلے ان کے لیے دروازے بند تھے، تعلیم ایسا ہی ایک شعبہ ہے۔ تعلیم کا ایک مقصد اپنی سماجی و معاشی حالت میں بہتری کے مواقع کا حصول ہے۔ تعلیم امیروں اور غریبوں کو یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس کا ایک اور مقصد ہر شخص کو معاشرے کا موثر اور کار آمد فرد بنانا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاشی تفاوت نے شارٹ کٹ کو جنم دیا ہے۔ ہم کامیابی اور ترقی کرنا تو چاہتے ہیں مگر شارٹ کٹ کے ذریعے یعنی محنت کے بغیر۔ اس طریقہ کار میں قابلیت کی بجائے پیسے کی اہمیت ہے اور پیسے نے تعلیم کو بھی بکاؤ مال بنا دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply